اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگکراچی کے ساتھ بھونڈے مذاق

کراچی کے ساتھ بھونڈے مذاق

تحریر : فاروق حسین ملک

ملک یا شہر کی خوبصورتی وہاں کی ہموارو کشادہ سڑکیں، سرسبزہ، درختوں کے جھرمٹ، صفائی اور سڑکوں پر رواں دواں ٹریفک سے ہوتی ہے۔ معیاری سڑکیں معاشی ترقی اور نمو میں اہم کردار، سماجی فوائد اور صحت مند معاشرے کیلئے انتہائی ناگزیر ہیں۔ روزگار، صحت اور تعلیم کی خدمات تک رسائی فراہم کرنا غربت کے خلاف جنگ میں سڑک کے نیٹ ورک کو غیراہم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سڑکیں مزید علاقوں کو کھولتی اور معاشی و سماجی ترقی کو تحریک دیتی ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پرسڑک کا بنیادی ڈھانچہ تمام عوامی اثاثوں میں سب سے اہم ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ 21 ویں صدی میں دنیا کے چھٹے بڑے شہر کراچی جس میں 38. 53 فیصد ٹیکس جمع ہوتا ہے ۔ صنعتی وتجارتی حب، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز، دو بندرگاہیں، مصروف ترین ایئرپورٹ رکھنے والا، سڑکوں، نکاسی آب کے ایک اچھےنظام سے تاحال محروم ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چوتھا آلودہ ترین ملک بن چکا ہے۔ ان بیماریوں میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل شہر میں دھول کی آلودگی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات ہیں۔ دائمی دمہ کے مریض یا وہ لوگ جو دمہ کا شکار ہیں، بزرگ اور بچوں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،یہ ماحولیاتی حالات ان کی بیماریوں کو بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین ای این ٹی بھی کئی بار حکومت کو اس جانب توجہ دلاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ”اوپری سانس کی نالی کے انفیکشن کے ساتھ رپورٹ کرنے والے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے جس میں ناک بہنا، چھینکیں اور سائنوسائٹس شامل ہیں جو بخار، سر درد، کھانسی اور گلے کی سوزش کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔مبینہ طور پریہ دکھائی دیتا ہے کہ سندھ حکومت کی پالسیاں اپنے شہریوں کو دھول،الرجی، دمہ، سینے کے انفیکشن، آنکھوں،کان اور حلق کے امراض جیسی بیماریوں ہی کا سبب بن رہی ہیں۔حکومت اس شہر کو کس ڈگر پر لے کر جانا چاہتی ہے؟ ایسے کئی سوالات ہیں جو ایک شہری کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیو ں سے اس شہر کے ساتھ بھونڈا مذاق جاری ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ 2019میں 162 ارب روپے کا اعلان کیا تھا، اس پیکج میں ٹرانسپورٹ، پینے کے پانی اور سیوریج کے نظام سمیت مختلف 18 ترقیاتی منصوبے شامل تھے اور ستمبر 2020 اپنے دور حکومت میں کراچی دورہ کے دوران 11سو ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا، عمران خان کا اس خصوصی اجلاس میں کہنا تھا کہ اس پیکج میں وفاقی اور صوبائی حکومت دونو ں تعاون کریں گی اور اعلان کردہ منصوبوں کی نگرانی کیلئے ایک پروونشل کوآرڈینیشن اینڈ امپلمیٹیشن کمیٹی(پی سی آئی سی) بنائی جائے گی لیکن یہ سب کچھ اعلان تک ہی محدود رہا۔ کچھ عرصہ قبل ہی حکومت سندھ نے تقریبا ڈھائی ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیاہے۔جس میں کراچی کی مرکزی سڑکو ں کی ازسر نو تعمیر، سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر کیا جائے گااور دوسرے مرحلے میں ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی استرکاری شامل ہے جبکہ کے ایم سی 50 کروڑ روپے اپنی طرف سے لگائے گی۔ اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز(ڈی ایم سیز) اپنے اپنے علاقوں میں اس طرح کے کاموں کو سر انجام دیں گی۔ضلع جنوبی میں کچھ سڑکوں کی استر کاری کی گئی ہے لیکن وہ بھی معیارسے کم دکھائی دیتی ہیں۔

مذید پڑھیں : شیخ رشید سے ہر صورت 7 روز میں لال حویلی خالی کرائے جائے گی : ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر

کر اچی میں سڑکوں کے ٹوٹ پھوٹ کا معاملہ کوئی نیا نہیں،بارشوں نے حکومتی دعووُں اور انتظامیہ کی نااہلیت کی مزید قلعی کھول دی تھی۔اس کے باوجود صوبائی وشہری حکومت اور ڈی ایم سیز ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ نااہلیت، بدعنوانی و رشوت ستانی نے سڑکیں بنانے کے طریقے بھی بدل کر رکھ دیئے۔بغیر نکاسی آب، ایک تہہ اور غیر معیاری میٹریل سے بننے والی سڑکوں کی زندگی بھی کم ہو کررہ گئی ہے۔بیس پچیس سال قبل بننے والی سڑک طویل عرصے تک چلتی کیونکہ سڑک پر پتھر ڈال کر اس پر دو تین تہیں لگائی جاتی تھیں، اب ٹھیکہ لینے والی کمپنی اپنا منافع نکال کر تھرڈ پارٹی کو کام سپرد کردیتی ہے، بعض اوقات کام کو ادھورا چھوڑ کر رفو چکر ہوجاتی ہیں۔ ہمارے یہاں احتساب و نگرانی کا نظام موجود نہیں۔

یہاں انتظامیہ کی بدعنوانیوں کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں۔ملیر،قائدآباد،بن قاسم،کیماڑی،شیر شاہ پراچہ چوک تا حبیب بینک سائٹ ایریا، شیر شاہ تا میراں ناکا،بلدیہ ٹاوُن، اتحاد ٹا وُن،حب ریور روڈ پرواقع بکرا پیڑی، گلشن مزدور و دیگر متعدد علاقے اپنی بدحالی پر نوحہ گر ہیں۔ کراچی کے بیشترپل بھی خستہ حالی کا منظر پیش کرتے ہیں جو کسی وقت بھی حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ان خستہ حالت سڑکوں نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کار و موٹر سائیکل چلانے والوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ شہری اپنی محدود آمدن میں گاڑیوں کے کام کروا کروا کر تھک چکے،گڑھوں سے کسی طور پر اپنی گاڑیوں کو نہیں بچا سکتے۔ گہرے گڑھوں کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول ہے۔پانچ منٹس کی ڈرائیو بھی آدھا آدھا گھنٹہ پر مشتمل ہو گی۔وقت کے ضیاء سمیت شہری چڑچڑے پن کا شکار ہورہے ہیں .

کراچی کے شہری بھاری ٹیکسز کی ادائیگی کے باوجود سہولیات سے محروم ہیں۔گاڑیوں کی مرمت پر اٹھتے اخراجات نے بھی شہریوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔کئی بار مشاہدے میں آیا ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس کو راستہ تک نہیں ملتا جس کی وجہ سے بعض اوقات مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ماضی اورموجودہ حکومت و ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے بزرگ،خواتین،معذور افراد کیلئے بیت الخلاء تک کا انتظام نہیں۔ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم یہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر کیوں ہیں، اسے غفلت نا اہلیت یا مذکورہ سہولیات سے نابلدکہا جائے؟ یہ فیصلہ ان کے ضمیر نے کرنا ہے۔ میرے خیال میں یہ کام اتنا مشکل نہیں،متعلقہ ضلعوں کے ڈی سی صاحبان کے ذمہ لگایا جائے کہ پلازوں اور پیٹرول پمپس پربیت الخلاء کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پابند کریں اوران بیت الخلاء میں معذور افراد کیلئے ایک عدد کموڈ کی سہولت بھی میسر ہو۔

ان مسائل پر جب بھی شہریوں سے بات چیت کی گئی وہ حکومت سندھ کی پالیسیوں اور چشم پوشی پر شدید تنقید و خفگی کا اظہار کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ شہر قائد سے متعلق صوبائی حکومت کے اقدامات کوئی تسلی بخش نہیں ہیں۔ صوبائی اور شہری حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں پر محض دعووں کے برعکس ہی دکھائی دیتا ہے۔ عوام سے وصول کردہ بھاری ٹیکسز پر آئے روز بیرون ملک کے دورو ں پر جانے والے ہمارے سیاستدانوں اور بیورو کریسی نے ترقی یافتہ ممالک کے شہری نظام سے بھی کچھ نہیں سیکھا،یا پھر وزیروں مشیر وں کی ظفر موج پروٹو کول سمیت فوٹو سیشن اور ایئرکنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر پر سکون زندگی گزارنے کے علاوہ کچھ نہیں۔

مذید پڑھیں : مانچسٹر یونائیٹڈ کے معروف فٹبالر میسن گرین ووڈریپ اور حملے کے الزام میں دوبارہ گرفتار

گزشتہ دنوں مختلف لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسہ رہا، اور میرا ایک ہی سوال تھا کہ ایسا کونسا شخص ہے جو شہر کراچی اور اس صوبے کی آنیوالی نسلوں کو بلا امتیاز بہترین اور روشن مستقبل دے سکتا ہے؟ ہر ایک نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، لیکن زیادہ تر معززین کا جھکاوُ ایک ہی شخص کی جانب دکھائی دیا۔ان شہریوں کا کہناتھا کہ عنقریب بلدیاتی انتخابات میں شہر قائد کے لوگوں کو اس شخص کے کردار کو یاد رکھنا ہو گا جو کراچی کے حقوق کیلئے بے لوث شب و روز متحرک، کبھی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہو ا دکھائی دیتا ہے، کبھی سڑکوں پر احتجاج،کراچی والوں کیلئے اپنے گھر کو بھی بھول چکا ہے۔جو کراچی کے شہریوں کو انکے حقوق دلوا سکتا ہے، پرامید،حوصلے سے بھرپور، فیصلہ کرنے کی جرات رکھنے والا حافظ نعیم الرحمان ہی اس صوبے کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اور نوجوانوں کو ایک اچھا مستقبل بھی فراہم کرنے کی سوچ رکھتا ہے۔ ان رہنماوُں نے صوبے بھر کے لوگوں اور خاص طور پر اہلیان کراچی کے لوگوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو مزید برباد ہونے سے بچانے کیلئے حافظ نعیم الرحمان کی ٹیم کو منتخب کرنا بہت ضروری ہے۔ بعد ازاں رونے پیٹنے اور برا بھلا کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ”ترازو“ پر مہر لگا کر بتا دیں کہ حافظ نعیم الرحمان ہی وہ رہنما ہےجو کراچی کا بیٹا ہونےکاحق ادا کرسکتا ہے

متعلقہ خبریں