کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے چوری شدہ مال کا بدنام زمانہ چور بازار دوبارہ قائم

کراچی : کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون سے چوری شدہ مال کا بدنام زمانہ چور بازار دوبارہ قائم ہو گیا ، چور بازار سکھن تھانہ کی حدود 52A اسٹاپ پر ہے ، میڈیا میں خبروں کی اشاعت پر یہ بازار بند کر دیا گیا تھا ۔

مبینہ طور پر چور بازار والوں نے ہیڈ محرر سے معاملات طے کرنے کے بعد دوبارہ غیر قانونی دھندہ دھڑلے سے شروع کر دیا ہے ۔ فی دکان دس ہزار روپے رشوت منشی رانا زاہد کے ذریعے وصول کرنے کی اطلاعات ہیں ۔

ایکسپورٹ پروسیسنگ زون لانڈھی کی فیکٹریز کو مال درآمد کرنے کے بعد دوبارہ ایکسپورٹ کرنا ہوتا ہے اور اس پر انہیں ٹیکس میں مکمل چھوٹ دی جاتی ہے لیکن فیکٹری مالکان افسران کی ملی بھگت سے یہ سامان غیر قانونی طور پر کراچی کی لوکل مارکیٹ میں فروخت کر کے بھاری نفع کماتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : چکرا گوٹھ میں DHA کی لائن پر ایک اور ہائیڈرنٹ قائم کر لیا گیا

اس اقدام سے قانون کی سنگین خلاف ورزی کے علاوہ حکومت کو ریوینیو کی مد میں بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ سامان زون سے نکالنے کے لیئے سیکیورٹی اور کسٹم اہلکاروں کی ملی بھگت شامل ہوتی ہے ۔

قبل ازیں زون سے چوری شدہ مال شہر کے دیگرعلاقوں سے پکڑے جانے کے درجنوں واقعات منظر عام  پر آ چکے ہیں اور مقدمات بھی قائم ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اس دھندے میں ملوث افراد باز نہیں آتے اور اب تو زون کو جانے والی واحد گذر گاہ پر درجنوں دکانوں میں سرعام چوری شدہ مال کی فروخت پولیس سمیت دیگر اداروں کے لیئے کھلا چیلنج بن چکا ہے۔

درآمد شدہ سامان باہر نکلوانے اور چوروں کی سرپرستی کے حوالے سے ڈی جی ایم سیکیورٹی آصف بجارانی کا نام زبان زدعام ہے ۔ ہیڈ محرر تھانہ سکھن عنصر بلوچ نے کہا کہ وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ان کا اور ان کے منشی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نشاندھی کر سکتے ہیں تو ہم کارروائی کے لیئے تیار ہیں ۔