خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انکی بالادستی کیلئے کوششیں جاری ہیں، ڈاکٹر خانم معصومہ جعفری

کراچی : فاطمہ زہرہ سینٹر ایران کے مذہبی بورڈ کی سربراہ، گلوبل ایسوسی ایشن آف مسلم وومن کی رہنما اور اسلام میں خواتین کے حقوق پر ڈاکٹریٹ کرنے والی اسکالر ڈاکٹر خانم معصومہ جعفری نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی بالادستی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔

اسلام میں عورت کی عظمت کے پیش نظر آج کی صنف نازک کا احترام کرنا ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں پہلی بار خواتین کو بااثر بنانے، انہیں نرس بنانے، کپڑا سازی، دھاگہ سازی، زراعت، چمڑا سازی، سلائی کے کام و دیگر ہنر کے علاوہ تعلیم دلانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بی بی خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے خواتین کو کاروبار کے گر سکھائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انسٹےٹیوٹ آف جینڈر اسٹڈیز جامعہ سندھ جامشورو میں ”بی بی خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سیرت اور اسلام میں عورت کا مقام“ کی زیر عنوان ایک روزہ عالمی سیمینار کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیں:پیپیلوما وائرس کے ٹیکوں سے بچہ دانی کے سرطان کی روک تھام ممکن ہے

ایران کی مقبول اسلامک اسکالر ڈاکٹر خانم معصومہ جعفری نے مزید کہا کہ آج کا عالمی سیمینار شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر (میریٹوریس) ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو کی کاوشوں سے ممکن ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہم بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نورانی دسترخوان کے مہمان بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار امام خمینی نے کہا تھا کہ عورت کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءروئے زمین پر بھیجنے کیلئے عورت کا انتخاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے بہت زیادہ کام کیا اور وہ ہمیشہ بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کو مرد و خواتین کے سامنے عورتوں کی شان بیان کرنے کیلئے کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں عورت کا بڑا مقام ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے وجود پر اللہ تعالیٰ خود فخر کرتا ہے۔

ڈاکٹر خانم معصومہ جعفری نے مزید کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نام ہمیشہ رہتا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہ صرف ایک کاروباری امیر خاتون تھیں، بلکہ وہ ایک ادیب و شاعر بھی تھیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں کٹے ہونٹ اور تالو میں سوراخ کی سالانہ 15000 سرجریز کی ضرورت ہے : پروفیسر محمد سعید قریشی

انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے، جو خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور انہیں آگے بڑھنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاندان کیلئے بیحد احترام ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار حضرت خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ اگر ان کے پاس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نہ ہو پر دنیا بھر کی دولت و خوشیاں ہوں تو وہ سب بے معنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پانے کیلئے عورت کا احترام کرنا نہایت ضروری ہے۔

ڈاکٹر جعفری کا کہنا تھا کہ ایک بار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہا کی محبت عطا ہونا ان کے لیئے رزق خاص ملنے سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دور میں جب عورت کی قیمت 100 اونٹوں کے برابر تھی تو اس وقت یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جانی نقصان پہنچایا گیا ہے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو پریشان کرنے کیلئے مختلف سازشیں ہونے لگیں تج یہ نیک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیکر مکہ مکرمہ کی بازار میں لے آئی اور قریش پر یہ باور کرایا کہ عورت کو ڈرایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے زمانے میں خواتین کیلئے رول ماڈل حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہیں، جن کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر عورت اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیںتاجر کا موت سے قبل آخری ویڈیو بیان جاری، قاتل کا پتہ بتادیا

انہوں نے کہا کہ پاکستانی خواتین کو دوسری جگہ دیکھنے کی قطعاً ضروری نہیں، ان کے سامنے حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ و حضرت زینب رضی اللہ عنہما جیسی رول ماڈل خواتین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو معاشرتی و معاشی لحاظ سے مضبوط بنایا، یہی وجہ ہے کہ انہیں مسجد میں پردہ کراکے ایک طرف نماز ادا کرنے بھی اجازت دی۔

ڈاکٹر خانم معصومہ جعفری نے مزید کہا کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں تین چیزیں نماز، خوشبو اور عورت کی عظمت بہت زیادہ عزیز ہیں۔

انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار انگلینڈ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بہن ایران کے دورے پر آئیں اور وہ اصفہان جا رہی تھیں کہ راستے میں امام موسیٰ کاظم کی بیٹی فاطمہ معصومہ کے مقبرے پر رش دیکھ کر اس بارے میں دریافت کیا۔ وہ اصفہان جانے کی بجائے فاطمہ معصومہ کی مزار پر یہ بول کر ایک ہفتے کیلئے رک گئیں کہ مزار پر آخر کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر کی بہن کو اس وقت مزید حیرت ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ ایران کا چیف آف آرمی اسٹاف، چیف جسٹس آف ایران و دیگر رہنما مزار پر بغیر پروٹوکول کے آکر ادب و احترام میں جھکتے ہیں، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہیں اور پھر واپس روانہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ خاتون کے تجسس میں اور بھی اضافہ ہوا، جب انہیں معلوم ہوا کہ فاطمہ معصومہ رضی اللہ عنہا کنواری تھیں۔ ایک ہفتے کے بعد پورے میڈیا کو بلا کر انہوں نے کلمہ پڑھا اور بتایا کہ عورت کیلئے صحیح مقام و مرتبہ صرف اسلام میں ہے، اور کہیں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021ءمیں 20 ہزار امریکی شہریوں بالخصوص خواتین نے ایران کا دورہ کرنے کے بعد اسلام قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عورت کو اسلام کا علمبردار ہونا ہوگا۔

مزید پڑھیںسندھ، یونیسیف کی محکمہ تعلیم کو سیلاب زدہ علاقوں میں تعلیم کیلئے تعاون کی یقین دہانی

اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف جینڈر اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی نے ایران سے تشریف لیکر آنے والی مہمان اسکالر و دیگر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وائس چانسلر و رجسٹرار کے مکمل تعاون سے آج کے عالمی سیمینار کا انعقاد ممکن ہوا ہے۔ سیمینار میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کی سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر پروین شاہ ، ڈاکٹر خالدہ جمالی، پروفیسر شیرین میمن، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر حماداللہ کاکیپوٹو، ڈاکٹر احمد علی بروہی، ڈاکٹر ذوالفقار علی زیدی،

ڈاکٹر محمد حسن اگھیم، ڈاکٹر آفتاب راجڑ، ڈاکٹر نسیم اسلم چنہ، محمد معشوق صدیقی، واحد پارس ہیسبانی، عبدالمجیدپنہور، ڈاکٹر ایم کے کھٹوانی، ڈاکٹر انیلہ ناز سومرو، ڈاکٹر رفیق احمد لاشاری کے علاوہ سینٹر کے اساتذہ و طلباءنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب میں مہمانوں کے اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا گیا، تاہم سیمینار کے آغاز میں تلاوت قرآن پاک و نعت بھی پڑھی گئی۔