کراچی میں قادیانی صغیر احمد کے خلاف لڑکی کے اغوا کا مقدمہ درج 

کراچی : کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں صغیر احمد نامی مرزائی کی جانب سے ایک مسلمان لڑکی سے شادی کر لی تھی ۔ لڑکی اور اہل خانہ کو مرزائی کی حقیقت معلوم ہوئی ، جس پر مرزائی صغیر احمد ولد بشیر احمد لڑکی کو لیکر ماڈل کالونی سے فرار ہو گیا ۔

صغیر احمد مرزائی نے 25 مئی کو ماڈل کالونی تھانے میں درخواست دی تھی کہ میری شادی 23 فروری 2021 کو س ن سے ہوئی تھی ۔ لڑکی کا بھائی لڑکی کو کہیں لے گیا ہے اور مجھ پر دعوی کر رہے ہیں اور مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔

جس کے بعد لڑکی کے والدین کی جانب سے ماڈل کالونی میں دفاع ختم نبوت کونسل کے سربراہ علامہ قاری ضیااللہ سیالوی سے رابطہ کیا اور اپنا مدعا انہیں بتایا، جس کے بعد قاری ضیااللہ سیالوی نے مذکورہ صغیر احمد کے بارے میں تحقیق کی جس پر معلوم ہوا ہے کہ وہ واقعی قادیانی ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے جھوٹا بیان دیکر مسلمان لڑکی سے شادی کی ہے ۔

دفاع ختم نبوت کونسل کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ریکارڈ حاصل کیا گیا ، جس میں تصدیق ہوئی کہ واقعی صغیر احمد قادیانی ہے اور اس کے پڑوسیوں نے بھی گواہی دی ۔

جس کے باوجود بھی پولیس کی جانب سے والدین کی درخواست پر صغیر احمد نامی مرزائی کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا تھا تاہم 23 ستمبر کو تھانہ ماڈل کالونی میں لڑکی کے بھائی ممتاز خان ولد نواب خان نے درخواست دی کہ صغیر احمد نے میری بہن سے کورٹ میرج کی اور خود کو مسلمان ظاہر کیا اور شریعت اسلامی اور آئین پاکستان کی روح سے یہ شادی نہیں ہوئی اور نکاح نہیں ہو سکتا ۔ لہذاہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ۔

جس کے بعد ایس ایس پی کے حکم کے بعد ماڈل کالونی تھانے کے ایس اہچ او ارشاد سومرو نے مقدمہ نمبر 239/2022 درج کر کے مذید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ مقدمہ میں پولیس نے 356 کی دفعات لگائی ہیں تاکہ لڑکی کو بازیاب کرایا جائے جس کے بعد لڑکی کا بیان لیکر مقدمہ درج کیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے دفاع ختم نبوت کونسل کے چیئرمین علامہ قاری ضیااللہ سیالوی نے علاقے کے علمائے کرام پر مشتمل ایک اہم اجلاس بھی بلایا تھا اور اس کے بعد اس معاملے کی تحقیق کر کے لڑکی کو بازیاب کرانے کی مہم چلائی تھی اور گزشتہ روز ان کا ویڈیو بیان سامنے آیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور قادیانی کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔