فنائیت کے صحراء میں آوارگی کا لُطف کیا ہوتا ہے ؟

حضرت عارفی ڈاکٹر عبدالحي عارفی صاحب قدس اللہ سرہ کی زبان پر اللہ تعالٰی بڑے عجیب وغریب معارف جاری کرتے تھے
ایک دن فرمانے لگے جب پلاؤ پکایا جاتا ہے، تو شروع شروع میں ان چاولوں کے اندر جوش ہوتا ہے ، ان میں سے آواز آتی رہتی ہے اور وہ حرکت کرتے رہتے ہیں، اور ان چاولوں کا جوش مارنا، حرکت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ چاول ابھی کچے ہیں۔پکے نہیں ہیں ۔

وہ ابھی کھانے کے لائق نہیں، اور ان میں ذائقہ ہے نہ خوشبو لیکن جب چاول پکنے کے بالکل قریب ہو جاتے ہیں، اس وقت ان کا دم نکالا جاتا ہے اور دم نکالتے وقت نہ تو ان چاولوں میں جوش ہوتا ہے نہ حرکت اور آواز ہوتی ہے، اس وقت وہ چاول بالکل خاموش پڑے رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی اس کا دم نکالا، ان چاولوں میں سے خوشبو پھوٹ پڑی اور اب اس میں ذائقہ بھی پیدا ہوگیا اور کھانے کے قابل ہو گئے ۔

مذید پڑھیں : مراقبہ کے کتنے مراحل ہیں ؟

اسی طرح جب تک انسان کے اندر یہ دعوے ہوتے ہیں کہ میں ایسا ہوں، میں بڑا علامہ ہوں، میں بڑا متقی ہوں، بڑا نمازی ہوں! چاہے دعوے زبان پر ہوں، چاہے دل میں ہوں اس وقت تک اس انسان میں نہ خوشبو ہے اور نہ اس کے اندر ذائقہ ہے. وہ تو کچا چاول ہے ۔

اور جس دن اس نے اللہ تعالٰی کے آگے اپنے ان دعوؤں کو فنا کر کے یہ کہہ دیا کہ میری تو کوئی حقیقت نہیں، میں کچھ نہیں اس دن اس کی خوشبو پھوٹ پڑتی ہے اور پھر اللہ تعالٰی اس کا فیض پھیلاتے ہیں ۔ ایسے موقع پر ہمارے ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کیا خوبصورت شعر پڑھتے تھے کہ

میں عارفی، آوارہ صحراء فنا ہوں
ایک عالم بے نام ونشاں میرے لیے ہے

یعنی اللہ تعالٰی نے مجھے فنائیت کے صحراء میں آوارگی عطاء فرمائی ہے اور مجھے فنائیت کا درس عطاء فرمایا۔ اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے ہمیں بھی عطاء فرما دے۔ آمین