میری گواہی

اس علاقے میں جو بھی آدمی جاتا وہاں کے مکیں اس سے سب کچھ چھین لیتے ، کپڑے اتار دیتے اور سر عام بد فعلی کرتے بازار سجے ، گھروں کے چولہے دہکتے اور مردوں کو للچائی نظروں سے دیکھتے مرد اور حد یہاں تک کہ عورتیں بھی اس فعل میں برابر کی شریک ہوتیں۔

حتیٰ کہ اک مرد مومن کے گھر خوبصورت جواں لڑکے مہماں ہوئے تو اس کی اپنی بیوی نے ہی سبھی کو خبر کی اور سب اکٹھے ہو کر گھر کے دروازے کو توڑنے کے درپے ہو گئے۔ ان کے ذہنوں پہ وہ لڑکے اور نفسوں میں بدفعلی کا شیطانی الاؤ دہک رہا تھا۔

اس رات اللہ نے اس گھر والوں کی مدد کی اور اگلی صبح جانتے ہیں کیا ہوا۔

گلیوں میں چہل پہل تھی چند ادھر سر جوڑے ان لڑکوں کے لئیے غلیظ منصوبے بنا رہے تھے، کچھ دوسری طرف ٹھٹھے میں دھن آنے والے وقت سے بے خبر تھے۔ جب اچانک روئے زمین کا صرف اتنا ٹکڑا اوپر ہوا میں بلند ہوا، اوپر اور اوپر یہاں تک کہ ان کی آوازیں اسمان پہ موجود فرشتوں نے بھی سنی اور پھر الٹا کر زمیں پہ دے مارا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اتنی شدت سے کہ وہ زمیں سے 400 فٹ نیچے گہرائی تک پہنچا اور پانی نکل آیا۔

قہر الہی یہیں نہیں رکا کچھ لوگ جو رہ گئے ان پہ اچانک اسمان سے پتھر برسنے لگے یوں کہ ہر پتھر نشان زدہ ، جس کے حصے کا تھا اسی کو لگا ان کا یہ فعل اس قدر غلیظ تھا کہ جس پانی نے اس فحش انسانوں کی لاشوں کو ڈھانپا اس میں پھر رہتی دنیا تک کوئی جاندار سانس نہ بھر سکا اور بحر میت / مردار کہلایا۔

یہ قوم لوط تھی، آج پھر ہمارے ہاں یہی موضوع زیر بحث ہے ٹرانس جینڈر اللہ کی دی گئی جنس پہ نہ راضی ہونے والے اور ہیجڑے اللہ کی دی گئی عطا پہ کچھ بھی نہ کر سکنے والے دو الگ الگ گروہ ہیں ۔ ۔ ۔

ٹرانس جینڈر قانون میں لواطیت کے لئیے وسیع مواقع رکھ دئیے گئے ۔ ۔ ۔  اور روشن خیالی ، تعلیم یافتہ ، اور مہذب انسانیت کا ٹھپہ لگوانے کے لئیے اس کی حمایت مت کیجئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیے۔

جہاں تک ہو سکے اپنے آس پاس اس بدفعلی ، لواطیت کے خلاف ڈٹ جائیے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیے اور اک بات میرے احتجاج کے گواہ رہئیے میری گواہی دیجئے۔