پیپیلوما وائرس کے ٹیکوں سے بچہ دانی کے سرطان کی روک تھام ممکن ہے

کراچی : صوبائی وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ملک میں نو عمر لڑکیوں کو پیپیلوما وائرس کے ٹیکے لگوا کر بچہ دانی کے سرطان (سروائیکل کینسر) کی روک تھام ممکن ہے ۔

سندھ کی وزارتِ صحت اس کوشش میں ہے کہ صوبے میں اس مرض سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امراض کے مقابل منظم امیونائزیشن پروگرام شروع ہو، اس مرض کی روک تھام میں تحقیق کی ضرورت کلیدی ہے۔

یہ بات انھوں نے جمعرات کوبین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی میں ”انسانی پیپیلو ما وائرس اور سروائیکل کینسر“ کے موضوع پر جاری 3 روزہ بین الاقوامی ’آئی پی وی ایس‘سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

یہ بین الاقوامی سمپوزیم ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام منعقد ہو رہا ہے۔

مذید پڑھیں : آئی جی سندھ کا SSU اور اسپیشل برانچ کے افسران و اہلکاروں کیخلاف انکوائری کا حکم

بین الاقوامی مرکز کے پروفیسر سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو سمیت شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی، بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کے سرپرستِ اعلیٰ اور سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن، آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، جرمنی کے کونسل جنرل روڈیگر روٹز، جرمنی کے سائینسدان پروفیسر تھامس افتنر اور ڈاکٹر عطیۃالوہاب نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا صحت مند ماں ہی صحت مند خاندان کی پرورش کر سکتی ہے، انھوں نے کہا سندھ کے متعدد شہروں میں پیپیلوما وائرس اسکرینگ کا آغاز ہو چکا ہے، یہ سمپوزیم پیپیلو ما وائرس اور سروائیکل کینسر کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کا سبب بنے گا۔

انھوں نے کہا آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی سائینسی سرگرمیاں دیکھ کر ہماری وزارت اس ادارے کی معاونت کررہی ہے۔ بعد ازاں، افتتاحی تقریب کے بعد وزیرِ صحت نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بھی پیپیلوما وائرس اور سروائیکل کینسر کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔

مذید پڑھیں : زائد فیس وصولی کیخلاف 4 مذید اسکولوں کیخلاف کارروائی

انھوں صحافیوں کو بتایا کہ موجودہ سیلاب نے سندھ میں جو تباہی پھیلائی اس کی کوئی نظیر نہیں ہے ۔ اس تباہی نے وزارتِ صحت کے تمام امور کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

پروفیسر خالد عراقی نے سمپوزیم کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یہ پہلی کانفرنس ہے جو متعلقہ موضوع پر منعقد ہو رہی ہے ۔ انھوں نے خواتین آبادی میں پیپیلوما وائرس اور سروائیکل کینسر کے پھیلاو پر تشویش کا اظہار کیا۔

پروفیسر عطا الرحمن نے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کی ابتدا اور اس کی کامیابیوں کی تاریخ پر مختصر گفتگو کی، انھوں نے حاضرین کو ایل ای جے نیشنل سائینس انفارمیشن سینٹر اور اس میں موجود سہولیات کے متعلق آگاہ کیا۔

پروفیسر اقبال چوہدری نے سروائیکل کینسر کے پھیلاو پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خواتین میں سروائیکل کینسر کی وجہ زیادہ تر انسانی پیپیلو ما وائرس انفیکشن ہوتے ہیں، انھوں نے اس موضوع پر تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انھوں نے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی وزارتِ صحت میں دی جانے والی خدمات کو سراہا اور بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی کی مستقل معاونت کرنے پر اُن کا شکریہ بھی ادا کیا۔