نائب قاصد EOBI ، محمد اکرم فرض شناسی کی مثال

اسرار ایوبی
سابق افسر تعلقات عامہ EOBI

محمد اکرم اگرچہ ادارہ میں نائب قاصد گریڈ 2 کے ملازم ہیں لیکن ان کی اصل ذمہ داری ہیڈ آفس کے ڈسپیچر کی ہے وہ گزشتہ دنوں آفس سے اپنے گھر کورنگی جاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل پر سلپ ہوگئے تھے جس کے باعث انہیں شدید چوٹیں آئیں اور ان کے دائیں ہاتھ میں فریکچر بھی ہوگیا تھا ۔

چونکہ محمد اکرم کا کام ہی ہیڈ آفس میں روزانہ موصول اور روانہ ہونے والی ڈھیروں کی تعداد میں ڈاک اور پارسلوں کی انٹری کرنا ہے لیکن اپنے دائیں ہاتھ میں فریکچر کے باوجود وہ گھر پر آرام کرنے کے بجائے فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں

واضح رہے کہ محمد اکرم کی تعلیمی قابلیت انٹر میڈیٹ ہے اور وہ چند برس قبل گریجویشن بھی کر رہے تھے لیکن ایک پیپر رہ جانے اور ادارہ میں ترقی کا کوئی موقع نہ ہونے اور دل برداشتہ ہونے کے باعث ان کی گریجویشن مکمل نہ ہوسکی ۔ وہ دفتری امور اور ٹیبل ورک میں وسیع تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں اور ایک طویل عرصہ سے ہیڈ آفس میں ڈسپیچر کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے چوری شدہ مال کا بدنام زمانہ چور بازار دوبارہ قائم

لیکن اس کے باوجود محمد اکرم ادارہ کے ایک نظر انداز شدہ ملازم ہیں اور گزشتہ 25 برسوں سے نائب قاصد کے نائب قاصد ہی چلے آرہے ہیں اور ای او بی آئی کے دیگر پرانے اور تجربہ کار اسٹاف ملازمین کی طرح اپنی جائز ترقی سے محروم ہیں

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ای او بی آئی کو گزرتے وقت کے ساتھ افسران کی فوج در فوج پر مشتمل ایک ایسا ادارہ بنادیا گیا ہے ۔ جہاں افسران اور اسٹاف ملازمین کی دفتری ذمہ داریوں میں اگرچہ کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔ بلکہ ای او بی آئی میں تو میٹرک پاس، ایم اے اردو، ایم اے پنجابی اور مشکوک اور جعلی ڈگریوں والے سفارشی اور بااثر افراد بھی اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کے کلیدی عہدوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں ۔

لیکن افسوس صد افسوس ادارہ میں ریڑھ کی ہڈی حیثیت رکھنے والے سینکڑوں کمزور اور مجبور اسٹاف ملازمین دو اور تین دہائیوں تک محنت اور تندہی سے خدمات انجام دینے کے باوجود اپنی جائز ترقیوں سے محروم چلے آرہے ہیں کیونکہ ای او بی آئی میں انتظامیہ کی جانب سے اسٹاف ملازمین کی ترقیوں کے لئے کوئی باقاعدہ پالیسی مقرر نہیں ہے ۔

انتظامیہ کی جانب سے ادارہ کے محنتی اسٹاف ملازمین کے ساتھ سوتیلی والے سلوک باعث ادارہ کے سینکڑوں مستحق اسٹاف ملازمین اپنی جائز ترقی کی حسرت لئے ملازمت سے ریٹائر ہوچکے ہیں یا اس دنیا ہی سے رخصت ہوچکے ہیں ۔