بینکوں کی LCs کھولنے میں تاخیر سے آٹو مینوفیکچررز کی پیداوار معطل

کراچی : ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے صنعتوں کے لیے مشینری اور صنعتی خام مال درآمد کرنے کے لیے بینکوں کی جانب سے ایل سی لیز نہ کھولنے اور تاخیر کے باعث تاجر برادری کو درپیش مشکلات کا سامنا ہے ۔

اس پر تشویش کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مسلسل یہ دعویٰ کررہاہے کہ مشینری اور خام مال درآمد کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں لیکن اس کے برعکس اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بینکوں کی جانب سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ۔لہٰذا مرکزی بینک اس کا نوٹس لے اور بلا تاخیر ایل سیز کھولنے کو یقینی بنائے۔

اسماعیل ستار نے ایک بیان میں کہا کہ صنعتی استعمال کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری اور صنعتی خام مال کے لیے ایل سی نہ کھولنے کے سلسلے میں ممبر ایسوسی ایشنز اور تاجر برادری کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔

مذید پڑھیں : اسٹیٹ بینک نے 75 روپے کا یادگاری نوٹ کا ڈیزائن جاری کردیا

ایل سی کھولنے میں تاخیر کی وجہ سے فوڈ، فارما سیوٹیکل، اسٹیل، آٹوموبائلز، ٹیلی کام، ہوم اپلائنسز وغیرہ کو منفی نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعدد آٹو مینوفیکچررز نے ایل سی کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے پیداوار معطل کر دی ہے ۔ جب کہ صنعتوں کو خام مال کی قلت کا سامنا ہے جس سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

ایسے وقت میں جب پاکستان کو پہلے ہی مہنگائی کا سامنا ہے۔ صنعتوں کے لیے ضروری اشیاء درآمد کی اجازت نہ دینے سے معاشی صورتحال مزید سنگین ہوجائے گی۔حکومت اور اسٹیٹ بینک کو تجارتی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے صنعتی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

مذید پڑھیں : زائد فیس وصولی کیخلاف 4 مذید اسکولوں کیخلاف کارروائی

اسماعیل ستار نے نشاندہی کی کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدی ادائیگیوں کو کلیئر کرنے میں تاخیر کی وجہ سے صنعتی پیداوار رکاوٹ کا شکار ہو رہی ہیں۔پیداوار میں یہ تاخیر پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ پاکستان کے کاروباری ماحول میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

پاکستان میں صنعتیں درآمدات کے ذریعے خام مال کے حصول پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں لہٰذا تاخیر کے نتیجے میں برآمدات پر مبنی صنعتیں شدید نقصان سے دوچار ہیں۔معیشت کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی بہت ضروری ہے اورملک کو برآمدات سے چلنے والی معیشت کے بغیر پاکستان کا ترقی پذیر، خود کفیل معیشت بننا تقریباً ناممکن ہے۔