ایک تباہ کن فتویٰ

ایل جی بی ٹی گروپ‘ کے زیراثر این جی اوز نے چند سال پہلے ’تنظیم اتحادِ امت‘ کے زیر انتظام بعض علما سے یہ فتویٰ حاصل کیا تھا:

’ایسے خواجہ سراؤں کے ساتھ کہ جن میں مردانہ علامات پائی جاتی ہیں، عام عورتیں اور ایسے خواجہ سرائوں کے ساتھ جن میں نسوانی علامات پائی جاتی ہیں ، عام مرد نکاح کر سکتے ہیں۔ اور ایسے خواجہ سرا کہ جن میں مردوزن دونوں علامتیں پائی جاتی ہیں، انھیں شریعت میں خُنثیٰ مشکل کہا جاتا ہے، ان کے ساتھ کسی مرد وزن کا نکاح جائز نہیں ہے۔[پھر یہ کہ] خواجہ سرائوں کا جایداد میں حصہ مقرر ہے‘‘۔{ FR 644 }

فتویٰ دینے والے مفتیانِ کرام نے مذکورہ اُمور کو نہ تو پوری معنویت کے ساتھ پڑھا اور سمجھا ہو گا، اور نہ انھیں اس کے محرکات اور مابعد اثرات کا اندازہ ہو گا کہ اس کے اصل مقاصد کیا ہیں ؟ وہ انجانے میں کن کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں؟ اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

امریکا میں مذکورہ بالا اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کے بقول: ’’ہم جنس پسندوں کے ’ایل جی بی ٹی گروپ‘ نے بعض عالمی ذرائع ابلاغ پر مذکورہ بالا فتوے کو اپنی ’فتح‘ سے تعبیر کیا اور کہا: ’’مسلم علما نے ’ماوراے صنف افراد‘ (Transgenders) کے حقوق تسلیم کر لیے ہیں ‘‘۔ لندن کے معروف اخبار دی ٹیلی گراف نے لکھا:’’پاکستان میں ’ماوراے صنف افراد‘ کا اب تک آپس میں شادی کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ وہاں عملِ قومِ لوط کے مرتکب افراد کو باہم شادی پر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے ‘‘ ۔{ FR 648 } یعنی ٹیلی گراف نے ’ہیجڑہ ‘کا ترجمہ ’Transgender‘کر کے فتویٰ کو عملِ قومِ لوط کے ہر قسم کے عمل کے جواز اور اجازت پر محمول کر دیا۔

مذید پڑھیں : جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کہاں ہیں ؟

کاش! ہر استفتا کا فتویٰ دینے کے بجائے مفتیانِ کرام مستفتی سے باقاعدہ ملاقات کرکے بالمشافہہ اس کے عزائم ومقاصدکوجاننے کی کوشش کریں۔ کتابی فتووں نے ویسے بھی امت کوبہت نقصان پہنچائے ہیں ۔

مفتی منیب الرحمٰن نے درست فرمایا : س لیے پُرجوش مفتیانِ کرام کو چاہیے کہ کسی جدید مسئلے پر فتویٰ جاری کرنے سے پہلے اس کے نتائج، اثرات اور بنیادوں پر ضرور غور فرمائیں یا اپنے اکابر سے مشاورت کر لیا کریں۔ جن باتوں کے فروغ کے پسِ پردہ این جی اوز کار فرما ہوں اور وہ اتنی مؤثر ہوں کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے تساہُل اور شہرت پسندی کے سبب پارلیمنٹ کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہوں ،تو یقینا اُن کے پیچھے عالمی ایجنڈا اور دُور رس ودیرپا مقاصد ہوتے ہیں۔پھر وہ معاملات کی تشریح اپنے مقاصد کے تحت کرتے ہیں اور ایسا کرتے وقت کسی قسم کی لفظی ہیر پھیر سے گریز نہیں کرتے۔ اسی لیے جب ایک لفظ یا اصطلاح، متعدد یا متضاد معانی کی حامل ہو تو اس کے بارے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔