سلطان رکن الدین بیبرس کون تھا

آج کے دور میں ہالی وڈ، بالی وڈ سمیت موبائل انٹرنیٹ کی وجہ سے کتابیں پڑھنے کا دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، اور آپ جانتے ہیں ہرقسم کے میڈیا پر غیروں کا غلبہ ہے ایسے میں موجودہ دور کے نوجوان اپنی عظیم اسلامی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں، چنانچہ اسلام دشمن اس میڈیا کا استعمال کرتے ہیں من گھڑت اور افسانوی کردار نوجوانوں کے ذہن میں اس انداز سے بٹھارہے ہیں کہ مسلمان احساس کمتری کا شکار ہوکر مایوسی میں مبتلا ہوگیا ہے۔

چنانچہ اسی چیز کودیکھتے ہوئے ترکی کی حکومت نے اسلامی تاریخ پر مبنی ڈرامے شروع کیے جن کو پوری دنیا میں بہت پذیرائی ملی۔ارطغرل، عثمان غازی، نظام عالم، سمیت کئی تاریخی ڈرامے بہت مقبول ہوئے ہیں، جن سے پہلی بار میڈیا کے ذریعے آج کے نوجوان کو ہزار سال پرانی تاریخ کا ایک خیالی نقشہ دکھایا گیا ہے۔ جس کا بلاشبہ بہت فائدہ بھی ہوا ہے۔ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے کہ آج کتاب کوئی نہیں پڑھتا ۔ ایک ایسی شخصیت کا ذکر کریں گے جسے بیبرس کہا جاتا ہے۔

سلطان رکن الدین بیبرس کون تھا ۔

  • انگریز مصنف ہیر لڈیم اسکے ذاتی اوصاف کے بارے میں لکھتا ہے۔۔

وہ ایک عظیم فاتح اور دلیر جنگجو تھا ۔ وہ بھیس بدلنے کا شوقین تھا۔ کئی بار وہ اسٹیج سے غائب اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا۔تماشائیوں کو حیران کرنے میں اسے بڑا لطف آتا۔کبھی وہ گداگر کا روپ دھارتا اور کبھی مہمان بن کر دسترخوان پر اکیلا مزے اڑاتا دکھائی دیتا وہ بلا کہ حاضر دماغ تھا ۔۔ مختصر یہ کہ وہ مشرق کا سچا اداکار تھا ۔

وہ منگولوں کے سنہری غول کا تاتاری سپاہی تھا۔ فطری طور پر جنگجو۔ اسکی عسکری صلاحیتیں دشت و صحرا میں پروان چڑھیں۔

اس کا بچپن بڑا عجیب تھا، جب منگولوں نے ایک جگہ حملہ کرکے اور بچوں کے ساتھ اسے بھی غلام بنا کر بازار میں بیچنے کے لیے پیش کیا، رکن الدین بیبرس کی ایک آنکھ خراب تھی اس لیے بازار میں کوئی اسے خریدنے کے لیے تیار نہیں تھا، بالآکر ایک تاجر نے معمولی سی قیمت پر اسے خرید لیا اور اپنی بیوی کے حوالے کردیا۔ اس تاجر کی بیوی اس سے گھر کے کام کاج لیتی اور بہت پٹائی بھی کرتی۔ اسی طرح ایک دن وہ اس کی پٹائی کررہی تھی کہ اس عورت کی بہن فاطمہ آگئی اور کہنے لگی اس بچارے بچے کو کیوں مارتی ہو، اسے اگر نہیں سنبھال سکتی تو مجھے دے دو ۔

اس طرح رکن الدین ایک عورت سے دوسرے بے اولاد عورت فاطمہ کے ہاتھ لگ گیا، چونکہ اس عورت کی اولاد نہیں تھی اس لیے اس نے اسے اپنے بیٹوں کی طرح پالا ، اور اس کا نام بھی اپنے فوت شدہ بیٹے بیبرس کے نام پر رکھ لیا۔ پھر اس عورت کا ایک بھائی جو مصر کے سلطان الملک صالح نجم الدین ایوب کے دربار میں ایک عہدیدار تھا جب اپنی بہن کے پاس آیا اور بیبرس کو دیکھا تو اپنے ساتھ مصر لے گیا اور سلطان کو نذرانے کے طور پر پیش کیا، مصر کا سلطان ان دنوں اپنی ایک نئی فوج تیار کر رہا تھا جس کی جنگی ٹریننگ ایک خفیہ جزیرے میں ہو رہی تھی، بیبرس کو بھی ان نوجوانوں میں شامل کر دیا۔

اس فوج کی ٹریننگ بہت سخت تھی جس میں تیرکمان، نیزہ بازی، اور تلوار بازی و گھڑسواری کے ہر قسم کے طریقے سکھائے جاتے تھے، اس ٹریننگ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مٹی کے پتلے بنا کر نوجوانوں کو یہ بھی ٹریننگ دی جاتی تھی کہ کسی کو قتل کرنا ہوتو کس طرح وار کرنا ہے اور اگر کسی کو صرف زخمی کرنا ہو تو کس طرح وار کرنا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں نوجوانوں کے سامنے کاغذ کے صفحات تہہ کر کے رکھے جاتے اور کہا جاتا کہ ان پر تلوار کا ایسا وار کرو کہ صرف دس صفحات کٹ سکیں گیا ۔ رواں صفحہ نہ کٹے، جو اس میں کامیاب ہو جاتا اس کی ٹریننگ مکمل ہو جاتی۔ اسی طرح ایک کلو کی کمان سے ٹریننگ شروع ہوتی اور تیس کلو کی کمان پکڑنے تک کی ٹریننگ دی جاتی۔

رکن الدین اپنی ہر طرح کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد بحری مملوکوں کے جتھوں میں بطور تیر انداز شامل ہوا اور بالآخر انکا سردار بن گیا ۔ان دنوں منگولوں کا عروج تھا اور انہوں نے تقریبا سارا عالم اسلام فتح کرلیا تھا، ہلاکوخان کا دور دورہ تھا، کوئی بھی مسلمان حکمران اس کے سامنے نہیں ٹھہرتا تھا، صرف مصرابھی تک ہلاکو خان سے بچا ہوا تھا، منگولوں کی آندھی جس سمت چلتی تھی ہر چیز کو ملیا میٹ کرکے رکھ دیتی تھی، منگولوں کے اس طوفان کے سامنے کوئی بھی نہیں ٹھہر سکا۔ سب سے آخر میں ہلاکو خان نے اپنی فوجوں کا رخ مسلمانوں کے آخری شہر مصر کو فتح کرنے کی طرف موڑا، باقی حکمرانوں کی طرح مصر میں بھی یہی مشورے دیے جانے لگے کہ ہلاکو خان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا ہمیں بھی اس کی اطاعت قبول کرلینی چاہیے لیکن سپہ سالار رکن الدین نے منگولوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی، اور پھر عین جالوت کی جنگ میں پہلی مرتبہ ہلاکو خان کی فوجوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں ایسی شکست ہوئی کہ ہلاکوخان کو ہمت ہی نہ ہوسکی کہ وہ خود آکر رکن الدین کا مقابلہ کرے

اس کے بعد رکن الدین بیبرس وہاں نہیں رکا بلکہ منگولوں کا پیچھا کرنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایک اور بہت ہی زبردست کام یہ شروع کیا کہ جن جن مسلمان حکمرانوں یا سپہ سالاروں نے منگولوں کا ساتھ دیا تھا ان کو بھی ختم کرنا شروع کردیا۔ چنانچہ بے شمارغداروں کا صفایہ کیا۔

اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ مصر کے حکمران نے حلب کا حاکم ایک ایسے شخص کو مقرر کردیا جس نے منگولوں کا ساتھ دیا تھا، جس پر لوگوں نے بہت احتجاج کیا چنانچہ رکن الدین نے حملہ کرکے اس حکمران علاو الدین کی حکومت کا خاتمہ کردیا اور خود حکمران بن گیا جس سے لوگ بہت خوش ہوئے۔ اس کے بعد بطور حکمران کے اس کی طاقت شان وشوکت میں مزید اضافہ ہو گیا اور اس نے ایک طرف منگولوں اور دوسری طرف صلیبیوں سے جنگیں شروع کردیں اور ہر جگہ کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔اس طرح رکن الدین عالم اسلام کی آنکھوں کا تارہ بن گیا۔

وہ اکیلا خاقان اعظم کی یلغار کے سامنے حائل ہوا اور منگولوں کے رخ پھیر دیے اسکے جوابی حملے نے سینٹ لوئس کا دل اور فرانسیسی بہادروں کی کمر توڑ دی تھی ۔ وہ صرف فاتح سلطان ہی نہیں تھا بلکہ امیر المومنین بھی ۔الف لیلہ کا نیک سیرت خلیفہ۔ وہ بڑا موجی بندہ تھا ۔بلا کا خوش طبع انسان تھا ۔

بیبارس کو روپ بدلنے کا بڑا شوق تھا وہ بھیس بدل کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ حماموں پر دھاوا بولتا ، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر اکیلا نکل جاتا تو دوسرے دن فلسطین میں نمودار ہوتا اور چوتھے دن صحرائے عرب میں وہ تاتاریوں کی طرح بڑا حوصلہ مند تھا ایک ایک دن میں میلوں کی مسافت طے کرلیتا لوگ سمجھتے کہ وہ نیل پر داد عیش دے رہا ہوگا لیکن وہ حلب کے قلعے کے تہرے دروازوں میں داخل ہوتا تھا ۔

اسکے مشیروں اور وزیروں کو بھی اسکے عزائم کا علم نہ ہوتا ہر شخص کو یہی خیال رہتا ممکن ہے سلطان اسکے قریب بیٹھا اسکی باتیں سن رہا ہو ،جامع مسجد کے قاضی کے دوش بدوش بیٹھا جھوم جھوم کر تلاوت کرنے والا در حقیقت سلطان ہو۔

لوگ اسکے کارنامے سن کر خوش ہوتے لیکن اسکے تقرب سے گھبراتے اسکی آمد سے دلوں پر ہیبت طاری ہوجاتی ۔

وہ جہاں دیدہ اور جہاں گرد سلطان تھا اگر کہا جائے اس زمانے کا سب سے بڑا سیاست دان تھا تو مبالغہ نہ ہوگا لوگ سلطان کی غیر موجودگی سے پریشان ہورہے ہوتے تو وہ اچانک واپس آتا گھوڑے سے اترتا اور سیدھا دیوان وزارت میں گھس جاتا ۔

یہ داستان مشہور ہے وہ بھیس بدل کر ایشیائے کوچک کے دور افتادہ علاقے میں پہنچ گیا بظاہر یہ واقعہ الف لیلہ کی کہانیوں جیسا لگتا ہے لیکن مورخین نے جس تواتر سے نقل کیا ہے اسکی صحت میں کوئی شبہ نہیں رہتا ۔

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن بیبارس نے ایک تاتاری سپاہی کا بھیس بدلا اور تن تنہا شمال کی طرف غائب ہوگیا کئی دن سفر کرنے کے بعد وہ تاتاریوں کے علاقے میں داخل ہوا اور قریہ قریہ پھر کر وہاں کے حالات کا جائزہ لینے لگا مختلف زبانوں میں مہارت رکھنے کی وجہ سے وہ ہر قسم کے لوگوں میں گھل مل جاتا تھا اسلئے اس پر کسی کو شبہ نہ ہوا ایک دن اسنے تاتاری علاقے کے کسی نانبائی کی دکان پر کھانا کھایا اور ایک برتن میں اپنی شاہی انگھوٹی اتار کر رکھ دی پھر اپنے علاقے میں واپس آگیا اور وہاں سے تاتاری فرمانروا کو خط لکھا ۔۔

میں تمہاری مملکت کے حالات کا معائنہ کرنے کے لیے فلاں فلاں جگہ گیا تھا فلاں شہر میں فلاں نانبائی کی دکان پر انگھوٹی بھول آیا ہوں مہربانی فرما کر وہ انگھوٹی تلاش کرکے مجھے بھیجوادو کیونکہ وہ مجھے بہت پسند ہے ۔

معلوم نہیں اس ستم ظریفی کا ہلاکوخان پر کیا اثر ہوا لیکن قاہرہ کے بازاروں میں لوگ یہ قصہ سن کر قہقہے لگاتے تھے۔

ایک دفعہ سلطان عیسائی زائر کا بھیس بدل کر صلیبیوں کے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہوا اور کئی ہفتوں تک انکے فوجی مقامات کا بھرپور جائزہ لینے میں مصروف رہا کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً بیس ایسے قلعوں کو دیکھنے میں کامیاب ہوا جو عیسائیوں کی قوت کا مرکز تھے ایک دن اسنے عجیب ستم ظریفی کی اسنے ایک قاصد کا بھیس بدلا اور ایک ہرن کا شکار لے کر سیدھا انطاکیہ کے حاکم بوہمنڈ کے دربار میں جا داخل ہوا سلطان رکن الدین نے بوہمنڈ کے سامنے ایلچیوں کے انداز میں عرض کیا۔۔۔

عالی جاہ ہمارے آقا ملک الظاہر کو بہت افسوس ہے آپ محصور ہونے کی وجہ سے اپنا شکار کا شوق پورا نہیں کرسکتے انہوں نے یہ تازہ شکار آپکی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجھا ہے آپ اسے قبول فرمائیں ہمارے آقا آپکے شکر گزار ہونگے ۔

جب بیبرس قلعہ سے باہر چلاگیا تو کسی نے آکر بوہمنڈ کا بتایا یہ ایلچی خود سلطان تھا یہ سن کر بوہمنڈ پر لرزاں طاری ہوگیا.

غرض اسکی بیدار مغزی نے جہاں اسے اپنی عوام کی آنکھوں کا تارا بنایا تھا وہاں دشمنوں کے دل پر ایسی ہیبت طاری کردی تھی کہ وہ اسکا نام سن کر تھراتے تھے.

تاتاریوں کو انکی عروج میں روکنے والا یہی مجاہد تھا ۔۔۔ معرکہ عین جالوت کا ہیرو اور اسلامی دنیا کے اس عظیم مجاہد کے سامنے جب کوئی ہلاکو خان کے ظلم و جبر کی باتیں کرتا تو یہ قہقہہ لگا کر کہتا کہ وقت آنے دو ان تاتاریوں کو ہم دکھا دینگے کہ لڑنا صرف وہ نہین جانتے۔۔

تاتاریوں کے عروج کے دور میں سلطان بیبرس کے دربار میں جب ہلاکو کے ایلچی حاضر ہوے اور بدتمیزی سے بات کی تو بیبرس نے انکے سر قلم کردئے اور قاہرہ کے بازار میں لٹکا دییے تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اب لڑنے کے سوا کوئء چارہ نہین ہے ۔۔۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ مصر کے اس بہادر نے تاتاریون کو پہلے ہی معرکے میں ایسی شکست دے دی کہ اس کے بعد وہ اگے نہ بڑھ سکے۔۔

يه مصر کا پہلا حکمران تھا جس نے ہلاکو خان کے جرنیل قطبوغا کو شکست دے کر اس کا سر مصر کے داخلی دروازے پر لٹکا دیا تھا۔