کتنے مرد اور عورتوں نے اپنی جنس تبدیل کرائی ؟ حیران کن اعداد و شمار

ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018 کو ملک بھر میں لاگو کر دیا گیا ہے ،  جس قانون کے تحت کوئی بھی مرد یا عورت اپنی جنس تبدیل کر سکتا ہے اور باقاعدہ طور پر نادرہ سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کر سکتا ہے ۔

اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں غیر اسلامی قانون کا نفاذ کرنے کی جرات کوئی کیسے کر سکتا ہے لیکن جب اپنے مغربی آقاؤں نے سر پر ہاتھ رکھا ہو اور ان سے بھاری رقم وصول کی ہو تو پھر ایسے قانون لانے پڑتے ہیں ۔

اس قانون کے نفاذ کی کوششیں کوئی آج سے جاری نہیں ہیں بلکہ نون لیگ کی پچھلی حکومت میں یہ قانون پاس کرنے کا بل پیپلز پارٹی نے پیش کیا اور پی ٹی آئی اور نون لیگ نے اس کو تسلیم کیا، پی ٹی آئی کی حکومت میں 2018 میں یہ قانون پاس کیا گیا اور سینیٹ میں سب جماعتیں اس پر متفق ہیں ۔

یاد رکھیں اگر کوئی عورت اپنی جنس تبدیل کروا کر مرد رکھوا لیتی ہے تو وہ وراثت کے اسلامی نظام کے بھی خلاف جائے گی اور مرد کے برابر حصہ وصول کرے گی ۔

مذید پڑھیں : ٹرانس جینڈر کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں

ٹرانسجینڈر ایکٹ کی آڑ میں ہم جنس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اس قانون کو ایل جی بی ٹی کیو پلس ایجنڈے کے تحت ہم جنس پرستوں کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

اب تک اس قانون کے ذریعے 28723 لوگ اپنی جنس شناختی کارڈز پر بھی تبدیل کروا چکے ہیں ۔ جن میں 16530 عورتیں اور 12154 مرد شامل ہیں ۔

دستیاب ریکارڈ حیران کن حد تک تشویشناک ہے۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے تحت جون 2018 سے جون 2021 تک 16530 مردوں نے سرجری کے ذریعے خود کو عورتوں میں تبدیل کرایا ۔ 12154 عورتیں مردوں میں تبدیل ہوئیں ۔21 ٹرانس جینڈر مردوں میں اور 9 آدمی ٹرانس جینڈر میں تبدیل ہوئے اور 9 ٹرانس جینڈر نے عورتوں میں خود کو تبدیل کرایا۔ جبکہ حقیقی خواجہ سرا وہ جن کی پیدائش کے وقت اعضا میں ابہام ہو۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ!

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی جماعتیں باہر عوام کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں نکال رہے ہوتے ہیں اور اسمبلی میں پہنچ کر سب ایک ہو جاتے ہیں ۔ سارے ہی مغرب کے غلام ہیں اور باہر آ کر مختلف رنگوں سے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔

لیکن ہماری پاکستانی عوام ستر سالوں سے ان کو پہچان نہیں سکی یہ رنگیلے ایسے ٹکرے ہیں کہ کوئی بھی اسلام مخالف قانون پاس کرنے پر نہیں بولتا سب خاموشی سے تسلیم کر لیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں : ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے پیچھے LGBT کا کیا ایجنڈا ہے ؟

کیا ان سیاستدانوں کی دشمنی صرف اسلام اور اسلام پسند جماعتوں سے ہی ہے ۔ ؟ پاکستانی عوام جاگ جائیں اس سے پہلے کہ یہ آپ کے ایمانوں کا سودا بھی کر بیٹھیں ان رنگیلوں سے اپنے ایمان بچائیں ۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ کون اس قانون کی مخالفت کرے گا اور کون کون حمایت میں آئے گا ۔

یاد رکھیں ! جو بھی اس قانون کی مخالفت میں آجائیں تو سمجھ لیں کہ یہ واقعی اسلام پسند ہیں اور ان کے ساتھ وابستہ ہو جائیں ۔ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔