محکمہ صحت سندھ نے پنجاب سے 380 ڈاکٹر مانگ لئے

کراچی : محکمہ صحت سندھ نے حکومت پنجاب کو خط لکھ کر سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صوتحال اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے ڈاکٹروں کی مد میں مدد طلب کی ہے ، خط کے مطابق حکومت پنجاب 380 ڈاکٹر کی خدمات حکومت سندھ کو دے تاکہ مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا سکے ۔

خط کے مطابق پنجاب سے آنے والے مذکورہ ڈاکٹروں کو سندھ کے مختلف 10 اضلاع میں تعینات کیا جائے گا جہاں پر ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے ۔ ان 10 اضلاع میں لاڑکانہ ، دادو ، قمبر ، جامشورو ، بدین ، میر پور خاص ، نوشہرو فیروز ، سانگھڑ ، خیر پور اور جیک آباد شامل ہیں ۔

واضح رہے کہ محکمہ صحت سندھ کے پاس میڈیکل آفیسر  کی تعداد 8 ہزار سے زائد ہے ،جن میں خود محکمہ صحت کے 2019 کے اعتراف کے مطابق لگ بھگ 1500 ڈاکٹر غائب ہیں ۔ محکمہ صحت نے ان غائب ڈاکٹروں کے بارے میں 2019 میں اعتراف کیا تھا ، جس کے بعد غائب ہونے مگر بدستور تنخواہ وصول کرنے والے ڈاکٹروں کو فائنل شوکاز دیا گیا تھا ۔

مذید پڑھیں : ایبٹ آباد بورڈ کے پیپر لیک کرنے والا 12واں ملزم بھی گرفتار

محکمہ صحت کے حتمی شوکاز کے بعد ڈیڑھ سو کے قریب ڈاکٹر واپس آ گئے تھے ، جس کے بعد باقی ڈاکٹر اب تک نہیں آئے ہیں جب کہ وہ تمام تاحال بغیر ڈیوٹی کے محکمہ سے بدستور تنخواہ لے رہے ہیں ۔ جس کے باوجود محکمہ صحت ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے ۔

معلوم ہوا ہے کہ محکمہ صحت سندھ نے حالیہ چند روز میں 9 ڈاکٹروں کو برطرف بھی کیا ہے اور 100 ڈاکٹروں کو فائنل شوکاز جاری کیا گئے ہیں ۔ جن سے شوکاز کے ذریعے غیر حاضری کی وضاحت مانگی گئی ہے ۔ تسلی بخش جواب نہ ہونے کی صورت میں ان ڈاکٹروں کو بھی برطرف کیا جائے گا ۔

ادھر محکمہ صحت سندھ نے حکومت سندھ سے 2550 ڈاکٹر رین ایمرجنسی کے لے بھرتی کرنے کی منظوری لی ہے ۔ جن کو 89 روز کی معاہداتی مدت کے لئے بھرتی کیا جائے گا ۔ جب تک سیلابی صورت حال رہے گی تب تک ان کا کنٹریکٹ جاری ہے گا ۔