ٹرانس جینڈر ایکٹ : مغالطہ و مخاصمہ

ٹرانس جینڈر کے نام سے ایک ایکٹ ہمارے ہاں حالیہ کچھ عرصہ سے نافذ ہے۔ اس قانون کے حوالے سے سب سے بڑی غلط فہمی یہ پھیلائی جا رہی ہے کہ اس قانون کا مقصد خواجہ سرا کمیونٹی کا تحفظ ہے۔ جو لوگ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں در حقیقت وہ خواجہ سرا کے حقوق کے تحفظ کے خلاف ہیں۔ بنیادی طور پر ایک بات سمجھنی کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالٰی نے صرف دو جنسیں بنائی ہیں: ایک مرد دوسری عورت۔ اس کے علاوہ کوئی تیسری جنس نہیں ہے۔ خواجہ سرا در اصل اسی جنس کا حصہ اور معاشرے کے معذور افراد میں سے ہیں، جیسے کوئی شخص پیدائشی دیکھنے، سننے یا بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے اسی طرح یہ ایک صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس صلاحیت سے محرومی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ مرد و عورت سے الگ کوئی جنس ہیں، بلکہ وہ اسی معاشرے اور قوم کا حصہ ہیں اور معذور افراد میں شمار ہوتے ہیں۔

فقہائے کرام جب ان کے احکامات بیان کرتے ہیں تو ان کو الگ جنس قرار نہیں دیتے بلکہ جس میں مردوں کی نشانیاں زیادہ ہوں اس کو مرد، جس میں عورتوں کی زیادہ نشانیاں ہوں تو اس کو عورت قرار دے کر مرد و عورت والے تمام احکامات لاگو کرتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خواجہ سرا ہونا کوئی الگ جنس نہیں ہے بلکہ اللہ کی تخلیق شدہ دونوں اجناس میں سے ایک جنس ہے۔

اب اس ایکٹ کی طرف آئیے: اس کا نام ہی ٹرانس جینڈر ہے جس کا معنی ہے: "جنس کو تبدیل کرنا”۔ خواجہ سرا میں جنس کو بدلنا نہیں ہوتا بلکہ جنس کی تعیین مقصود ہوتی ہے۔ جنس کی تبدیلی مرد و عورت میں ہوتی ہے، یہ نام ہی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بل کا مقصد خواجہ سرا کے حقوق کا تحفظ نہیں ہے بلکہ پس پردہ مرد و عورت کو اپنی جنس کی تعیین و تبدیلی کا اختیار دینا ہے۔ جہاں تک خواجہ سرا کے حقوق کی بات ہے، اس پر تو تمام طبقات متفق ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے اور امتیازی سلوک کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

مذید پڑھیں : ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کا اردو متن

موجودہ قانون سے جھگڑا خواجہ سرا کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس قانون کا مقصد جنس کی تفریق کو ختم کر دینا ہے، یعنی جو خود کو مرد کہلوانا چاہے تو وہ اس کی مرضی ہے اور اگر کوئی مرد خود کو عورت کہلوانا چاہتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اس جنسی تفریق کا مقصد مرد و عورت کے درمیان قائم کردہ شرعی خلیج کو ختم کرنا ہے اور ہم جنس پرستی و فحاشی کا فروغ ہے۔ یہ قانون دین، آئین پاکستان اور بنیادی انسانی حقوق کے مخالف ہے۔ آئین پاکستان اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کی جائے گی جبکہ انسانی حقوق اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ ہر ایک مذہب کو اپنے عائلی و خاندانی مسائل اپنے مذہب و دین روایات کی روشنی میں حل کرنے کا حق ہے، کسی کو اس میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔

ہم جنس پرستی کی دینی حیثیت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ تمام آسمانی تعلیمات میں حرام رہی۔ چنانچہ اس قبیح فعل کا قومی سطح پر آغاز سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا، وہ اپنی خواہشات مردوں سے ہی پوری کرتے حتی کہ لوط علیہ السلام کی طرف سے اپنی بیٹیوں سے نکاح کی پیشکش کے باوجود ان کا رجحان مردوں کی جانب ہی رہا۔ وعظ و نصیحت اور پیغمبر کے ڈرانے سے جب یہ لوگ اپنے عمل سے باز نہ آئے تو اللہ نے ان کی بستیوں کو الٹ دیا اور اللہ کی طرف سے نشان زدہ پتھروں کی ان پر بارش کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس خوف کا اظہار فرمایا وہ قوم لوط کی بد فعلی کا عمل ہے۔

اس بل کے خلاف آج پوری قوم اس لئے سراپا احتجاج ہے کہ اس عمل کو قانون کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے، اور اس جرم کے عادی مجرموں کو سزا کی بجائے قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، جس لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ معاشرے میں ہم جنس پرستی اور فحاشی منظم انداز میں حکومتی سرپرستی میں کی جائے گی۔

مذید پڑھیں : چکرا گوٹھ ہائیڈرنٹ کے قیام سے DHA میں قلتِ آب بڑھ گئی

اس قبیح فعل کو اس طرح سرکاری و قانونی سطح پر نافذ کرنا قرآن و سنت، آئین پاکستان اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جسے کوئی بھی غیور مسلمان کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا۔ اس ایکٹ کے خلاف سینیٹر مشتاق احمد صاحب و دیگر حضرات ترمیمی بل لا رہے ہیں، پوری قوم ان کو حمایت کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کرنا چاہئے تاکہ اس برائی کا سد باب کیا جا سکے ۔