اقوام متحدہ کو بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑ گیا

عالمی الرٹ:اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) مچل بیچلیٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ درخواست بھارت میں سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے باعث سامنے آئی۔

یاد رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ برس دسمبر سے احتجاج جاری ہے تاہم گزشتہ ہفتے صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہوگئی تھی جب احتجاج کے دوران ہندو مسلم فسادات کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت کے امور خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے 4 نکاتی بیان میں کہا کہ جنیوا میں ہمارے مستقل مشن کو گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ ان کے دفتر کی جانب سے سی اے اے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں مداخلت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔

رویش کمار نے کہا کہ شہریت قانون ہمارا اندرونی معاملہ ہے اور یہ قانون بنانے سے متعلق بھارتی پارلیمان کی خودمختاری کے حق سے متعلق ہے۔

دریں اثناء او آئی سی نے دہلی فسادات کی سخت الفاظ مذمت کی تھی ۔او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ او آئی سی بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فساد برپا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے جان و مال کے ساتھ ساتھ ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے۔

ایک اندازے کے مطابق نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران 35 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، ان فسادات کے دوران 92 گھروں کو جلایا گیا، 57 دکانیں، 500 چھوٹی بڑی گاڑیاں، 6 ویئر ہاؤس، 2 سکولز، چار فیکٹریاں اور چار مذہبی مقامات کو بھی جلایا گیا۔

یاد رہے کہ 11 دسمبر 2019ء کو بھارتی پارلیمنٹ سے شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک سے بھارت آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھ مت، جینز، پارسیوں اور عیسائیوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی جبکہ اس فہرست میں مسلمان شامل نہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *