مولانا ابرہیم شاہد کا اچانک سفر آخرت

تحریر : عبید الرحمٰن رؤفی

ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا یحییٰ مدنی قدس سرہ کے منظور نظر نواسے اور خدمت شیخ میں اپنے والد کے پرتو،جامعة الشیخ یحییٰ مدنی کے شعبہ تحفیظ اور شعبہ مکاتب کے بزرگ نگران حضرت حافظ شاہد صاحب مدظلہ کے صاحبزادے مولانا ابراہیم شاہد بروز جمعہ 16 ستمبر 2022 کو ایک مختصر سی علالت کے بعد اس عالم آب وگل کی سرحد عبور کرگئے۔إنا لله و انا اليه راجعون

مولانا ابرہیم کا یوں اچانک سفر آخرت بڑی جگر پاش خبر تھی جس نے بڑی دیر تک ورطہ حیرت میں ڈبوئے رکھا۔جمعرات کو قبل از عصر زبیدہ ہسپتال میں عیادت کےلئے حاضر ہوا تو آئی سی یو میں آنکھیں موندھے ذرا دشواری کے ساتھ وہ سانس لے رہے تھے ۔دو چار منٹ سرہانے کھڑے ہو کر مسنون دعائیں پڑھ کر کاؤنٹر کے پاس آکر اسٹاف سے ان کی صحت کے بارے میں سن رہا تھا کہ مولانا ابراہیم نے آنکھ کھولی ،پانی مانگا ،میں نے دور سے مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا تو جواب میں وہ بھی ہلکا سا مسکرائے ۔اسٹاف کی یقین دہانیوں پر یقین کرکے یہ سوچ کر میں زبیدہ ہسپتال سے نکلا کہ بس ایک دو دن میں وہ ہسپتال سے فارغ ہو جائیں گے اور پھر میں نے ان سے ان کے بیٹے کا عقیقہ کھانا ہے جس کا وہ مجھ سے کئی دنوں سے وعدہ کر رہے تھے ۔

مولانا ابراہیم شاہد کی عمر شاید ستائیس اٹھائیس سال ہی ہو گی ۔وہ ایک خوبصورت،باکردار اور خوب سیرت نوجوان تھے۔متواضع اور سلیقہ شعار تھے۔الخلیل مسجد کے اپنے پانچ چھ سالہ اعتکاف میں راقم نے بارہا دیکھا کہ ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا یحییٰ مدنی قدس سرہ کی اپنے اس صالح نواسے پر خصوصی نظر اور شفقت ہوا کرتی تھی ۔رمضان کے آخری عشرے کی راتوں کو تلاوت میں گزارنے والے اس صالح نوجوان نے بھی اپنے عظیم المرتبت نانا کی خدمت کی سعادت خوب خوب سمیٹی۔ صبح تین سوا تین بجے سحری کا دستر خوان لگنے سے کچھ دیر پہلے ہم دیکھتے وہ اپنے عظیم نانا کی وہیل چیئر کو سرکاتے ہوئے مسجد کے دروازے سے نمودار ہوتے۔مولانا ابرہیم کی یہ خدمت ہی میری ان سے انسیت اور محبت کی وجہ تھی۔

ڈیڑھ ماہ قبل صبح آٹھ بجے میں نے انہیں بنوریہ کی پارکنگ میں کھڑا دیکھا تو پوچھا: مولوی ابرہیم یہاں کیسے؟ بولے: اس طرف ایک تعزیت کےلئے آیا تھا ،سوچا آپ سے بھی مل لوں۔میں نے کہا شعبہ بنات کے دفتر میں بیٹھو ،میں سبق پڑھا کہ آتا ہوں۔اس دن آدھا گھنٹہ وہ گپ شپ لگاتے رہے۔بتا رہے تھے کہ میں نے مچھلی کا کاروبار شروع کیا ہے۔

میں نے کہا : دونوں بچوں کی ولادت کی دعوت تمھارے ذمے ہے۔ہر ملاقات میں ایک مسکراہٹ کے ساتھ تم ٹال دیتے ہو کہ شیخ ! جب اور جہاں آپ کہیں۔معصومانہ سے مسکراہٹ کے ساتھ بولے: اب وعدہ ہے کہ بہت جلد کسی اتوار کو میں آپ کی دعوت کرتا ہوں ،ویسے بھی آپ نہ تو گوشت کھاتے ہیں اور نہ ہی مچھلی تو دال یا سبزی کی ہی مجھے دعوت کرنی پڑے گی۔اس دن اٹھتے ہوئے بولے: آپ کے ہاں تو شعبہ غیر ملکی میں چالیس سے زائد ممالک کے طلبہ ہیں۔میں ان طلبہ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔شعبہ غیر ملکی کی کلاسوں کے دالان میں کھڑے ہوکر مجھے کہنے لگے: آپ اپنا سبق پڑھائیں ،میں خود ہی کلاسوں میں گھوم پھر لوں گا ۔چند سال پہلے تخصص کے اپنے مقالے کےلئے بھی بارہا رابطہ کرتے رہے ۔مقالہ مکمل ہوا تو کال کی اور کہنے لگے کہ میں مقالہ بھیج رہا ہوں۔ازراہ کرم اس پہ ایک نظر تو ڈال دیں۔میں نے کہا : مقالہ لیکر خود آؤ گے تو دیکھوں گا ۔بولے :

شیخ! میٹروول سائٹ میں ؟ میں نے کہا: جی ،میٹروول میں۔بولے: شیخ! کچھ ترس کھائیں ، اتنی دور ؟ میں نے کہا: ویسے تو تم نے میرے ہاں آنا نہیں تھا ،چلو بلیک میلنگ کا یہ موقع تو ملا۔ہنس کر بولے: چلیں، میں کل عصر سے پہلے آؤں گا ۔چنانچہ آئے اور کچھ مشورے لیکر عشاء سے کچھ پہلے گئے۔عجیب معصوم سا پاک طینت ،منموہنا سا پرکشش لڑکا تھا۔ چوبیس کے لگ بھگ گھنٹے گزر چکے اسے خاک پوش ہوئے مگر اس کا دلربا چہرہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو پارہا۔خدا تیری تربت ٹھنڈی کرے او ابرہیم!

اللہ جزائے خیر دے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ،اس طرح کے اندوہناک منظر میں وہ خوب تسلی اور خوش گوار تصور دے کر گئے ہیں۔اپنے آخری وقت میں اہلیہ کے افسردہ چہرے اور بہتی آنکھوں کو دیکھ کر وہ بولے تھے اور کیا ہی خوب بولے تھے:

غدا نلقى الأحبة
محمدا وصحبه

روتی کیوں ہو؟ ہم تو کل دوستوں سے ملیں گے ،محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے ملیں گے۔
یوں اپنے دائیں بائیں سے اچانک جب کوئی قبر کی وحشتناک پاتال میں اترتا ہے تو جانیوالے کو آنکھوں کی نمی اور دعا کی ڈھارس کے ساتھ دل ودماغ میں ایک بجلی سی کوند جاتی ہے کہ یہی کچھ اپنے ساتھ بھی بس ہونے کو ہی ہے۔پھر معاملات کی صفائی اور حقوق کی ادائیگی کی ایک وقتی اور عارضی سی دھن سوار ہو جاتی ہے۔

غمگساروں سے بھری عالمگیر مسجد میں نمازِ جنازہ کی پانچویں چھٹی صف میں اسی دھن میں گم سم کھڑا تھا کہ ہمارے شیخ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف مدنی مدظلہ ،مرحوم جن کا چہیتا بھانجا تھا اور مرحوم کے والد جن کے مخلص رفیق کار ہیں۔قابل رشک بات یہ ہے کہ اپنے والد نامدار کی جو عنایت وکرم نوازی اس باپ بیٹے پر تھی "إن من أبر البر صلة الرجل أهل ود أبيه” کے پیش نظر اس کا تسلسل حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے آگے خوب جاری رکھا ہوا ہے۔

نماز جنازہ سے کچھ دیر پہلے حضرت شیخ الحدیث کی غم واندوہ میں ڈوبی آواز سنائی دی کہ اس طرح کے سانحات ہمیں اپنے معاملات کی صفائی اور حقوق کی ادائیگی کا سبق دےکر ہمہ وقت بارگاہ الٰہی میں پیش ہونے کےلئے تیار رہنے کی تنبیہ کرتے ہیں ۔