براعظم امریکہ میں یورپی آباد کاروں کی جانب سے کیا گیا ظلم اور قتل عام

تحریر : درویش

براعظم امریکہ کے اصل باشندوں "ریڈ انڈینز” (Red Indians) کے قتل عظیم سے پہلے براعظم امریکہ کی مقامی آبادی اس وقت کی افریقہ اور یورپ کی مجموعی آبادی کے مقابلے میں زیادہ بڑی تھی ۔ امریکہ کے قدیم باشندوں میں سے ۸۰ لاکھ افراد براہ راست جنگ میں موت کا شکار ہوئے یا پھر جنگ اور تشدد سے تعلق رکھنے والے امراض اور شکست کے باعث موت سے ہم کنار ہوئے۔ یہ ۸۰ لاکھ "سُرخ ہندی” (ریڈ انڈینز) کولمبس کے امریکہ پہنچنے کے صرف اکیس سال کے اندر ہلاک ہوئے۔ صرف دو عشروں میں اتنے بڑے پیمانے پر امریکہ کے اصل باشندوں کا قتل عام اس بہیمیت کا منظر نامہ پیش کرتا ہے جو مغربی فکر و فلسفے کے فروغ کا لازمی نتیجہ تھا ۔

کتاب Encyclopaedia of Violence Peace and Conflict Vol.II میں Genocide and Democide کے موضوع پر تحقیقات میں ثابت کیا گیا ہے کہ بیسویں صدی سے قبل معلوم تاریخ کے ایک ہزار برسوں میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد قتل کیے گئے۔ جن میں ۲۲۱ قبل مسیح اور ۱۹ویں صدی کے اختتام کے مابین تین کروڑ چالیس ہزار افراد ہلاک کیے گئے۔ افریقیوں کو غلام بنانے کے نتیجے میں ایک کروڑ ۷۰ لاکھ افراد قتل ہوئے۔ یورپی باشندوں کی آمد سے لے کر ۱۹ویں صدی کے اختتام تک نصف مغربی کرہ میں ایک کروڑ ۴۰ لاکھ افراد قتل کیے گئے۔ اس طرح یہ چار قتلِ عام تقریباً دس کروڑ افراد کا احاطہ کرتے ہیں۔

  • [انسائیکلو پیڈیا آف وائلنس، پیس کنفلکٹ تین حصے اکیڈمک پریس، ص۶۰، ۱۹۹۹ء]

ایک ہزار سال کی تاریخ میں جتنے لوگ ہلاک اور قتل کیے گئے اس سے زیادہ تعداد امریکہ کے یورپی آبادکاروں کے ہاتھوں صرف ایک صدی میں قتل کر دی گئی۔ ایک ہزار سال میں ۶ کروڑ لوگوں کا قتل عام لیکن صرف ایک صدی میں دنیا کے مہذب ترین انسانوں کے ہاتھوں جو نئی روشنی، نشاہ ثانیہ، تحریک تنویر، رومانی تحریک، عقلیت، علم، بنیادی حقوق، لبرل ازم، انسانیت، آزادی اور انسان کی خدائی کے دعوے لے کر اٹھے تھے ان کے ہاتھوں صرف ایک صدی میں نو کروڑ انسانوں کے نشیمنوں پر بجلیوں کا کارواں گزر گیا اور دنیا خاموش رہی۔

  • کتاب Dark Side of Democracy کے صفحہ 85 اور 87 پر مصنف مائیکل مین (Micheal Mann) نے لکھا ہے کہ:

"یورپی آبادکار مقامی باشندوں کو جاہل، بت پرست، ملحد، پلید، ناپاک، کیڑے مکوڑے، گنوار، کتے، بھیڑیئے، سانپ، سوئر اور بے عقل گوریلے کے نام سے پکارتے تھے۔ بھوک اور پیاس کے باعث ان باشندوں کی قوت مزاحمت ختم کر دی گئی تو ان پر بے شمار بیماریاں حملہ آور ہوگئیں جس سے یہ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرنے لگے۔ ان کی موت کا مہذب متمدن یورپی آبادکاروں کو کوئی دکھ تھا نہ افسوس نہ صدمہ اور نہ غم۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ انسان ہی نہیں تھے۔

لہٰذا انسانیت کے زمرے سے خارج لوگوں سے ہمدردی بھی خارج از امکان تھی۔ بیماریوں کے باعث مرنے والوں کی ہلاکت پر یورپی آبادکار خوشی کا اظہار کرتے اور اسے خدا کی عظیم مہربانی اور رحمت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ کلیسا جو انسانیت کا دعوے دار تھا نسل کشی کے اس عمل میں سفید فام باشندوں کا ہم خیال تھا امریکا اور آسٹریلیا میں وہ انہی آبادکاروں کا حامی رہا۔ عیسائیت قبول کرنے کے بعد بھی ان کی زندگی غم و الم سے نشاط و طرب کی طرف لوٹنے سے قاصر تھی۔ انہیں جبری مشقت کے کاموں میں شریک ہونا پڑتا، جس میں یہ جبر بھی شامل تھا کہ وہ لاطینی زبان میں طویل مناجات پڑھیں جن کا ایک لفظ بھی وہ سمجھنے سے قاصر تھے۔ اگر وہ ان امور سے چھٹکارا پانے کا سوچتے اور وہ کام یا دعا سے فرار اختیار کرتے تو انہیں کوڑے مارے جاتے اور مجبور کیا جاتا کہ وہ لاطینی زبان میں مزید مناجات کا ورد کریں۔ وہ کبھی زنجیروں میں جکڑے جاتے اور کبھی ان کے ہونٹ گرم لوہے سے داغے جاتے۔”

مذید پڑھیں : گاڑیوں پر داتا صاحب کا بورڈ لگا کر سواریاں گامے شاہ اتارنے والے ڈرائیور کون ؟

مغربی فکر و فلسفے، سرمایہ دارانہ نظام، سرمایہ دارانہ شخصیت، مذہب دشمن اقدار، تصور نفس کے خود ساختہ نظریات، الوہیت انسانی کے دعوؤں اور آخرت کے انکار کے باعث جس خلقِ جدید کی تعمیر سترہویں صدی کے بعد ہوئی اور جس کے بارے میں ایک مغربی مفکر نے کہا تھا کہ انسان تو اٹھارہویں صدی میں پیدا ہوا ہے۔ اس انسان کے کردار، اخلاق، تہذیب، شرافت، اصول، روایت اور برتاؤ کی پوری تاریخ اس ظلم کی داستان میں دیکھی جا سکتی ہے۔ براعظم امریکہ کے اصل باشندوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے، ان کی آبائی زمینوں سے ہٹانے، ان کی نسلوں کو تباہ کرنے، انہیں برباد، تہس نہس کرنے کا یہ عمل پچاس برس میں تکمیل پذیر ہوگیا تھا۔ سرخ ہندیوں کا قتل عام کرنے کے لیے خوبصورت اصطلاحیں، دل فریب نعرے، دفاع کی حکمت عملی، اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورہ اور سرخ ہندیوں کی وحشت و بربریت کی جھوٹی کہانیاں گھڑی جاتی تھیں۔ اس تمام عمل میں حکومت، ریاست، عدالت، اخبارات اور کلیسا سب ہم آواز تھے۔

  • کولمبس، امریکہ اور خونی داستان :

اسپین میں پیدا ہونے والا یہودی کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) جدید دنیا کا ہیرو تصور ہوتا ہے۔ کولمبس ہمارے نصاب میں بھی بچوں کو گذشتہ ایک صدی سے ہیرو کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے اور اس کے امریکہ کی دریافت کے کارنامے کو کسی معجزے سے کم نہیں بتایا جاتا۔ لیکن کورس کی کوئی کتاب یا تاریخ کا کوئی مضمون اس ہسپانوی جہاز ران کے ان مظالم، تشدد اور قتل و غارت کی کہانی بیان نہیں کرتا جو اس نے امریکہ کی مقامی آبادیوں پر ڈھائے تھے۔

کولمبس جب 12 اکتوبر 1492ء میں ایسپانولہ (Espanola) جزیرے پر لنگر انداز ہوا تو وہاں کے مقامی افراد نے اس کی کشتیوں کو دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا اور اسے انتہائی خوش دلی سے خوش آمدید کہا۔ لیکن مقامی افراد کی جانب سے اپنی اس خاطر مدارت کا جواب اس نے بدترین ظلم سے دیا۔ اس کے سپاہی مائوں کے سینے سے چمٹے ہوئے بچوں کو چھینتے اور انہیں چٹانوں پر پٹخ دیتے۔ جو پالتو کتے وہ اپنے ساتھ لائے تھے، ان کی خوراک کیلئے روتے بلکتے ہوئے بچوں کو ان کے آگے ڈالتے۔ وہ عورتیں جو اپنے نومولود بچوں کو دودھ پلانے میں مصروف ہوتیں ان کے پستان کاٹ دیئے جاتے۔ ایک دن اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کے حواریوں کی یاد تازہ کرنے کیلئے مقامی افراد صلیبوں پر چڑھایا۔

مذید پڑھیں : ٹرانس جینڈر اور LGBTQ کلچر کو قوت سے روکا جائے گا : سمیع الحق سواتی

اس نے اسپین کے بادشاہ کو خط لکھا تھا کہ اس علاقے میں سونا موجود ہے۔ اس نے سونے کی تلاش میں مقامی افراد کو دن رات ایسے لگایا کہ وہ پہاڑ اور زمین کھودیں اور اسے سونا ڈھونڈ کر لا کر دیں۔ ان بیچاروں میں سے جو بھی شام کو سونا لا کر نہیں دیتا تھا اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جاتے۔ کولمبس ان کے ہاتھ اور ناک کاٹ کر ان کو گلے میں پہناتا اور انہیں واپس گھروں کو روانہ کرتا۔ عورتوں کو بدترین جنسی اذیتوں سے گزارا جاتا اور اکثر تلوار یا خنجر کے دستوں سے جنسی تشدد کر کے انہیں مار دیا جاتا۔ جب کولمبس براعظم امریکہ پہنچا تو اس خطے کی آبادی تقریباً دس کروڑ کے قریب تھی، لیکن اس کے چند سالہ قتلِ عام کے بعد یہ آبادی صرف دس لاکھ رہ گئی۔ کولمبس کو ہیرو نہیں بلکہ جدید دنیا میں انسانی نسل کشی کا بانی کہا جا سکتا ہے۔

انسانوں کی نسل کشی اور انہیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کا جو رواج کولمبس نے ڈالا تھا، دنیا میں جمہوریت کی سب سے بڑی چیمپئن اور انسانی حقوق کی علمبردار، ریاست امریکہ نے بھی اپنی آزادی کے فوراً بعد اسی روایت کو قائم رکھا اور مقامی آبادی کی نسل کشی جاری رکھی۔ جارج واشنگٹن (George Washington) نے، جو امریکہ کا پہلا صدر تھا، برسرِاقتدار آتے ہی مقامی افراد (Red Indians) کے خلاف پالیسی کا اعلان کیا۔ جس کے تحت مقامی افراد سے تمام زمینیں چھین کر انہیں چھوٹے چھوٹے قبائلی علاقوں تک محدود کرنا تھا۔ 1787ء میں جارج واشنگٹن اور اس کے وزیرِ جنگ ہنری ناکس (Henry Knox) نے جب ریڈ انڈین کو زمینیں چھوڑ کر مخصوص علاقوں میں جانے کیلئے کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ واشنگٹن کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں اس نے فیصلہ کرتے ہوئے صرف ایک لفظ میں اپنا حکم نامہ جاری کیا۔ اس نے کہا "انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دو۔”

کولمبس کی اس نو دریافت شدہ سرزمینِ امریکہ پر اس کی نسل کشی کی پالیسی کو اتنا اہم سمجھا جاتا رہا کہ امریکہ کا تیسرا صدر تھامس جیفرسن، جسے امریکی ہی نہیں بلکہ یورپی اقوام بھی اس کے فلسفے اور جمہوری تصورات کی وجہ سے عزت دیتے ہیں، جب امریکی صدر بنا تو اس نے مقامی افراد سے کہا کہ وہ اس کی "برآمد شدہ” امریکی تہذیب میں خود کو ضم کر لیں ورنہ "خطرناک نتائج” کیلئے تیار ہو جائیں۔ وہ ریڈ انڈین جو صدیوں سے اپنی ایک تہذیب اوڑھے ہوئے تھے، انہوں نے انکار کیا تو پھر توپوں کی گھن گرج اور گولیوں کی بوچھاڑ نے انہیں بھون کر رکھ دیا۔ جس وقت امریکہ میں یہ نسل کشی ہو رہی تھی برصغیر پاک و ہند میں 1870ء میں لارڈ لٹن یہاں کا سارا غلہ برطانیہ اور دیگر عالمی مارکیٹ میں بھیج کر ایک ایسا مصنوعی قحط پیدا کر چکا تھا، جس سے ایک اندازے کے مطابق تین کروڑ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

یہ کہانیاں یا افسانے نہیں، خونچکاں داستانیں اور تاریخ کے خون آلود دھبے ہیں۔ لیکن برصغیر کا لبرل ‘دانشور’ طبقہ کہے گا کہ جب ہم محکوم اور بے وسیلہ تھے تو مغرب ایجادات کر رہا تھا، یونیورسٹیاں بنا رہا تھا۔ لیکن کوئی اس ظلم کی داستانیں بیان نہیں کرتا ہے اور نہ ہی ہمارے بچوں کو یہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ اس نصابِ تعلیم کا اعجاز یہ ہے کہ برصغیر کے بچوں کے نزدیک کولمبس ایک عظیم ہیرو ہے اور امریکی ایک عظیم قوم۔