اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگشہیدِ ملت، نواب زادہ لیاقت علی خان

شہیدِ ملت، نواب زادہ لیاقت علی خان

آج 16 اکتوبر کا دن ہے۔ 71 برس قبل ٹھیک اسی دن اس ملک کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو روالپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ قیامِ پاکستان سے قبل اور بعد میں اُنھوں نے ملک کے لیے جو خدمات سر انجام دیں، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895 کو ہندوستان کی ریاست ہریانہ کے ایک شہر کرنال کے ایک نواب خاندان میں میں پیدا ہوئے۔ اس وقت نواب ہونے کا مطلب صرف دولت مند ہونا کافی نہ تھا۔ بلکہ نواب اس کو کہتے تھے جو عوام کا نمائندہ ہو ان کے دکھ درد میں شریک ہو اور ہر طرح سے ان کا پاسبان ہو۔ آپ کے والد نواب رستم علی خان ہندوستان کی ایک بڑی شخصیت تھے۔ لیاقت علی خان نے قرآن وحدیث کی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ان کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر ہی ان کی تعلیم کا انتظام کروایا ۔ 1918 میں آپ نے محمدن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا مزید تعلیم کے لیے برطانیہ روانہ ہو گئے۔ 1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923 میں ہی آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔
شہیدِ ملت لیاقت علی خان کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے وزیر خارجہ اور پہلے وزیر دفاع ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اتنے بڑے عہدے رکھنے کے باوجود اپنی تنخواہ صرف اتنی مقرر کروائی جس سے زندگی سادہ طریقے سے بسر ہو سکے۔
ایک نواب خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود اکثر پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے۔ 1950 میں ایک بیوروکریٹ نے ان کی بیگم راعنا لیاقت علی خان سے پوچھا۔ انسان اپنی اولاد کے لیے کچھ نہ کچھ جمع کرتا ہے۔ لیاقت علی خان نے ایسا کیوں نہ کیا؟ بیگم لیاقت نے جواب دیا، ایک بار میں نے بھی یہ سوال کیا تھا تو انھوں نے جواب دیا، اگرچہ میں ایک نواب خاندان سے ہوں، میں نے زندگی میں کبھی ایک لباس دوبارہ نہیں پہنا۔ مجھے برطانیہ بھیجا تو خوب آسائشیں دیں گئیں۔ ایک خادم، خانساماں اور ڈرائیور بھی دے رکھا تھا۔ مگر جب میں نے وزیراعظم کا منصب سونپا گیا تو مجھے نوابی یا وزارت عظمیٰ میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا اور میں نے وزارت عظمیٰ کا انتخاب کیا اور نوابی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ دیا۔
ایک موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
” میں ان لوگوں کو جو پاکستان کو صرف ایک ذریعہ ترقی سمجھتے ہیں آگاہ کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی کو پاکستان اور محض پاکستان کے لیے وقف کر دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پاکستان میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں”
ایک اور جگہ خطاب میں فرمایا
” سرکاری ملازمین کو جان لینا چاہیے کہ وہ قوم کے خادم ہیں، حکومت اور قوم ان کو صرف اس حیثیت میں قبول کر سکتی ہے ان کو یہ بھول جانا چاہیے کہ وہ قوم کے حاکم اور افسر ہیں ان کو صرف قوم کی خدمت کا خیال رکھنا چاہیے”
لیاقت علی خان اکثر کہا کرتے کہ جب بھی میں اپنے لیے کپڑے خریدنے لگتا ہوں تو اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ پاکستان کے سارے عوام کے پاس کپڑے ہیں۔ جب مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ پاکستان کے تمام لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں۔ جب اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ جمع کرنے کا سوچتا ہوں تو سوال کرتا ہوں کہ پاکستان میں سب لوگوں کے بیوی بچوں کے لیے کچھ ہے۔ جب سب سوالوں کے جواب نفی میں آتے ہیں تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ ایک غریب ملک کے وزیراعظم کو نئے کپڑے، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔
لیاقت علی خان قائداعظم کے دیرینہ دوست تھے انھوں نے مسلم لیگ اور قائد اعظم کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ قائد کے منشور ” ایمان،اتحاد اور تنظیم” کو بھرپور انداز میں فروغ دیا۔
بحیثیت وزیر دفاع انھوں نے اپنی تقریر میں دشمن کو اپنا آہنی مکا دکھاتے ہوئے عوام سے کہا۔
” بھائیو! یہ پانچ انگلیاں جب علیحدہ ہوں تو ان کی قوت کم ہو جاتی ہے لیکن جب یہ مل کر مُکا بن جاہیں تو یہ مُکا دشمن کا منہ توڑ سکتا ہے”
وقتِ آخر بھی آپ کو وطن عزیز ہی کی فکر دامن گیر تھی، جب ہی تو آپ کی زبان سے یہ تاریخی جملہ ادا ہوا۔
” خدا پاکستان کی حفاظت کرے ”
16 اکتوبر 1951، لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران سینے میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔
17 اکتوبر 1951 کو ان کی میت کو پولو گراؤنڈ لایا گیا جہاں ممتاز عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی نے ان کی نمازِجنازہ پڑھائی اور ان کے جسد خاکی کو قائد اعظم محمد علی جناح کے پہلو میں اتارا گیا

متعلقہ خبریں