گلگت بلتستان کے محسن صحافی حبیب الرحمن کی طبی موت یا قتل ؟

فیچر رپورٹ : عبدالجبار ناصر
پہلی قسط

گلگت بلتستان کے سینئر صحافی حبیب الرحمان مرحوم اب اس دنیا میں نہ رہے اور ان کی موت کو ایک ماہ (یکم فروری 2020ء کو انتقال ہوا ) سے زیادہ کا عرصہ گزرگیا مگر سچ یہ ہے کہ ہم آج بھی حبیب الرحمان مرحوم کی موت کے صدمے سے باہر نہیں آئے ہیں ، جب جب حبیب الرحمان مرحوم کے ساتھ اس معاشرے ، حکومت ، صحافتی اداروں ، اپنے اورغیر سب کے انتہائی منفی رویوں پرغور کرتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کا یہ ویژنری ثپوت طبعی موت مرا نہیں بلکہ دانستہ مارا یعنی قتل کیا گیا ہے ۔

مرحوم حبیب الرحمان کی گلگت بلتستان کے حوالے سے جو نظریاتی سوچ تھی یا جس کے لئے انہوں نے کام شروع کیا تھا ، اس وقت ان کے عمل کو ایک بڑے طبقے نے نہ صرف ناپسند کیا بلکہ اس کے خلاف انتہائی منفی پروپیگنڈا کیا،مگر آج گلگت بلتستان کا قوم پرست طبقہ ہویا وفاق پرست ، مذہبی قوتیں ہوں یا سماجی قوتیں یا صحافی ہرسنجیدہ اور باشعور عملاً حبیب الرحمان مرحوم کی نظریاتی سوچ پر ہی نہ صرف کام کر رہا ہے بلکہ اسی کو ہی حب الوطنی قراردیتا ہے۔

مرحوم حبیب الرحمان سے ہمارا تعلق کوئی دو دہائیوں تک قائم رہا مگر افسوس کہ ان کی بیماری کے آخری سالوں میں ہم حالات سے لاعلم رہے اس کی وجہ جہاں ہمارا گلگت بلتستان کا سفرنہ کرنا ہے ، وہیں دیگر کئی اسباب بھی اورکچھ احباب سے سخت شکوہ بھی ۔ہم جب 1997ء میں عملی طور صحافت سے منسلک ہوئے (1997ء سے 2000ء تک ہم روز نامہ اساس کراچی، روز نامہ لشکر کراچی، NNI نیوز ایجنسی سے منسلک رہے) تو اس دوران دوست احباب نے بتایا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک متحرک صحافی بھی کراچی میں ’’PPI ‘‘ نیوز ایجنسی سے منسلک ہیں .

مرحوم ریڈیو پاکستان کے ایک پروگرام میں شریک ہیں

یہ وہ زمانہ تھا جب ہم رپورٹنگ میں عملاً سماجی اور بلدیاتی ایشوز تک ہی محدود تھے اور اسی میں صبح اور شام ہوتی تھی ، جبکہ حبیب الرحمان بھائی سندھ اسمبلی میں ایک بہترین پارلیمانی اور کراچی پولیٹکل رپورٹر تھے ، مرحوم حبیب الرحمان کے ساتھیوں میں اے آر وائی نیوز کے موجودہ صدر ایس ایم شکیل ، ایکسپریس گروپ سے منسلک سینئر صحافی احتشام مفتی ، سینئر صحافی لیاقت کشمیری اور دیگر تھے۔ تقریباً ایک سال تک کوشش کے باوجود ہم دونوں کی ملاقات نہ ہوسکی اور پھر ملاقات ہوئی بھی تو اچانک اور سرراہ ۔ 1992 ء سے ہی صدر کراچی کے بک اسٹال سے گلگت بلتستان کے اخبارات و جرائد(ہفت روزہ K2، ہفت روزہ سیاچن، ہفت روزہ بادشمال، ہفت روزہ قراقرم اور دیگر) خرید نا ہمارا معمول تھا ، اس زمانے میں گلگت بلتستان سے یا گلگت بلتستان کے حوالے سے کوئی روز نامہ شائع نہیں ہوتا تھا، مارکیٹ میں سال نامے، ماہنامے اور ہفت روزے ہی دستیاب تھے وہ چند ہی۔

غالباً یہ بات 1998ء کے آخری دنوں کی ہے کہ صدر کراچی کے بک اسٹال میں ماہنامہ ہمالیہ گلگت بلتستان نامی میگزین نظر سے گزرا اور ہم نے فوری کاپی حاصل کی اوربک اسٹال والے سلیم بھائی کو ہدایت کی کہ ہرماہ ہمارے لئے یہ میگزین رکھیں اور یہ کہ حبیب الرحمان صاحب سے آئے تو ہمارا پیغام دیں کہ ہم ملنا چاہتے ہیں ۔ایک روز ہم بک اسٹال پر کھڑے تھے کہ ایک باریش اورسرپرکیپ رکھے ایک نوجوان مسکراتے ہوئے اسٹال والے سے ملا اوراپنے میگزین کے متعلق پوچھنے لگا ، ہمیں اندازہ ہوا کہ اس بندے کا ہمالیہ میگزین سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے ، قبل اس کے کہ ہم سلیم بھائی سے پوچھتے سلیم بھائی نے کہا قاری صاحب یہ ہیں ماہنامہ ہمالیہ کے چیف ایڈیٹر حبیب الرحمان صاحب ۔

انتہائی مختصر سلام دعا کے بعد ہم دونوں قریبی ہوٹل چاہئے پینے پہنچ گئے ۔چند منٹوں میں ایک دوسرے سے ایسی شناسائی ہوئی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہم پر ’’یک جان دو قالب ‘‘ کی مثال صادق آنے لگی ،کیونکہ نظریاتی ، سماجی ، ثقافتی ، تہذیبی ، لسانی اورسیاسی سوچ ایک ہی تھی اور علاقائی تعلق بھی۔ ہم اپنی زاتی اورپروفیشنل زمہ دارویوں کے ساتھ ساتھ اعزازی طورپرماہنامہ ہمالیہ سے منسلک ہوئے ۔

اس سفر میں محترم رنا محمدفاروق صاحب (جو اس وقت سیاست سے بہت دور تھے مگر آج کل ن لیگ ضلع استور کے سیکریٹری ہیں ) پہلے ہی حبیب الرحمان کے ساتھ شریک تھے اورجب تک ان حضرات کا مرکز کراچی رہا ، دونوں ہی شبانہ روز منزل کی جانب انتہائی محنت و لگن سے گامزن رہے ۔ اس سفر کے دوران کئی مشکلات بھی آئیں اور آسانیاں بھی ۔

ماہنامہ ہمالیہ ایک معیاری میگزین تھا اورعجیب بات یہ کہ کراچی میں کوئی دفتر نہیں تھا بلکہ اس کا دفتر ہم تین ہی افراد خود تھے، جہاں بیٹھ گئے وہی مقام دفتر قرار پائے ۔ بمبئی ہوٹل آئی آئی چندریگر روڈ کے ایک 5 بائی 7 فٹ کے کمرے میں قائم’’ محترم ناصر آرووی صاحب کا ادارہ نفیس” کپوزنگ کا دفتر ہی کل جہان تھا۔ میگزین کے مضامین تیار کرنا ، یا آئے ہوئے مضامین کی ایڈیٹنگ ، کپوزنگ ، پروف ریڈنگ ، سرخیاں ، ذیلیاں ، ڈیزائنگ، اشتہارات کی تیاری، حصول کی منصوبہ بندی الغرض سب کام اسی دفتر میں ہوتا یا پھر مختلف ہوٹلوں کی ٹیبلوں پر صرف چائے کے خرچے پرکرتے ۔

ایک میگزین تیار کرنے میں افرادی قوت کے ساتھ ساتھ وسائل کی شدید کمی تھی، ایسے میں ہرماہ میگزین نکالنا بہت ہی مشکل امتحان ہوتا مگر کوشش ہوتی کہ میگزین ہرماہ شائع ہو۔ کئی باراپنے کھانے پینے اورکرایہ تک کے اخراجات کی رقم بھی اسی پر لگاتے ،مختصر یہ کہ سخت محنت کے بعد جب میگزین مارکیٹ میں آتا تو اس وقت کی خوشی دیدنی ہوتی۔

مرحوم کی جوانی کی ایک یادگار تصویر

ماہنامہ ہمالیہ نے جلد گلگت بلتستان میں جگہ بنالی اور کئی نامور صحافیوں اور لکھیاریوں نے اعزازی طور پر اپنے آپ کو ماہنامہ ہمالیہ سے منسلک کرنا اعزاز سمجھا اور حکومتی و سیاسی حلقوں میں بھی اچھی جگہ بن گئی ۔ غالباً یہاں سے ہی کئی افراد ، اداروں اور طبقوں نے حبیب الرحمان کو اپنے لئے چیلنج سمجھا نا شروع کیا اور مرحوم حبیب الرحمان کے لئے ایک نیا امتحان شروع ہوا۔

مرحوم حبیب الرحمان کراچی میں ہم سے کئی برس قبل سے صحافت سے منسلک تھے ، مگر ہم نے یہ محسوس کیا کہ کراچی میں موجود گلگت بلتستان کے سیاسی اور سماجی طبقے میں مرحوم کے مراسم نہ ہونے کے برابر تھے ، مگر ہم اس معاملے میں کافی متحرک تھے ، جبکہ گلگت بلتستان کے سیاسی ، حکومتی اور صحافتی حلقوں میں مرحوم حبیب الرحمان اور رانا محمد فاروق کافی معروف اور ہم انتہائی غیر معروف تھے ۔

ماہنامہ ہمالیہ کراچی میں تیار ہوتا اور کارگو کے ذریعے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں تک پہنچتا ۔غالباً یہ سلسلہ 2000ء تک جاری رہا اور اس دوران ماہنامہ ہمالیہ کے انتہائی مقبول شمارے بھی شائع ہوئے۔ 1999ءمیں کرگل جنگ کے دوران ماہنامہ ہمالیہ کے شائع ہونے والے خصوصی میگزین کو انتہائی شہرت ملی اور میگزین کے حصول کے لئے بلا مبالغہ ہزاروں افراد کوشاں رہے اور اصل اشاعت سے زیادہ کی دوبارہ پرنٹنگ کے آڈر آئے مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ کرگل جنگ کے بعد شہدائے کرگل کے نام سے ایک کتاب کی اشاعت کے لئے مرحوم حبیب الرحمان نے نہ صرف خواب دیکھا بلکہ اس کتاب کے حوالے سے کئی ماہ تک سخت محنت کی مگر مشرف کے آمرانہ جبر اور دیگرمجبوریوں کی وجہ سے یہ کتاب شائع نہ ہوسکی ۔

مرحوم اپنے ایک اچھے کے ساتھ خوشگوار موڈ میں

یہ کتاب شائع ہوتی تو کرگل جنگ کے حوالے سے قوم کے سامنے ایک مفصل ، مدلل اور حقائق پر مبنی تاریخی دستاویز ہوتی مگر افسوس کہ کتاب کی اشاعت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔اس کتاب کے مواد کے حصول میں مرحوم حبیب الرحمان کے ساتھ گلگت بلتستان کے کئی سیاسی ، سماجی ، صحافتی اور دیگر شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا تعاون قابل تحسین رہا۔

اس عرصے میں معاشی حالات میں بہتری ۔ اس سفر میں ہم نے یہ محسوس کیا کہ مرحوم حبیب الرحمان صرف ماہنامہ تک ہی نہیں رہنا چاہتے ہیں بلکہ ان کی منزل ایک کامیاب اور معیاری روز نامہ تھا ، جس کے لئے اگلا مرحلہ ہفت روز ہ کی اشاعت تھی ، غالباً 2000 میں یہ خواب بھی ہفت روز چٹان کی اشاعت کے ساتھ ہی شرمندہ تعبیر ہوا۔
(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *