منافق کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتا۔۔!!

تحریر: محمد ضیاءالرسول رضوی

تحریک نے اپنے سیاسی کیریئر میں پہلا دھرنا 2017 میں دیا، ختم نبوت کے حلف نامے میں تحریف ہوئ، نواز حکومت تھی، دوسری سیاسی پارٹیوں بشمول تحریک ناانصاف نے دھرنے کو خوب سراہا اور اس کو عشق رسول سے تعبیر کیا جبکہ ن لیگی اس کو بیرونی ایجنڈا کہتے رہے،

پھر حکومت آئ بےانصافی کی، آتے ہی ایک ملعووونہ کو رہا کیا، تحریک اس بار پھر میدان میں آئ اور دھرنا دیا، مگر اس بار تماشائ بدل چکے تھے، ن لیگ کے نزدیک ہم عاشق رسول تھے اور یوتھیوں کے نزدیک بیرونی ایجنڈے پر تھے،

پھر فرانس والا معاملہ ہوا، اس بار تحریک پھر پوری قوت سے میدان میں اتری، شہادتیں بھی ہوئیں، معاہدوں کی خلاف ورزی بھی ہوئ، گرفتاریاں بھی ہوئیں اور تحریک نے لازوال قربانی دی، مگر اس بار پھر ہم ن لیگ کے نزدیک عاشق رسول اور یوتھیوں کے نزدیک فسادی تھے۔

مزید پڑھیں:اہلیہ سارہ کے قتل سے متعلق ایاز امیر کے بیٹے نے تفصیل بتادی

اب پھر منظر نامہ بدل رہا ہے، شہباز کی میکرون کے ساتھ ملاقات کو لے کر ماحول کافی گرم ہے، اللہ رحم فرمائے مگر حالات بتا رہے ہیں کہ اس بار یوتھیے عاشق رسول کہیں گے اور پٹواری حسب سابق منافقت دکھا جائیں گے۔

اوپر والے پورے منظر نامے میں دونوں پارٹیاں آپ کو کہیں بھی دین کے واسطے کھڑی نظر نہیں آئیں گی، جبکہ اس دوران اپنی ذات اور حکومت کیلئے کئ بار دھرنے اور لانگ مارچ بھی ہوئ۔ جبکہ اسی عرصے کے دوران مقدسات اسلام پر حملے بھی ہوئے، مساجد کا تقدس بھی پامال ہوا مگر ان انگریز کے گندے کیڑوں کو اس سے کیا سروکار۔۔؟؟

بات یہ ہے کہ منافقوں کی پرانی روش ہے کہ کبھی راضی نہیں ہونا، یہ حضرت عقیل انصاری کی راہ خدا میں دی گئ آدھا کلو کجھوروں سے راضی نہ ہوئے تھے اور جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سارے مال سے بھی خوش نہ ہوئے تھے۔

موجودہ حکومت اور پچھلی نااہل حکومت کے گٹھ جوڑ سے غیر شرعی ٹرانسجینڈر ایکٹ پاس ہوا، مگر مجال ہے ان کے اندھے بھکتوں کے کان پر جوں بھی رینگی ہو، مگر مطالبہ پھر تحریک سے ہے کہ باہر کیوں نہیں نکلے۔۔؟

مزید پڑھیں:ایاز امیر کی بہو کا پوسٹ مارٹم مکمل، قاتل واردات کے وقت نارمل تھا، ذرائع

ووٹ اور سپورٹ تم ان نااہلوں اور جاہلوں کی کرو مگر جب میدان میں اترنے کی بات آئے تو تم تحرییک کی طرف دیکھو۔

ایک دوست کہنے لگے آپ دین کی ٹھیکیداری چھوڑ دیں، ہم نے عرض کی ٹھکیداری نہیں بلکہ چوکیداری کرتے ہیں اور آخری دم تک کریں گے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں(علمائے حق) اپنا وارث کہا ہے اور ہم اس امانت کا بھرپور خیال رکھیں گے، اگر آپ کے ابا جی اس منصب کے اہل ہیں تو ان کو سونپ دیتے ہیں۔

اگر ہماری چوکیداری سے اتنی تکلیف ہے تو اٹھیں اور میدان میں نکلیں اور اس غیر شرعی بل کو روکیں مگر حالت تو یہ ہے کہ آپ کے مہاتما لیڈر ابھی تک اس قانون کو غلط بھی نہ کہہ سکے اور کہیں بھی کیسے کہ ان کی رگوں میں مغرب کا خون دوڑتا ہے۔