انٹر بورڈ کے ٹویٹر پیج نے میٹرک بورڈ کی ادھوری خبر دے دی

کراچی : انٹر بورڈ کراچی کے مبینہ آفیشل اکاونٹ سے میٹرک بورڈ کے نتائج سے متعلق ایک خاتون کی تصویر لگا کر خبر چلائی گئی ہے کہ تین بچوں کی ماں نے میٹرک بورڈ میں پوزیشن حاصل کر لی ۔ جب کہ میٹرک بورڈ کے نتائج میں ایسی کوئی طلبہ نے امتحان میں حصہ ہی نہیں لیا ۔

تفصیلات کے مطابق بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کے نام سے منسوب ’’ آفیشل ٹویٹر اکاونٹ ‘‘ سے 18 ستمبر کو 2 بجکر 49 منٹ پر ایک ٹویٹ کی گئی جس میں تصویر کے ساتھ کیپشن دیا گیا ہے کہ ” تین بچوں کی ماں نے 10ویں جماعت کے امتحانات میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر لی ۔

تاہم آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ سے شائع اس خبر کے بعد صحافتی حلقوں میں تشویش پایا گیا کہ میٹرک کے حالیہ سائنس ، جنرل اور مخصوص طلبہ کے نتائج میں ٹاپ تین پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات میں ایسی کوئی طالبہ نہیں تھی ، پھر یہ طالبہ کہاں سے آ گئی ؟ ۔

مذید پڑھیں : خبردار ! مرزائیوں نے Shezan کیساتھ PRAN کمپنی بھی متعارف کرا دی

تاہم اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پیج انٹر میڈیٹ کا نہیں ہے ۔ یہ تصویر سری نگر جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑی کی ایک خاتون صبرینا خالق کی ہے ۔ جس نے میٹرک بورڈ میں پرائیویٹ امتحان دیکر پوزیشن حاصل کی ہے ۔ صبرینا خالق نے 500 میں سے 467 نمبر لیکر 93.4 فیصد سے پوزیشن حاصل کی ہے ۔

صبرینا خالق نے نویں جماعت کا امتحان 2012 میں دیا تھا ، جس کے بعد اس کی شادی 2013 میں ہو گئی اور وہ تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکیں اور اب 2022 میں دسویں کا پرائیوٹ امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی ہے ۔

ادھر انٹر بورڈ کے اکاونٹ سے خبر شائع ہونے کے بعد بعض صارفین نے انٹر بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنابا ہے کہ انٹر بورڈ کا پیج ہے اور دسویں کے امتحانات کی خبر دے رہے ۔ تاہم ساتھ ہی اکثر صارفین نے خاتون کی اس ہمت پر داد دی ہے ۔ ہزاروں افراد نے انٹر بورڈ کے پیج سے اس خبر کو شیئر کیا ہے ۔

مذید پڑھیں : سعودی عرب میں انٹرنیشنل شیف کمپٹیشن میں پاکستانی خاتون حنا شعیب کی تیسری پوزیشن

واضح رہے کہ میٹرک میں اکیس سال سے زائد العمر کو ریگولر میں امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ادھر انٹر بورڈ کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ ہمارا پیج نہیں ہے اور ہم نے ایف آئی اے سائبر کرائم کو لکھ کر دیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

بعد ازاں انٹر میڈیٹ بورڈ کے ترجمان عارف منور نے انٹر بورڈ کی جانب سے وضاحت جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ پیج انٹر بورڈ کا نہیں ہے ۔