کاشف اختر کو کیوں ہٹایا گیا ؟

حکومتی اداروں میں اکثر افسران کی کمی کی وجہ سے ایک افسر کو دو دو عہدے دے دے جاتے ہیں ۔

مگر

دوسری طرف کچھ قابل اور ماتحتوں میں معروف افشران کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے ، صرف اس وجہ کہ وہ نہ صرف رشوت اور حرام سے بچتے ہیں بلکہ میرٹ کی بنیاد پر لوگوں کے کام بھی بغیر رشوت کروا دیتے ہیں ۔

ایسے ہی محکمہ تعلیم کے ایک لائق اور ہر دل عزیز افسر کاشف اختر ہیں جو کچھ عرصہ قبل محکمہ تعلیم کراچی ریجن میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے ۔

مگر ہم اساتذہ کی بدقسمتی کہ مضبوط راشی مافیا جو ان کو کافی عرصہ سے اپنے راستے سے ہٹانا چاہ رہی تھی، وہ کامیاب ہو گیا ۔

مذید پڑھیں : محکمہ تعلیم سندھ میں OPS افسران کو نوازنے کا سلسلہ جاری

اب یہ قابل افسر 4 ماہ سے بغیر کسی پوسٹ کے سائیڈ کر دیے گئے ہیں ۔ جس سے محکمہ میں جاری کئی تعمیری سرگرمیوں اور میرٹ کو دھچکا لگا ہے ۔
۔
ہماری آواز اگر کوئی ارباب اختیار تک پہنچا سکتا ہے تو پہنچاۓ کہ ایسے قابل آفسر کو کسی بہترین پوسٹ سے دور رکھنا ایک نا قابل تلافی نقصان ہے ۔

اگر کوئی اس کی تحقیقات کروانا چاہتا ہے تو تحقیقات میں میرٹ پر پاس ہوئے اساتذہ کو ضرور شامل کریں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں ۔

فریاد گزار :
ایک NTS ٹیسٹ پاس استاد