قادیانی جماعت خانے پر شعائر اسلام کے استعمال پر اہم سماعت

کراچی : قادیانی جماعت خانے پر شعائر اسلام کے استعمال پر سٹی کورٹ میں اہم سماعت ہوئی ، جس میں قادیانیوں کا وکیل بھی پیش ہوا ۔

تفصیلات کے مطابق 19 ستمبر بہ روز پیر کو کراچی کے علاقے صدر الیکٹرانک مارکیٹ میں قائم مرزائیوں کے جماعت خانے پر موجود شعائر اسلام (مسجد کے مینار) استعمال کرنے کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست پر سماعت ہوئی ۔ سماعت درخواست کے 8 ماہ بعد ہوئی ہے ۔

درخواست گزار عبدالقادر پٹیل کے وکلاء نے آئین پاکستان 1973/1984 اور سپریم کورٹ کی ججمنٹ 1993 کے تحت موقف پیش کیا کہ مرزائیوں کی جانب سے جماعت خانے کو مسجد ظاہر کرنا یا مسجد کی طرح پیش کرنا اور اس پر مینار نصب کرنا شعائر اسلام کے  مکمل خلاف ہے اور یہ دین اسلام کے خلاف بھی ہے ۔

مذید پڑھیں : خبردار ! مرزائیوں نے Shezan کیساتھ PRAN کمپنی بھی متعارف کرا دی

درخواست گزار کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس انتظامیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور قانونی کارروائی کرے ۔

مرزائیوں کے وکیل نے اپنا جواب عدالت میں جمع کروایا اور فوراً ہی عدالت سے نکل گیا ۔ جس میں ان کا موقف تھا کہ یہ جگہ آئینِ پاکستان بننے سے قبل کی قائم ہے۔ جس پر فاضل جج نے جوابی کارروائی کے لئے اگلی سماعت 22 ستمبر تک سماعت ملتوی کر دی ہے ۔

پولیس کی جانب سے عدالت میں گمراہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے وکیل کے ذریعے عدالت میں تحریری موقف پیش کیا کہ اس جماعت خانے میں کوئی تبلیغی سرگرمیاں نہیں ہیں اور یہ پاکستان بننے سے قبل کا جماعت خانہ ہے ۔

پولیس اسٹیشن پریڈی کے ایس ایچ اور سجاد خان ہیں جن کے اہلکار نے تھانے کو مذید بدنام کرنے کیلئے اپنے سابق ریکارڈ کیخلاف عدالت میں غلط بیان جمع کرایا ہے ۔ جب کہ اسی تھانے کی جانب سے درخواست گزار کو لکھ کر دیا گیا تھا کہ اس جماعت خانے پر باقاعدہ شعائر اسلام کا استعمال ہوا ہے ۔ یہاں جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہے اور قادیانی تبلیغی (ارتدادی) سرگرمیاں کر رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : مسجد و مزار کا تقدس پامال ہونے کی حقیقت کیا ہے ؟

درخواست گزار کی جانب سے مذکورہ جماعت خانے کیخلاف 22A کے تحت مقدمہ درج کروانے کیلئے آئندہ سماعت 22 ستمبر پر مذید ریکارڈ پیش کیا جائے گا ۔ درخواست گزار کی جانب سے وکلاء منظور میئو اور  احتشام ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے ۔