اتوار, نومبر 27, 2022
اتوار, نومبر 27, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

ادب"خود کلامی"

"خود کلامی”

شروع کرتے ہیں گئے دنوں سے جب وہ اکثر سب کی باتیں کرتا تھا۔ وہ لوگوں کے احساس کے ترجمے کرتا تھا ۔وہ جذبات کو اظہار دیتا تھا ۔ لوگ اسے لفظوں کا جادوگر کہتے تھے۔پر وہ اپنی ذات میں اکیلا تھا۔ میں ہر شب اس سے کہتی مجھے حرف حرف لکھو اور میری تشریح کرو۔ تو وہ ہنس دیتا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہتا تم تو رنگ ہو کہو تو بھر دوں ؟

تم اپنی دنیا آپ ہو تم کو دنیا سے کیا لینا دینا۔ تمھارے رنگ میں تو دنیا خود کو رنگنا چاہتی ہے۔ بس کبھی بھی اپنے رنگوں کو مت کھونا۔ کبھی کسی اور کے رنگ کو خود پر نا چڑھنے دینا۔

زیادہ امپریس ہونے کی ضرورت نہیں اوپر کہا نا کہ وہ لفظوں کا جادوگر تھا ۔ وہ اپنی باتوں سے رات کو دن اور دن کو رات ثابت کرنے کی مہارت رکھتا تھا ۔ انہیں جملوں سے تو اس نے ہر دل میں بسیرا کیا تھا ۔ ورنہ وہ ایک بہت سادہ اور عام انسان تھا ۔ جو اپنی دھن میں مگن تھا۔
لیکن
ناجانے کیا بات تھی ۔ہر عام و خاص کی زبان پر اس کا نام تھا ۔ ہر کوئی اس کے پاس بیٹھنا پسند کرتا اس سے بات کرنے کو ترجیح دیتا اس کی نہ سمجھ آنے والے جملوں پر سب کان دھرتے ۔

اس نے ہر انسان جو اس میں دلچسپی لیتا تھا اس کو بھرپور موقع دیا اس کی ذات کو سمجھنے کا ۔ مگر یہ دنیا کہ خود غرض اور ہوا کی چوٹیوں پر سیر کرنے والے لوگ ایک ایسے انسان کو کہا سمجھ سکتے تھے جو اندر سے خاک ہو ، ایک درویش کی ماند جو اپنی انا ، غرور اور اپنا آپ سب محبت کے جوئے میں ہار چکا ہو ۔ وہ اپنی باتوں سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔!

ایک دن وہ میرے پاس بیٹھا مجھے کہہ رہا تھا کہ؛
میں بڑھتی عمر کیساتھ شاید بچہ ہو رہا ہوں
سنجیدگی اثاثہ سہی مگر آج بھی آسمان کو دیکھ کر لیٹ جانے کا من کرتا ہے
جی چاہتا ہے بادلوں میں اڑ جاؤں، پنکھ لگ جائیں اور دور فضاؤں میں کھو جاؤں
میں ہر بار اتنی دیر تک فلک کے پار دیکھتا ہوں جب تک ہوائی جہاز نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے
ہاں اگر کبھی تم کسی کو ہاتھ ہلاتے دیکھو اور بارش میں قدموں سے پانی اڑاتے دیکھو
سمجھ لینا میں ہی ہوں

لکس اسٹائل ایوارڈز گزشتہ 21 برسوں سے پاکستان میں ٹیلنٹ کی پہچان ہے

میں تھکاوٹ میں سکوں پاتا ہوں اور یونہی بیٹھے رہنا مجھے ڈپریشن کا شکار کر دیتا ہے
میں اپنے ناشتے کا بھرپور انتظام کرتا ہوں
پھر چاہے اس پر دو گھنٹے ہی کیوں نہ لگ جائیں
مجھے سرد موسم میں چسکیاں بھر بھر چائے پینا پسند ہے
مجھے والدہ کی ڈانٹ پسند ہے مجھے انہیں چومنا پسند ہے
میں عمر کیساتھ ساتھ قد میں بڑا اور حرکتوں میں بچہ ہو رہا ہوں
لیکن بھیڑ میں تم مجھے خاموش پاؤ گی
ساکن۔۔۔۔

مجھے خوامخواہ کی بکواس سے کوفت ہوتی ہے
یہ شرف صرف میں اپنی زوج کو دیتا ہوں
میری بیوی
میری رازداں
جسے میں اتنا ستاتا ہوں کہ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہے
میں اسکا جوکر ہوں اور وہ میری رانی ہے
ہماری کہانی میں کوئی راجا نہیں ہے
مجھے پت جھڑ بھاتا ہے
اور کھانے کا بیحد شوقین ہوں
خوشبوؤں کا بیوپار کرنا چاہتا ہوں
اور ایک عدد آملیٹ کا ریستوران کھولنا چاہتا ہوں
میں ایک ساتھ افلاطون، ارسطو اور سقراط بننا چاہتا ہوں
میں فوکو ہوں، کانٹ ہوں، ساطرے ہوں
میں گھنگھور گھٹا ہوں
بیاباں ہوں
طوفان ہوں

میں آپ ہی کشتی۔۔۔ساحل ہوں
مجھے سمجھنے والے ہمیشہ منہ کی کھاتے ہیں
مجھے جاننے کا وثوق رکھنے والے
ہمیشہ ٹوٹے دل کیساتھ زندگی بتاتے ہیں
میں شمع، پروانہ، آتش، ہوا ہوں
میں یہاں ہوں
کہاں ہوں؟؟
ہوں بھی کیا؟؟
میں۔۔۔۔۔

میں تو کائنات ہوں
اسکے رنگ ہوں
کینوس ہوں
اہنی محبوبہ کا عشق ہوں
میں اس کا سب سے بڑا غم ہوں
اداسی مجھ سے لپٹنے کو ترستی ہے
میں مسکانوں میں ملتا ہوں
میں پورا سنسار ہوں
جیوت ہوں

مسلمان خاتون کے اغوا کے الزام میں قادیانی صغیر احمد عدالت سے گرفتار

ہاں ہر لمحے اک نئ روح مجھ میں پھونکی جاتی ہے
میں جذبوں کا تاجر ہوں
محبت ہوں، نفرت ہوں، خدا کا قہر ہوں
میں لیکھک ہوں
قلم کی ٹوٹی نوک ہوں
قرطاس ہوں
میں تمہاری، میری سمجھ سے بالاتر ہوں
لیکن اس کے باوجود
میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں
ہر اس شخص کا جس نے ہمیشہ سراہا
جس نے تنقید کی
اور پھر بلاک ہو گیا
مجھے میری کم عقلی، ناقص پن پر فخر نہیں ہے
مگر مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میں نے لوگوں کو خود پر سوار کرنا چھوڑ دیا ہے
کسی کو اپنا آپ ثابت کرنے کی خواہش باقی نہیں رہی۔ لہٰذا انہیں ان کے راستے جانے دیتا ہوں
وقت گزرتا گیا ، اس کا شوق اپنے اختتام کو پہنچا اب وہ خاموش ہے اس کو بولنا پسند نہیں اس کو ہنسنے سے چیڑ ہوتی ہے اس کو خاموشیاں بھانے لگی ہیں ۔ اس کو اکیلا پن راس آگیا ہے ۔

میں تصور میں جب بھی اس سے ملتی ہوں تو مجھے ہر بار ایک نیا بدلاؤ دیکھنے کو ملتا ہے ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ اس نے میرا حال پوچھا ؛
وہی انداز تحریر۔وہی لفظوں کے جال۔۔ لیکن نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے اس کی انگلیاں تھک گئی ہوں۔
جیسے اس کی روح پر بھاری پتھر رکھ دئے گئے ہوں

لفظ اس کے تھے، انداز بھی اسکی کا تھا لیکن وہ جو روح اس کے جملوں میں دوڑا کرتی تھی وہ جیسے اداس ہو۔ جیسے وہ کہیں بھٹک رہی ہو۔۔۔۔جیسے کسی نے الفاظ پر پہرے بٹھا دیئے ہوں۔ جیسےاس کے قدم زندگی کا بوجھ سنبھالتے سنبھالتے تھک گئے ہوں۔
جب اس کی آواز میرے ذہن کے در و دیوار سے ٹکراتی ہے میں اپنا شعور کھو بیٹھتی ہوں ، میری آواز ، میرے الفاظ کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ پر مجھے لکھنا آتا ہے اور میں اپنے تصور میں سمائے ہوئے اس انسان سے آج کہنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں کہ تم استقامت رکھتے ہو۔ تمھاری گفتگو شاعری کی طرح گداز ہوتی ہے۔ تمھاری گفتگو سے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے کی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ تمھاری باتیں زندگی کو خوبصورت بنا دیتی ہیں۔

اس لئے مجھے یقین ہے کوئی شعلہ ایسا نہیں جو تمھیں جھلسا کر راکھ کر سکے۔۔ کوئی بھونچال ایسا نہیں جو تمھاری میٹھی زبان کے چشموں کا پانی روک سکے۔۔کوئی تاریکی ایسی نہیں جس میں تمھارا دم گھٹ سکے۔
بہرحال تم ایک انسان ہو ۔ جیتا جاگتا انسان۔ جس کی اپنی خواہشیں ہیں ہدرد بھی اور خوف و خدشات بھی۔
لیکن اگرتم اپنی ذات کے اجالوں سے زندگی کے اندھیروں کو، گھٹن میں بدلنے نہیں دیا ہے۔ چمن کو صرصر سے بچایا ہے۔ زندگی کے نوحوں کو اپنی سوچ کی نیرنگیوں سے مسرتوں میں ڈھالا ہے ۔ اماوس کی راتوں میں بھی نیلے آسمان کی موجودگی کو محسوس کیا ہے تو یہ سب تمھارے وجدان کا کمال ہے۔ زندگی کے اس عرفان کی وجہ سے ہے جو قدرت نے تمھیں بخشا ہے۔جس نے تمھیں لفظوں سے دیئے جلانا سکھایا ہے۔ جو اندھیروں کے عفریت کو دور کرتے ہیں۔ اپنی باتوں کے شگوفوں سے ذہن منور کرنے کا ہنر سکھایا ہے۔ جو اداس روحوں کیلئے کسی منتر سے کم نہیں ۔۔۔
یقین جانیں !!

قدرت نے تم کو روشنی کا مینار بنایا ہے جو انسانیت کو راہ دکھاتا ہے۔۔۔ ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ انسان جب محبت کرتا ہے تو اس کے لئے کائنات کی دھڑکنیں رک جاتی ہیں۔ آبشاروں سے پھوٹتے گیت اور جھرنوں سے نکلتے مدھر ساز میں بھی محبوب کی مترنم مسکراہٹ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔۔ یقینا یہ استعارے حقیقت کا روپ نہیں ہوتے ۔ لیکن ہر شخص کی زندگی کی حقیقتیں اس کے اندر سے جنم لیتی ہیں۔ ایک شخص کی حقیقت دوسرے شخص کی نہیں ہو سکتی۔ میرے استعارے ممکن ہے کسی کی زندگی کی حقیقت ہوں ۔ یہ حقیقتیں ہمارے لئے کائنات تخلیق کرتی ہیں۔ جن میں ہم جیتے ہیں۔ لیکن میری کائنات تمھاری کائنات سے مختلف ہے۔۔ایسے ہی ہر کائنات کی اپنی حقیقتیں اپنے مسائل، اپنا ایک انداز زندگی ہوتا ہے۔۔
لیکن تمہیں قدرت نے ایک امتیاز بخشا ہے۔ تمھارے سر پر ہما کا سایہ نہیں ہے لیکن تمھارے ذہن کو ایک لافانی حسن ملا ہوا ہے۔ دنیا کی سب مسرتیں سب آسائشیں سب عہدے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس لئے تم اپنی کائنات کو احسن طریقے سے چلا سکتے ہو۔

زندگی کا سمندر بہت وسیع ہے۔ اسکا احاطہ کرنا شائد ممکن نہیں ہے۔ آج ہم جس جگہ جی رہے وہاں ایک صدی پہلے بھی لوگ جیتے ہونگے۔ اور ایک صدی بعد بھی لوگ ہونگے۔۔

ان کے بھی مسائل ہونگے ۔ ان کے بھی خوشیوں کے لمحات ہونگے ان کو بھی تحفظات کا احساس مارتا ہوگا۔۔
ہم حیات انسانی کا ایک تسلسل ہیں۔ جو خدشات اور امکانات کے درمیان جیتا ہے۔۔
لیکن اہم چیز خدشات کے بادلوں کے درمیاں امکانات کو ڈھونڈنا۔ جیسے موت کے درمیان زندگی کو تلاش کرنا۔ لوگ مرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔حالانکہ موت کا ایک دن معین ہے۔
لیکن
انسان تو خدشات سے بھی مرتا ہے لیکن اسے احساس نہیں ہوتا۔ وہ امکانات کے درمیان جیتا ہے۔۔ سو دن بھر کتنی بار مرتا ہے اور کتنی ہی بار جیتا ہے۔۔
مرنے اور جینے کے درمیان یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔۔۔
تم امکانات کو ڈھونڈنے کا ہنر جانتے ہو۔ میں نے تمھیں اپنے بکسے میں رکھنے کا فیصلہ اس دن کیا تھا جب میں نے تمہارے اندر خدشات، تحفظات کے درمیان سے امکانات کو ڈھونڈنے کا ہنر دیکھا تھا۔ جب تمھیں موت کے قصوں کے درمیان زندگی کا تعاقب کرتے دیکھا تھا۔۔۔۔
میں نے ہمیشہ سوچا اور چاہا کہ تم پر تحریر لکھوں گی

جو تمھارے نام ہوگی۔۔ لیکن میں نے بہت کوشش کی بارہا قلم اٹھایا۔۔۔ کاغذ تھاما ۔۔لیکن پھر سوچتی ہوں۔
تخیل میں آباد کسی دیومالائی ہیرو کو حقیقی زندگی میں ملنے کے بعد اس کے بارے لکھنا پاتال سے موتی چننے سے کم مشکل کام نہیں ہے۔ ایک ایسا شخص جو حسین تصورات سے عبارت ہو۔ جو اپنے تصورات کو ٹھوس حقائق کے سامنے رکھ ان کو کے پاش پاش ہونے سے نہ ڈرتا ہو۔ جس کے خیالوں کا اڑن کھٹولا جستجو میں ستاروں تک پہنچا دیتا ہو۔ افسانوں ناولوں کے کرداروں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ جس کا دل ابگینوں کی طرح نازک ہو جس کے سپنوں کا محل خیالوں کی طرح لطیف ہو۔ جس کے من میں کنول کھلتے ہوں۔ جو اپنے قہقہوں میں مجروح مسکان کو چھپانے کا ہنر جانتا ہوں۔ وہ سراپا عجز ہو۔وہ جو ساری کائنات کو للکارنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ وہ جو دلیر بھی خوداعتماد بھی۔اور مستقل مزاج بھی ہو۔ ایسے الفاظ کہاں سے ڈھونڈوں ۔ وہ جملے کہاں سے تراشوں جو تمھاری مجسم صورت بنا سکیں۔

سوتیلے باپ کی دوسری بیوی اور اس کی بیٹیاں نا محرم ہیں ؟

چھوٹے بچے کو جب کسی پر حد سے پیار آجائے تو وہ اسے کچیچی آتی ہے اور ہاتھوں سے، دانتوں سے بھینج ڈالتا ہے۔۔ مجھے بھی اپنے اظہار کیلئے الفاظ مل نہیں رہے۔ اس لئے بھینچ کر اپنے بکسے میں چھپا دیا ہے۔ اب ساری عمر وہاں سے نکلنے نہیں دوں گی ۔۔۔۔

میری خواہش ہے کہ خیالات کی دنیا سے نکل کر کسی دن میرے سامنے آجائیں ۔ کسی ہوٹل میں بیٹھ کر لوگوں کو دیکھیں گے ،اندرون شہر کی کسی گلی سے گزرتے ہوئے ماضی کے دریچوں کو کھنگالیں گے۔ کسی کی کھنکتی ہنسی پر مضمون باندھیں گے۔ زندگی سے فرار کیلئے تاویلیں ڈھونڈیں گے۔ اور بازار میں کوئی چائے کا کھوکھا ڈھونڈ کر رات بھر وہاں بیٹھ کر گپیں لگائیں گے۔ اگر چاند رات ہوئی تو پھر چاند پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جائیں گے اتنی دیر تک بیٹھ کر باتیں کرتے رہیں گے کہ آنکھیں نیند سے بوجھل ہوکر بند ہونا شروع ہوجائیں گی اور تھک ہار کر سونے کے بعد جب تم بیدار ہوگے تو پھر اپنے سارے مسئلے، ساری اداسیاں ، سارے تفکرات نیند کی اس گہری وادی میں دفن کرچکے ہوگے۔۔۔۔۔

اور میں عمل تجدید سے گزرے اس انسان۔ کو دوبارہ ملوں گی جس کے لئے میں کبھی کچھ لکھ نہیں سکتی ۔ بس بھینچ سکتی ہوں۔ مٹھی میں بند کرکے اپنے بکسے میں چھپا سکتی ہوں۔۔

متعلقہ خبریں