قدرتی وسائل، مسلم ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں

تحریر: درویش

مسلم ممالک قدرتی ذخائر بالخصوص پیٹرول سے مالامال ہیں، لیکن ان وسائل پر دوسری طاقتوں اور کمپنیوں کا کنٹرول ہے۔ دوسرے ممالک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا راج ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنی ایسی کمپنی کو کہا جاتا ہے جس کا ہیڈکوارٹر تو کسی ایک ملک میں ہو اور اس کا کاروبار کم از کم چالیس پچاس ممالک میں پھیلا ہو۔

ساری بڑی کمپنیوں کی مصنوعات دنیا بھر کے مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ، سگریٹ اور کولڈ ڈرنک دنیا بھر کے مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ چند بڑی سگریٹ ساز کمپنیوں میں سے ایک ‘فلپس مورس’ ہے جو یہودیوں کی ملکیت ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی: پاک انگلینڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پارکنگ اور ٹریفک پلان جاری

کوکا کولا کمپنی کا کاروبار ۲ سو ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ ۱۹۹۷ء میں اسرائیل نے کوکاکولا کو اس کی خدمات کے اعتراف میں اسرائیل ٹریڈ ایوارڈ عطا کیا تھا۔ حکومت اسرائیل کے اقتصادی مشن نے کوکا کولا کو اسرائیل ٹریڈ ایوارڈ ڈنر میں پچھلے ٣۰ سالوں سے اسرائیل کی مسلسل حمایت اور عرب لیگ کی طرف سے اسرائیل کے بائیکاٹ کی پابندی کرنے سے انکار کرنے پر اعزاز سے نوازا ۔

حیرت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیل مسلم ممالک پیدا کرتے ہیں، لیکن ایک بھی ملٹی نیشنل کمپنی ان کی نہیں ہے۔ براعظم جنوبی امریکہ کا ملک وینزویلا واحد غیر مسلم ملک ہے جو کم مقدار میں تیل پیدا کرتا ہے لیکن چونکہ وہ غیر مسلم ملک ہے تو اس لیے نہ صرف وہاں آئل کمپنی قائم ہے بلکہ اس کو دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب میں انٹرنیشنل شیف کمپیٹیشن میں پاکستانی خاتون حنا شعیب کی تیسری پوزیشن

وینزویلا کی آئل کمپنی کا شمار دنیا کی ۵ سو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ ان ۵ سو بڑی کمپنیوں میں ۲۰ سے زائد ایسی امریکی کمپنیاں ہیں جو مسلم ممالک سے تیل لے کر فروخت کرتی ہیں۔ تیل کی خرید و فروخت سے ان کمپنیوں کے اثاثہ جات کی مالیت سعودی عرب کی پانچ برس کی تیل کی کُل فروخت کے برابر ہے ۔