قادیانیوں کی عبادت گاہ پر شعائر اسلام کے استعمال پر پابندی کی درخواست پر فیصلہ 29 ستمبر کو متوقع

کراچی : کراچی کے علاقے صدر الیکٹرانک مارکیٹ میں مرزائیوں کے جماعت خانے پر قائم شعائر اسلام کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست پر عدالت میں سماعت ہوئی ۔

پریڈی پولیس اسٹیشن کی حدود میں قائم قادیانی عبادت خانے پر گنبد و مینار ہونے سے متعلق سٹی کورٹ کراچی میں 22 ستمبر کو 22A کے لئے دی گئی درخواست پر دوسری اور اہم سماعت منعقد ہوئی ۔

درخواست گزار عبدالقادر اشرفی کے وکیل منظور احمد راجپوت ، سید احتشام ، ایڈوکیٹ فہیم اور ان کے رفقاء نے بھر پور انداز میں موقف پیش کرتے ہوئے پچھلی سماعت میں جمع کروائے گئے قادیانی موقف کا رد پیش کیا اور آئین پاکستان کی تمام شقوں کو تفصیلی انداز میں پیش کر کے فاضل جج پر واضح کیا کہ کس طرح قادیانی مکر و فریب کرتے ہوئے آئین کی من گھڑت تشریح سے خود کو محفوظ کر رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں : خبردار ! مرزائیوں نے Shezan کیساتھ PRAN کمپنی بھی متعارف کرا دی

فاضل جج نے قادیانیوں کے وکیل کو صفائی کا موقع دیتے ہوئے موقف دینے کا کہا ۔ جس کے جواب میں فریق وکیل کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کر سکے اور آئین کی غلط تشریحات سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔

درخواست گزار کے وکلاء کا کہنا تھا کہ قادیانی جن اقلیتوں کے حقوق کو اپنے حق میں دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں وہ اس وقت مانے جائیں گے ، جب قادیانی خود کو اقلیت تسلیم کریں گے ، جب کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔

فاضل جج نے دونوں وکلاء کے مکمل دلائل تفصیل سے سننے کے بعد 29 ستمبر بروز جمعرات تک فیصلہ جاری کرنے کا آرڈر کر دیا ہے ۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آج کے دلائل سے واضح ہو چکا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف اندارج مقدمہ میں اب کوئی آئینی مشکل نہیں رہی ہے ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ معزز عدلیہ ان شاءاللہ 29 تاریخ کو اندارج مقدمہ کا آرڈر جاری کر دے گی ۔

مزید پڑھیں :شادی ہال کے مالک نے منفرد مثال قائم کر دی

واضح رہے کہ 29 ستمبر کو ممکنہ طور پر فیصلہ آنے کے بعد تھانہ پریڈی میں مذکورہ عبادت خانے سے شعائر اسلام کو ہٹانے اور قادیانیوں کو اس سے اجتناب کرنے کے لئے مقدمہ درج کیا جائے گا ۔