ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

بلاگبیمہ دار افراد کیلئے رجسٹریشن کارڈ PI-03 کی کیا اہمیت ہے ؟

بیمہ دار افراد کیلئے رجسٹریشن کارڈ PI-03 کی کیا اہمیت ہے ؟

از : اسرار ایوبی (سابق افسر تعلقات عامہ EOBI، ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان)


ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) ملک میں نجی شعبہ کے ملازمین کے لئے لازمی سماجی بیمہ (Compulsory Social Insurance) کے ذریعہ بڑھاپے معذوری اور خدانخواستہ ملازم کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کو تاحیات پنشن فراہم کرنا والا قومی ادارہ ہے ۔

اول تو نجی شعبہ کے ملازمین کی اکثریت آج بھی 46 برس قبل 1976ء میں قائم ہونے والے ادارہ EOBI کے قیام کے مقاصد، اس میں رجسٹریشن کے طریقہ کار اور اس کے تحت فراہم کئے جانے والے فوائد (Benefits) سے قطعی لاعلم اور ناواقف ہیں اور اگر خوش قسمتی سے نجی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے چند فیصد خوش قسمت ملازمین EOBI میں رجسٹر ہوجانے کا شرف پا بھی لیں تو اکثر ان بیچارے ملازمین کی رجسٹریشن بھی محض زبانی کلامی ہی ہوتی ہے اور ان ملازمین کے پاس EOBI میں اپنی رجسٹریشن کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہ ہونے کے باعث انہیں اپنا EOBI رجسٹریشن نمبر، رجسٹریشن کی تاریخ، کنٹری بیوشن کی ادائیگی اور پنشن کے لئے اہلیت کی مقررہ عمر اور پنشن کے حصول کے طریقہ کار کے متعلق کچھ علم نہیں ہوتا ۔

حالانکہ ای او بی قانون مجریہ 1976ء کے رول 3 (3) کے مطابق کسی بھی ادارہ کے ملازم کی EOBI میں رجسٹریشن اور اس کے کنٹری بیوشن کی وصولی کے فوراً بعد اسے EOBI کے بیمہ دار فرد (Insured Person) کا درجہ دے کر اور اس کے ذاتی کوائف پر مشتمل ایک کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن کارڈ PI-03 جاری کرنا EOBI کی اولین ذمہ داری ہے ۔

مزید پڑھیں : ڈائریکٹر FIA کراچی کے نام پر فراڈ ہونے کی اطلاعات

رجسٹریشن کارڈ PI-03 میں کسی قسم کی جعلسازی اور تحریف کو روکنے کے لئے کارڈ کی تیاری میں کئی حفاظتی فیچر بھی شامل کئے گئے ہیں ۔ یہ کارڈ ناقابل انتقال ہے اور یہ کسی بھی بیمہ دار کے لئے مستقبل میں اس کی EOBI پنشن کی اہلیت کے لئے ایک لازمی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا اجراء EOBI کے بیمہ دار فرد کا بنیادی حق ہے ۔

اس کارڈ کے سامنے کے رخ پر جلی حروف میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن اور بیمہ دار کا رجسٹریشن کارڈ PI-03 ،جبکہ کوائف کے حصہ میں بیمہ دار فرد کا نام ،ای او بی آئی رجسٹریشن نمبر،نام، ولدیت/ زوجیت، قومی شناختی کارڈ نمبر ،تاریخ رجسٹریشن ،تاریخ پیدائش،پتہ اور تاریخ اجراء درج ہوتے ہیں ۔ جبکہ یہ کارڈ پر ڈائریکٹر جنرل آپریشنز کے دستخط کے ساتھ جاری کیا جاتا ہے ۔

جبکہ رجسٹریشن کارڈ کے پچھلی جانب بیمہ دار فرد کے لئے ضروری ہدایات درج ہیں جن میں:

تبدیلی ملازمت کی صورت میں اپنے نئے آجر کو اس کارڈ سے آگاہ کریں ۔

اپنے ماہانہ کنٹری بیوشن کی باقاعدہ ادائیگی،پرانی ملازمت کے اختتام اور نئی ملازمت کی تفصیلات کا ای او بی آئی کے کمپیوٹرائز نظام میں اندراج کا خیال رکھیں ۔

کارڈ میں بیمہ دار افراد پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ای او بی ایکٹ مجریہ 1976ء کی دفعہ 26 کے تحت پنشن کے استحقاق کے ایک برس کے اندر بغیر کسی ٹھوس وجہ کے پنشن دعویٰ نہ کئے جانے کی صورت میں فائدہ(Benefits) کا حق ختم ہو جائے گا ۔

جبکہ کارڈ میں EOBI فری ہیلپ لائن 080003624 اور ویب سائٹ www.eobi.gov.pk بھی درج کئے گئے ہیں ۔

کارڈ کے آخر میں درج ہے کہ اگر کسی غیر متعلقہ شخص کو یہ کارڈ ملے تو اسے کسی قریبی لیٹر بکس میں ڈال دیں ۔

صدر دفتر ای او بی آئی، پی او بکس نمبر 30 کراچی 74200 ای او بی قانون مجریہ 1976ء کے مطابق ای او بی آئی رجسٹریشن کارڈ PI-03 بیمہ دار افراد اور ان کے اہل خانہ کے لئے بیحد اہمیت کا حامل ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس کے باوجود ملک بھر میں EOBI بیمہ دار افراد کی اکثریت نہ صرف اپنے PI-03 کارڈ سے محروم ہے بلکہ اس کارڈ کے تحت فراہم کئے جانے والے کئی فوائد (Benefits) کی اہمیت سے بھی قطعی لاعلم ہے ۔

مذید پڑھیں : کراچی میں اسرائیلی ہتھیاروں کی فروخت کا انکشاف

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی بیمہ دار فرد EOBI میں اپنی رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے باوجود دستاویزی ثبوت کے طور پر اپنے EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 سے ہی محروم ہے تو وہ آخر اپنے ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کی سالانہ کیفیت سے کیسے آگہی رکھ سکتا ہے اور اپنی ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں اپنے نئے آجر کو EOBI میں اپنی رجسٹریشن سے کیسے مطلع کرسکے گا ۔

جبکہ EOBI کی ویب سائٹ www.eobi.gov.pk کے مطابق EOBI اب تک ملک بھر میں 90 لاکھ سے زائد ملازمین کو پنشن اسکیم کے تحت رجسٹر کر چکا ہے ۔ لیکن ان میں ایک بڑی تعداد اپنے EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 سے محروم ہے ۔ اس صورت حال کے باعث یہ لاکھوں بیمہ دار افراد اپنی ریٹائرمنٹ یا معذوری اور خدانخواستہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے بے سہارا پسماندگان کو مستقبل میں اپنی پسماندگان پنشن کے حصول میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

اس اہم مسئلہ کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

اول تو EOBI انتظامیہ کو قانون کے مطابق بیمہ دار افراد کو بروقت رجسٹریشن PI-03 کارڈ جاری کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے ۔

دوم اگر خوش قسمتی سے کسی بیمہ دار فرد کا رجسٹریشن کارڈ PI-03 تیار ہو بھی جائے تو اسے متعلقہ بیمہ دار فرد تک پہنچنے کے لئے بھی بے شمار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس کے باعث ملک بھر میں EOBI کے لاکھوں بیمہ دار افراد کی اکثریت ایک طویل عرصہ سے اپنے PI-03 کارڈ سے محروم چلی آرہی ہے ۔

سوم EOBI کی انتظامیہ کی جانب سے PI-03 کارڈ اس کے اصل حقدار بیمہ دار افراد کو براہ راست ارسال کرنے کے بجائے اس کے متعلقہ ریجنل آفس کے توسط سے ان کے متعلقہ آجران کو ارسال کیا جاتا ہے ۔ جس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ریجنل آفسوں میں تعینات فیلڈ آپریشنز کے اکثر عاقبت نااندیش افسران نے ان بیمہ دار افراد کے آجران کی ملی بھگت سے EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 جیسے اہم دستاویزی کارڈ کو اس کے اصل حقدار بیمہ دار فرد تک پہنچانے کے لئے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر غیر قانونی طور سے کارڈ کی بھاری قیمت وصول کر کے کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ۔

مزید پڑھیں : چیئرپرسن کی عدم موجودگی میں EOBI کے دو سفارشی افسران کو نواز دیا گیا

اس مقصد کے لئے آپ ملک کے کسی بھی شہر کے EOBI میں رجسٹرڈ صنعتی، تجارتی، کاروباری اور دیگر اداروں کا سروے کرکے دیکھ لیں تو ان اداروں کے EOBI کے بیمہ دار افراد کی اکثریت اپنے PI-03 کارڈ سے محروم ہی ملے گی ۔ اس کی بنیادی وجہ EOBI انتظامیہ کی جانب سے بیمہ دار افراد کے لئے PI-03 کارڈ کی تیاری اور اجراء میں سخت لاپرواہی اور غفلت کا مظاہرہ کرنا اور بصورت دیگر اس اہم کارڈ کو براہ راست حقدار بیمہ دار افراد کو فراہم کرنے کے بجائے اپنے ریجنل آفسوں کے ذریعہ ان کے متعلقہ آجران کے سپرد کرنے کی ناقص پالیسی ہے ۔

یہ شکایات بھی عام ہیں کہ ملک بھر میں EOBI ریجنل آفسوں میں تعینات فیلڈ آپریشنز کے اکثر بدعنوان افسران اس کارڈ کی اہمیت کے پیش نظر آجران کی ملی بھگت سے قانون سے لاعلم اور سادہ لوح بیمہ دار افراد کو رجسٹریشن کارڈ PI-03 فراہم کرنے کے لئے منہ مانگی قیمت بھی وصول کرتے ہیں ۔ یہ سلسلہ ایک طویل عرصہ سے جاری ہے ۔

جبکہ EOBI قانون مجریہ 1976ء کے مطابق رجسٹرڈ آجران ، بیمہ دار افراد اور پنشن یافتگان کے لئے EOBI کی جانب سے تمام خدمات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں اور EOBI کے کسی بھی رجسٹریشن فارم، رجسٹریشن کارڈ PI-03 اور پنشن کارڈ وغیرہ کی کوئی فیس مقرر نہیں ہے ۔

اس سلسلہ میں کسی قسم کی شکایت کی صورت میں EOBI کی مفت مدد گار لائن 080003624 پر شکایت درج کرائی جا سکتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود EOBI کے ملک بھر کے ریجنل آفسوں میں فیلڈ آپریشنز کے اکثر بدعنوان افسران کی جانب سے ایک طویل عرصہ سے EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 کی بیمہ دار افراد کو منہ مانگے داموں فروخت کا مذموم دھندہ جاری ہے ۔ جس کی روک تھام کرنے والا کوئی نہیں۔

مذید پڑھیں :ای او بی آئی کے فیلڈ افسران کے آمدن سے زائد اثاثوں کیخلاف کارروائی ناگزیر

افسوس ناک امر ہے کہ اس حساس معاملہ میں EOBI کی انتظامیہ اپنے فرائض سے غافل اور اس تشویشناک صورت حال سے بے خبر اور خواب غفلت کی نیند سو رہی ہے، جسے بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔

جبکہ EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 کسی بھی بیمہ دار فرد کی ریٹائرمنٹ یا معذوری کی صورت میں اس کے لئے تاحیات بڑھاپا پنشن اور معذوری پنشن کے علاوہ خدانخواستہ اس بیمہ دار فرد یا پنشن یافتہ کی وفات کی صورت میں اس کے بے سہارا پسماندگان کی باعزت گزر بسر کے لئے تاحیات پسماندگان پنشن کے حصول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ EOBI انتظامیہ کی جانب سے سنگین غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث ملک کے لاکھوں بیمہ دار افراد اور ان کے لواحقین کی اکثریت رجسٹریشن کارڈ PI-03 کے عدم اجراء کے باعث اپنی تاحیات پنشن کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں ۔

علاوہ ازیں EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 ملک کے محنت کشوں کی فلاح وبہبود کے لئے قائم ایک اور وفاقی فلاحی ادارہ ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کی جانب سے محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو فراہم کی جانے والی مختلف مراعات رہائشی سہولیات، بچوں کی تعلیم،تعلیمی وظائف ، سلائی مشین کی فراہمی ،بچیوں کی شادی کے لئے 2 لاکھ روپے کی جہیز گرانٹ، کارکن کی وفات کی صورت میں 5 لاکھ روپے کی وفات گرانٹ اور مقررہ کوٹہ کے تحت محنت کشوں کے حج بیت اللہ کی ادائیگی کے لئے بھی ایک نہایت کار آمد دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔

غرضیکہ دیدہ زیب اور سبز رنگت والا EOBI رجسٹریشن کارڈ PI-03 ملک میں نجی شعبہ سے وابستہ لاکھوں ملازمین اور ان کے پسماندگان کے لئے سماجی تحفظ کی علامت بن گیا ہے ۔ جس کا بروقت اجراء اور براہ راست فراہمی EOBI کے ہر بیمہ دار فرد (Insured Person) کا بنیادی حق ہے ۔

متعلقہ خبریں