گومل یونیورسٹی کا پروفیسر کس کی ایماء پر فحش حرکت کرتا رہا ؟

بلاگ : محمد فیاض

ڈیرہ اسماعیل خان سے گومل یونیورسٹی کے مستعفی پروفیسر صلاح الدین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ میں پرسوں رات سے مسلسل اس بات پر سوچ رہا ہوں کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جو صلاح الدین جیسے کردار کو جنم دیتی ہیں؟ اگر اسکی جڑیں پدرسری معاشرے میں ہوتیں تو امریکہ جیسے ملک میں سب سے بےحیا شعبے یعنی شوبز کی خواتین "می ٹو” کی تحریک نہ چلاتیں اگر اسکی جڑیں مولوی کی تربیت میں ہوتیں تو پادریوں کی پیڈوفائلنگ کے قصے مغرب میں آج بھی بدنامی کا باعث نہ ہوتے۔

بہت سوچنے کے بعد صرف ایک ہی وجہ سامنے آتی ہے۔ اور وہ ہے لاقانونیت، اور جزا و سزا کی عدم موجودگی کا یقین ۔ اس پیمانے پر کسی کو بھی رکھ کر دیکھیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ جب کسی شخص کو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ کوئی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، وہ بے خوف اور بے پرواہ ہوجاتا ہے۔ اور اسکا کردار کھل کر سامنے آتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہر طاقتور، بااثر، اور تعلقات رکھنے والا شخص قانون سے ماورا ہے، کوئی اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پولیس، عدالت، معاشرہ، ہرجگہ وہ اپنے تعلقات، پیسے اور عہدے کے زور پر کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ایسے میں انسان کا بے خوف ہو جانا قابل فہم ہے۔ گومل یونیورسٹی کا پروفیسر صلاح الدین اگر لڑکیوں کو ہراساں کرتا ہے اور چند روز میں رہا ہو کر پھر سے اپنی جاب پر واپس آ جاتا ہے تو مزید ایک مثال باقی سب کو مل جائیگی کہ وہ اپنے گھناؤنے کردار کے ساتھ اس قوم کی بیٹیوں کو مزید نوچتے رہیں۔ ۔ ۔ کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

قاری شمس کو جب مولوی کفایت سرعام حمایت سے بچانے کی کوشش کرتا ہے تو پروفیسر صلاح الدین جیسے کرداروں کو شہہ ملتی ہے کہ وہ کھلے عام لڑکیوں کا دھندہ جاری رکھیں اور فیاض چوہانوں، اور شیخ رشیدوں کی حکومت میں موجودگی پر عمران خان کی ریاست مدینہ سلامت رہتی ہے تو بھی حریم شاہوں کو اپنے حرم شاہی میں شامل کرنے والوں کہ شہہ ملتی ہے کہ پاکستان میں ایسی غلاظت بھری شخصیت رکھنا کوئی بری یا عجیب بات نہیں ہے۔

تو آپ سمجھ جاتے ہیں کہ اس حمام میں چونکہ سب ننگے ہیں، اس لیے آپ بھی کھل کھیلیں اگر آپ کے پاس بھی طاقت و اختیار ہے تو ۔ اس ملک میں کوئی کسی طاقتور کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ پروفیسر صلاح الدین نے پینتیس سال نوکری کی ہے ، اور مبینہ طور پر وہ خاص خاص لڑکیاں یونیورسٹی کے دیگر عہدیداروں کو بھی بھیجا کرتا تھا۔ اگر اگلے چند روز میں اسکی ضمانت ہو جاتی ہے، اور "دیگر عہدیدار” سلامت رہتے ہیں تو آپ سمجھ جائیں کہ لڑکیاں صرف ان "دیگر عہدیداروں” سے آگے بھی سپلائی ہوتی تھیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *