ہفتہ, نومبر 26, 2022
ہفتہ, نومبر 26, 2022
- Advertisment -

رپورٹر کی مزید خبریں

پاکستاناسلام آبادسپریم کورٹ کے 5 ریٹائرڈ ججز کی جگہ مذید تعیناتیاں کیوں نہ...

سپریم کورٹ کے 5 ریٹائرڈ ججز کی جگہ مذید تعیناتیاں کیوں نہ ہو سکیں ؟

جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک خط گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھا ہے جس میں بحثیت جوڈیشل کمیشن چیئرمین کے بھی انہیں مخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ 50 ہزار کے قریب کیسز زیر سماعت ہیں ، اور ہمارے رواں برس ججز ریٹائرڈ ہو جائیں گے جب کہ ہم خالی ہونے والی اسامیوں پر بھرتیاں نہیں کر رہے ہیں ۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھ کر ججز تقرری کا معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ سپریم کورٹ میں اسامیوں کے برعکس کم ججز کیوں ہیں ؟

خط کے یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججز تعیناتی کی سفارش کیلئے جوڈیشل کمیشن کے 9 ارکان ہیں اور سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد مقدمات ہیں ، سپریم کورٹ چیف جسٹس اور 16 ججز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

مذید پڑھیں : ریٹائرڈ فوجی افسران ،ججز اور بیورو کریٹس سے فراڈ کرنے کیخلاف FIA کی تحقیقات تیز

متن میں کہا گیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں ججز کی 5 آسامیاں خالی ہیں ، جسٹس گلزار احمد کو ریٹائر ہوئے 239 دن گزر چکے ہیں، جسٹس قاضی امین احمد کو ریٹائر ہوئے 187 دن ، جسٹس مقبول باقر کو ریٹائر ہوئے 177 دن ، جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو ریٹائر ہوئے 77 دن جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ کو ریٹائر ہوئے 46 دن گزر چکے ہیں۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عوام سپریم کورٹ پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں ، سپریم کورٹ 700 کے اسٹاف پر مشتمل ہے، یہ بات ناقابل سمجھ ہے کہ سپریم کورٹ 30 فیصد کم کیپسٹی پر کیوں چل رہی ہے ؟ ہر گزرتے دن کے ساتھ مقدمات کا پہاڑ کھڑا ہو رہا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ خدشہ ہے کہیں سپریم کورٹ غیر فعال نہ ہو جائے، آئین انصاف کی فوری فراہمی پر زور دیتا ہے، اس بات کو یقینی بنانا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے، ہمیں عوام کو سپریم کورٹ سے مایوس نہیں ہونے دینا چاہیے ۔

عظمت خان
عظمت خانhttps://alert.com.pk
عظمت خان بحیثیت رپورٹر گزشتہ 15 برس سے ملک کے مختلف پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں اور مذہبی، تعلیمی ، لیبر، فراہمی و نکاسی آب سمیت مختلف امور اور شعبہ جات کے حوالے سے خبروں اور تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ وہ کتابوں کے مصنف اور ابلاغ عامہ میں ایم فل کے طالب علم ہیں ۔
متعلقہ خبریں