آئی جی سندھ کا SSU اور اسپیشل برانچ کے افسران و اہلکاروں کیخلاف انکوائری کا حکم

کراچی : اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے پاکستان دورے کے دوران اسپیشل سیکورٹی یونٹ (ایس ایس یو ) کے ڈی آئی جی مقصود میمن سیکرٹری جنرل کے کمرے میں گھس گئے ، جس کے بعد وزارت خارجہ نے ایس ایس یو کے ڈی آئی جی ، ایس ایس یو اور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا خط لکھا گیا ہے ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نٹونیو گوٹیرش کے پاکستان اور کراچی کے دورے کے دوران اسپیشل سیکورٹی یونٹ (ایس ایس یو ) اور اسپیشل برانچ کی جانب سے انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور سیکرٹری جنرل کے ساتھ تصاویر بنانے کے لئے وزارت خارجہ کے کوڈ اور پولیس کے رولز کی سنگیشن خلاف ورزری کی گئی تھی ۔

 

ذرائع ابلاغ میں مذکورہ اطلاعات کے گردش کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے کے اس واقعہ پر وزارت خارجہ کی جانب سے چیف سیکرٹری سندھ کو ایک خط لکھ کر سنگشین خلاف ورزری کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے ۔

مزید پڑھیں : قادیانیوں کی عبادت گاہ پر شعائر اسلام کے استعمال پر پابندی کی درخواست پر فیصلہ 29 ستمبر کو متوقع

جس کے بعد آئی جی سندھ نے بھی وزارت خارجہ کے خط کے بعد انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔ چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کو انکوائری کی ہدایت کہ گئی ہے ۔ واقعے میں ملوث افسران کا تعین کر کے محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی ۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی کراچی آمد پر ایس ایس یو اور اسپیشل برانچ کی غیر سنجیدگی میں سب سے اہم کردار ڈی آئی جی مقصود میمن کا تھا جو سب سے پہلے کیمرہ مین کو لیکر شیلڈ لیکر اندر گئے اور تصاویر بنوانے لگے جس پر بیرون ملک سے آئے مندبین نے بھی برا منایا ۔

جس کے بعد ایس ایس یو کے مذید افسران اور اہلکار بغیر اجازت معزز مہمان کے کمرے میں گھس گئے ۔ بغیر اجازت تحائف دئیے اور غیر ملکی نشریاتی ادارے کو سیکریٹری جنرل کے انٹرویو کے دوران بھی ایس ایس یو کے اہلکار مداخلت کی کوشش کرتے رہے ۔

واضح رہے کہ ایس ایس یو کے ڈی آئی جی مقصود میمن ایس ایس یو کو شروع سے لیکر چل رہے ہیں ، جس میں ان کی خود نمائی ہمیشہ سے زیادہ رہی ہے ۔اور وہ اکثر پروٹوکول کے خلاف ورزری بھی کر جاتے ہیں ۔