جامعہ کراچی ڈین سائنس انکوائری مکمل ہوئے بغیر کرپٹ ملازمین کے دباؤ میں آ گئیں

کراچی : جامعہ کراچی ڈین سائنس ڈاکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے مبینہ طور پر شعبہ کیمیکل انجنیئرنگ میں کرپٹ ، بد اخلاق اور طویل ترین چھٹیاں کرنے والے ملازمین کی پشت پناہی شروع کر دی ہے ۔

جامعہ کراچی کی ڈین سائنس ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے شعبہ کیمیکل انجنیئرنگ کے افسران و ملازمین کے مابین چلنے والی کشیدگی میں ذمہ دار افسر کا کردار نبھانے کے بجائے جانبدارانہ سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔

شعبہ کیمیکل انجنیئرنگ میں ڈین سائنس کے دور میں مغل ٹریڈرز کی جانب سے مارکیٹ سے 1 ہزار گنا زائد قیمت پر چیزوں کی خریداری کی گئی تھی جب کہ اب پھر ڈین سائنس کے ماتحت شعبہ میں بچوں سے فیسیں لیکر کھانے ، بغیر امتحان کے پاس کرنے اور بغیر فیس کے مارکس شیٹس جاری کرنے والے اساتذہ اور طویل چھٹیاں کرنے والے ملازمین کو کھلی چھٹ دی جا رہی ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ کراچی ملازمین نے کرپشن چھُپانے کیلئے احتجاج شروع کر دیا 

ڈین سائنس آفس کے ذرائع سے حاصل ہونے والے معلومات کے مطابق ڈین سائنس ڈاکٹر ناصرہ خاتون نے شعبہ کی انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ کو کہا ہے کہ میں چیئرپرسن ہوں ، لہذاہ میرا فیصلہ ہے کہ آپ اسٹور کیپر سید محمد شیراز کا تبادلہ کر دیں ۔ جس کے بعد ڈاکٹر شگفتہ نے ڈین سے کہا کہ محمد شیراز نے کوئی ایسا کام ہی نہیں کیا تو ٹرانسفر کیوں کیا جائے ۔ جس پر ڈین نے کہا کہ ہر صورت میں شیراز کا ٹرانسفر کیا جائے ۔ جس کے بعد ڈاکٹر شگفتہ نے ٹرانسفر آرڈر کے بغیر ہی ریلیو کا نوٹس دیا ہے ۔

حیران کن طور پر بغیر ٹرانسفر لیٹر کے دباؤ میں آ کر ڈاکٹر شگفتہ نے سید محمد شیراز کو ریلیو آرڈر کیا ہے ۔ جس میں یہ تک بھی نہیں لکھا کہ وہ ریلیو ہو کر کہاں جائے اور کس ڈیپارٹمنٹ میں جائے ؟ اس حوالے سے متعدد بار ڈین سائنس ڈاکٹر ناصرہ خاتون سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا ۔

مذید پڑھیں : محکمہ صحت سندھ نے پنجاب سے 380 ڈاکٹر مانگ لئے

ڈین آفس کے معتبر ذرائع کے مطابق شعبہ کیمیکل کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد یاسر خان کی انچارج ڈاکٹر شگفتہ سے ڈین آفس میں ملاقات ہوئی ، جس میں محمد یاسر خان نے شکایت لگائی کہ محمد شیراز نے بھی مجھ سے بدتمیزی کی تھی جس کی وجہ سے اس کا ٹرانسفر کرا رہا ہوں ۔اس نے مذید کہا کہ میں آپ کا تابعداد رہوں گا اور سابقہ غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں مگر ڈین کے کہنے پر اب محمد شیراز کو یہاں سے کہیں اور بھیج دیں ۔

ادھر شعبہ کیمیکل انجنیئرنگ کے حوالے سے ڈین آرٹس ڈاکٹر نصرت ادریس کے پاس انکوائری بھی چل رہی ہے ۔ جس میں متعدد ایشوز پر انکوائری کی جانی ہے ۔ رجسٹرار آفس سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق یاسر محمد خان اور شعبہ کے دیگر ملازمین کی کرپشن ، غفلت اور بد اخلاقی کی شکایات پر ایک انکوائری ڈاکٹر نصرت ادریس کریں گی ۔

  • شعبہ کی انچارج نے 3 مارچ 2020 کو محمد یاسر خان کے خلاف ورک پلیس ہراسمنٹ کی درخواست دی تھی ۔
  • خاتون آفس اسٹاف نے بھی محمد یاسر خان کے خلاف ایک درخواست دی ہے ۔ جس میں یاسر خان پر الزام ہے کہ وہ آفس اسٹاف کا گالیاں دیتے ہیں اور دبائو میں لاتے ہیں ۔ اور چہرے پر فائل بھی پھینکی ہے ۔
  • 31 مئی 2022 کو ایک درخواست آفس اسٹاف نے الگ سے دی ہوئی ہے جس میں یاسر خان کے خلاف گالم گلوچ ، اسٹاف کے ساتھ ہاتھا ہائی کی شکایات درج ہیں ۔
  • اس کے علاوہ محمد یاسر خان کے خلاف ایک شکایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے طلبا سے اپنے فرنٹ مین فیصل شاہ ، سلطان اور ایک طالب علم مبشر کے ذریعے پیسے لیکر شعبہ فنانس میں جمع نہیں کرائے اور اس دوران سمسٹر سیل میں بطور ٹیبولیٹر مارکس شیٹ بھی نکلوا کر طلبا کو دے دی ہیں ۔
  • اسسٹنٹ پروفیسر محمد یاسر خان ، ڈین اور سربراہ شعبہ کے منع کرنے کے باوجود یونیورسٹی میں بی اے اور بی کام کے پرائیویٹ سینٹر منعقد کرتے ہیں اور وہاں پر شعبہ کیمیکل کے طلبا اور بعض ملازمین سے ڈیوٹی کراتے رہے ہیں ۔ وہی ملازمین اب انتظامیہ کو بلیک میل کر رہے ہیں ۔
  • معلوم ہوا ہے کہ شعبہ کیمیکل سے نکالے جانے والے اسسٹنٹ کنٹرولر محسن احسان الحق سے مل کر محمد یاسر خان شعبہ امتحانات سے پرائیویٹ امتحانی مرکز بناتے ہیں ۔ جب کہ محسن احسان الحق کو شعبہ کیمیکل انجنیئرنگ میں طویل ترین چھٹیاں کرنے کی وجہ سے انکوائری کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ جس کے بعد ان کو شعبہ سے ٹرانسفر کیا گیا تھا جن کو مذید اعلی عہدے پر بیٹھا دیا گیا ہے ۔
  • گزشتہ 12 روز سے شعبہ میں بعض ملازمین اپنی کرپشن ، غفلت کو چھپانے کے لئے احتجاج کر رہے ہیں جن کی پشت پناہی مبینہ طور پر ڈاکٹر یاسر کر رہے ہیں ۔

ادھر معلوم ہوا ہے کہ شعبہ میں کرپٹ ، بد اخلاق افسران کو چھوڑ کر ایماندار ملازم کے انوکھے تبادلے کے بعد دیگر ملازمین نے بھی تبادلے کا مطالبہ کیا ہے ۔

KUTS کے جنرل سیکرٹری محسن علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ انکوائری کی جائے ، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی جائے ، دونوں فریقین کو سن کو فیصلہ کیا جائے ۔