ایسٹ انڈیا کمپنی سے ‘آئی ایم ایف’ تک

تحریر: درویش

یہودی خاندان روتھ شیلڈ کی طرف سے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی اور پھر اسکی نئی شکل آئی ایم ایف کے ذریعے برصغیر کی لوٹ مار جاری ہے۔ شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ یورپ اور امریکہ پہلے سے ہی ترقی یافتہ اور ترقی یافتہ ہیں اور ہم اب بھی ایک ترقی پذیر اور غریب ملک ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے!

برصغیر ہزاروں سالوں سے یورپ اور امریکہ کی نسبت ایک انتہائی ترقی یافتہ اور خوشحال خطہ تھا۔ انگریزوں نے برصغیر کے ساحلوں پر قدم رکھا اور یہاں لُوٹ مار کا وہ سلسلہ شروع کیا جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے اور انگریزوں کی وجہ سے ہے کہ برصضیر آج تک پسماندہ خطہ ہے۔

انگریزوں نے دنیا کے امیر ترین خطے کو، جو اورنگزیب عالمگیر کے دور 1707ء تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت، یہاں تک کہ آج کے امریکہ سے بھی بڑی معیشت تھی اور دنیا کی کُل ‘جی ڈی پی’ کا 25 فیصد پیدا کر رہا تھا، دنیا کے غریب خطے میں تبدیل کردیا۔ انگریز برصغیر میں ایک سراسر بے شرم اور انسانی تاریخ کی بدترین چوری میں ملوث تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کو 1600ء میں بھارت کے ساتھ تجارت کا چارٹر دیا گیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے تاجروں کے طور پر آوارہ، چور اور بحری قزاقوں کے گروہ برصغیر بھیجنے شروع کردیئے۔ یہ لٹیرے اور آوارہ برطانوی گروہ برصغیر کے ساحلوں پر اترے اور کمپنی کے توسط سے قتل، ظلم اور لُوٹ مار کی۔

مشہور یہودی خاندان روتھ شیلڈ برصغیر میں لوٹ مار کرنے والی اس ٹریڈنگ کمپنی برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی مالک تھی۔ 1708ء میں ناتھن میئر روتھ شیلڈ نے برطانوی خزانے کو 32 لاکھ پاؤنڈ قرض دے کر تجارت کے تمام حقوق خرید لئے اور اس کے بعد ہی ایسٹ انڈیا کمپنی کی برصغیر میں عسکری سرگرمیوں اور قبضے کا آغاز ہوا۔

1857ء میں یہودی روتھ شیلڈ فیملی کے زیر کنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی نے سلطنت برطانیہ میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا۔ بنگال فتح کرنے کے بعد روتھ شیلڈ خاندان کا واحد مقصد بنگال کے ان گنت امیروں کو بے شرمی سے لُوٹنا تھا جو اس وقت پوری دنیا کا امیر ترین صوبہ تھا اور جس کی دولت کا اس وقت پورا یورپ مل کر بھی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

روتھ شیلڈ فیملی کے زیر کنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بنگال اور برصغیر کو لفظی طور پر موت اور ویرانی کے قبرستان میں تبدیل کردیا گیا۔ خوراک کی لوٹ مار سے مصنوعی قحط اور بیماریوں کے ذریعے لاکھوں غریبوں کا خاتمہ کیا گیا۔ نوابوں اور راجوں اور زمینداروں کے انمول خزانوں کو لوٹ لیا گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کی مالک اس یہودی روتھ شیلڈز فیملی نے بنگال اور دیگر برصغیر کے لوگوں سے لوٹی ہوئی سینکڑوں ہزاروں ٹن سونے اور دولت کے اس ذخیرے کو لندن منتقل کیا۔ بنگال اور دیگر برصغیر سے لوٹے گئے اس سونے اور مال و دولت سے یہودی روتھ شیلڈ فیملی نے انگلینڈ کے نجی ملکیت والے بینک، بینک آف انگلینڈ کو قائم کیا۔

اس نے انگلینڈ کو سپر پاور بننے کا موقع فراہم کیا اور اس طرح انگلینڈ کی ترقی کی بنیادیں برصغیر سے لوٹی گئی دولت کی بنیاد پہ رکھی گئیں۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں برصغیر کی لوٹ مار کی دولت سے امیر ہونے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کی یہودی مالک روتھ شیلڈ بینکنگ فیملی نے فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ قائم کرکے امریکہ کو سپر پاور بنایا جو آج تک امریکی عوام کی دن کی روشنی میں ڈکیتی، دنیا بھر میں جنگوں، اسلحے کی تجارت اور دہشت گردی میں ملوث ہے اور آج بھی امریکا کا حقیقی مالک ہے۔ اس کے بعد اس یہودی خاندان Rothschilds نے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور Bank of international settlements قائم کیا۔

اس یہودی روتھ شیلڈ فیملی نے اب برطانوی شاہی خاندان اور یورپ کے بہت سے شاہی خاندانوں میں شادیاں کیں اور جدید یورپ و امریکہ درحقیقت ان کے غلام اور کٹھ پتلیاں ہیں۔ یہ یہودی خاندان روتھ شیلڈز تیسری دنیا اور پاکستان کی عوام کی لوٹ مار جاری رکھنے کے لئے اپنی خفیہ معاونت سے عالمی بینک، آئی ایم ایف جیسے لٹیرے بنکوں کے ذریعے تیسری دنیا اور پاکستان کے کرپٹ حکمرانوں کو سودی قرضے دے کر ان کو غلامی، ٹیکسوں اور مہنگائی میں جکڑتا ہے اور ان کی معیشتوں کو تباہ و برباد کر کے ان کو مغرب کا غلام بنائے رکھتا ہے اور اس طریقے سے ان پہ مرضی کے حکمران اور فیصلے مسلط کرتا ہے جس سے یہ ممالک آج تک تباہی و بربادی کا شکار اور ترقی کرنے سے قاصر ہیں۔ پاکستان کی کروڑوں عوام غربت کی لکیر سے نیچے جب کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے والی پارلیمنٹ سیاستدانوں سے بھری پڑی ہے جو کروڑ پتی ہیں اور ان کے ذریعے ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا روپ یعنی آئی ایم ایف آج تک برصغیر خصوصاً پاکستان کو لُوٹ رہا ہے۔