تاجر کا موت سے قبل آخری ویڈیو بیان جاری، قاتل کا پتہ بتا دیا

کراچی : کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پراپرٹی ڈیلر کی فلیٹ سے گولی لگی لاش برآمد ہوئی۔ متوفی سہیل کا اہم ترین موت سے قبل کا ویڈیو پیغام سامنے آ گیا، زندگی کے خدشات پر مبنی ویڈیو بیان پولیس نے قانونی کارروائی کا حصہ بنا لیا، قتل کی دفعات کے تحت تحقیقات شروع کر دیں۔

مزید پڑھیں:سیلاب متاثرین کو صاف پانی فراہمی کیلئے PTCL گروپ اور ہلال احمر پاکستان کا اشتراک

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پراپرٹی ڈیلر کی فلیٹ سے گولی لگی لاش معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ۔ سہیل کا بنگلہ کی خرید وفروخت پرتنازعہ چل رہا تھا، لاش ملنے سے قبل فلیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پرآگئی جس میں مسلح شخص سمیت تین افراد کو دیکھا گیا۔

متوفی کے لواحقین نے واقعہ پرقتل کاشبہ ظاہر کیا،متوفی کے ماموں صابر کا کہنا ہے کہ سہیل کا بنگلے کی خرید و فروخت پر تنازعہ چل رہا تھا۔ فلیٹ میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی منظرعام پر آئی جس میں جاں بحق سہیل کے ہمراہ مسلح شخص سمیت تین افرادکوآتے دیکھا گیا ۔

پولیس کے مطابق لاش کے قریب سے ملنے والی پستول اور گولی کاخول بھی تحویل میںہے، لواحقین کی جانب سے جن افراد پر شبہ ظاہر کیا ۔ ان کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:چیف آف آرمی اسٹاف سے GHQ میں جاپانی سفیر واڈا مٹسوہیرو کی ملاقات

ادھر متوفی سہیل کے موبائل سے ریکارڈ کیا گیا اہم ویڈیو بیان سامنے آیا ہے ، جس کے مطابق سہیل نے بتایا کہ میرے ماموں میری اہلیہ میرے بہن بھائی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں شدید کرب میں مبتلا ہوں اور میری جان کو خطرات ہیں ، اگرچہ مجھے کچھ ہوتا ہے اس کے ذمہ دار ایڈیشنل سیکریٹری عامر وحید خان اور پارٹنر معیز خواجہ نے پارٹنر شپ اور سرمایہ کار کے نام پر رقم ہڑپ کی ہے جو کہ میری جان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔

سہیل نے ویڈیو پیغام میں یہ بھی بتایا کہ خریدی گئی پراپرٹی پر قبضہ کیا گیا ہے جو کہ معیز خواجہ کے قبضے میں ہے ، فیز ون 5 سو گز کے بنگلے کا بھی ذکر کیا گیا۔ متوفی نے مرنے سے قبل تعاقب کرنے والی غنڈے اور مافیا بھی ذکر کیا۔

سہیل نے بتایا کہ دفتر میں اغواء کیلئے ایک گروہ بیٹھا ہوا ہے جس سے جان کو شدید خطرہ ہے۔ متوفی کی ویڈیو کے مطابق عامر وحید خان امریکہ میں مقیم ہے جو کہ مسلسل بلیک میلنگ میں ملوث ہے جس سے میری جان کو خطرہ ہے، تمام موصول شواہد کی بنیاد پر پولیس نے قتل دی دفعات آگے بڑھا رکھی ہے۔