ملکہ الزبتھ کا پاکستان سے کیا تعلق تھا ؟

پاکستان کی سابق ملکہ وفات پا گئیں …  ملکہ الزبتھ دوم 1926 کو پیدا ہوئیں اور 8 ستمبر 2022 کو 96 سال کی عمر میں وفات پا گئیں …

ملکہ الزبتھ دوم پاکستان کی دوسری ملکہ تھیں… آپ 1952 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کی ملکہ رہیں… ان سے قبل جارج ششم 1947 سے 1952 تک پاکستان کے بادشاہ رہے …

پاکستان 14 اگست 1947 کو انتظامی لحاظ سے برطانیہ سے آزاد ہوا تھا … لیکن آئینی لحاظ سے ہم آزاد نہیں ہوئے تھے … بلکہ ہم 23 مارچ 1956 تک برطانوی بادشاہت کے ماتحت تھے …

اس کی وجہ یہ تھی کہ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت پاکستان کا اپنا کوئی آئین نہیں تھا … عارضی طور پر برطانیہ کا دیا ہوا انڈین ایکٹ 1935 ترمیم کے بعد پاکستان میں نافذ کیا گیا تھا …

اسی لیے قائد اعظم نے 14 اگست 1947 کو صدر پاکستان کی بجائے گورنر جنرل کا حلف لیا تھا اور گورنر جنرل پاکستان میں برطانوی بادشاہ کا نمائندہ تھا …

مذید پڑھیں : کیا ملکہ الزبتھ آل رسول تھیں؟

انڈیا میں بھی یہی صورت حال تھی … وہاں کا گورنر جنرل بھی انڈیا میں برطانوی بادشاہ کی نمائندگی کرتا تھا …. انڈیا نے جلدی اپنا آئین بنا لیا اور برطانوی بادشاہت سے آزاد ہو گیا … اور ان کا گورنر جنرل اپنے آئین کے تحت انڈیا کا صدر بن گیا …

لیکن پاکستان میں صورتِ حال مختلف تھی ….ہم آزاد ہونے کے 9 سال تک اپنا آئین نہ بنا سکے … اس لیے پاکستان میں گورنر جنرل 9 سال تک برطانوی بادشاہت کا نمائندہ رہا اور گورنر جنرل برطانوی بادشاہ کو جواب دہ تھا ۔

پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائدِ اعظم محمد علی جناح تھے … پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین تھے … پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل غلام محمد تھے … پاکستان کے چوتھے گورنر جنرل سکندر مرزا تھے … جب پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ 1956 کو ملک میں نافذ کیا گیا تو اس وقت پاکستان کے آئین کے تحت چوتھے گورنر جنرل سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بنے …

پاکستان کی تاریخ لکھنے والوں نے بھی اپنی زمہ داریاں پوری نہیں کیں … اسکولوں بلکہ تمام تعلیمی اداروں میں یہ بات طالب علموں کو نہ بتائی جاتی ہے ، نہ پڑھائی جاتی ہے یہاں تک کہ پڑھانے والوں کو بھی اس کا علم نہیں …

پاکستان کی ہسٹری لکھتے وقت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے … 14 اگست 1947 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کے آئینی سربراہ کی ہسٹری کو غائب کر دیا گیا ہے …

مذید پڑھیں : 6 ارب ڈالرز کا جنازہ !

قوم کو اور طالب علموں کو یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ قائدِ اعظم نے 14 اگست 1947 کو گورنر جنرل کا حلف کیوں اٹھایا وہ صدر پاکستان کیوں نہ بنے …

14 اگست 1947 سے 23 مارچ 1956 تک برطانیہ کا بادشاہ ہی پاکستان کا آئینی سربراہ تھا اور گورنر جنرل پاکستان میں برطانوی بادشاہ کا نمائندہ تھا ۔ ۔ ۔  پاکستان کا پہلا بادشاہ جارج ششم تھا ، جو 14اگست 1947 سے 1952 اپنی وفات تک ہمارا بادشاہ رہا … اس کی وفات کے بعد 1952 سے 23 مارچ 1956 تک ملکہ ازبتھ دوم ہماری ملکہ رہیں …

یہ بات پاکستان کے بہت سارے پڑھے لکھے لوگوں کو معلوم ہی نہیں اور آجکل کی نسل کو تو بلکل بھی معلوم نہیں نہ کوئی بتاتا ہے …