پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں اسکولوں کی بندش نا قابل قبول ہے : حیدر علی

کراچی : پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں کئی سال پہلے کے عدالتی فیصلے پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کو سیل کیے جانے کے مسئلے پر آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے چیئرمین حیدر علی اور مرکزی رہنماؤں نے پشاور یونیورسٹی ٹائون میں اسکولوں کی بندش کو ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔

ایگزیکٹو ممبران محمد سلیم ، دوست محمد دانش، مرتضی شاہ، توصیف شاہ، اعجاز کاشف، محمد ساجد، ڈاکٹر نجیب میمن ، محمد اشفاق، امتیاز صدیقی ، خان محمد، طاہرہ منصور، امتیاز ڈوگر ، جمیل ہوت ، اشفاق بیگ، منیر عباسی، شکیل سومرو، یونس قائم خانی، شہاب اقبال سمیت دیگر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے لاکھوں بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ایسے میں پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اسکولوں کو سیل کر دیا گیا ہے جس کا جواز عدالتی فیصلے پر عمل درآمد بتایا گیا ہے ۔

بیس ہزار سے زیادہ بچوں کے تعلیمی عمل کو یکدم بند کرنا کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ معزز عدالت نے تجارتی سرگرمیوں سے متعلق ہدایت کی ہے۔ جبکہ اسکولوں کو خالص تجارتی مراکز سمجھا جانا عقل سے بالاتر ہے، آرٹیکل 25 A میں ہر بچے کو تعلیم دینے کی ذمہ داری ریاست کی ہے پورے پاکستان میں کروڑوں بچے پرائیویٹ اسکولز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

مذید پڑھیں : کمشنر کراچی کے تعلیمی اداروں ‛ والدین اور طلبہ کیلئے گیارہ SOPs جاری

قوانین معاشرے کی تعمیر، ترقی اور خوش حالی کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان کی وضاحت اور ان پر عمل درآمد میں بھی مفاد عامہ کو دیکھا جاتا ہے ۔ وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضروریات اور زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے معاملات کو حل نہیں کیا جا سکتا ۔ ارباب اختیار کو بہت زیادہ دانشمندی کے ساتھ بذریعہ مشاورت اس حساس مسئلے کو پہلے ہی حل کرنا چاہئے تھا۔

ان رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ اسکولوں کی بندش کوئی معمولی بات نہیں ہے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس طرح کی خبریں پورے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہزاروں والدین اور طلبہ و طالبات پریشان کن صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں ۔

لہذا تمام ذمہ داران بشمول وزیر اعلی خیبر پختون خواہ، وزیر تعلیم خیبر پختون خواہ اور صوبائی سیکرٹری تعلیم فوری طور پر اس پریشان کن معاملے کو حل کریں تاکہ والدین ، اسکولز انتظامیہ، اساتذہ اور ہزاروں طلبہ و طالبات کی پریشانی دور کی جا سکے۔