مغرب کی ایک نفسیاتی بیماری اور ہمارے سیاست دانوں کی ذہنی غلامی

مغرب جوں جوں دین ومذہب اور فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، اس کے باشندوں میں قسم قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک بیماری یہ ہے کہ وہ اپنی تخلیق اور جنس پر مطمئن نہیں، یعنی اللہ نے انھیں مرد بنایا ہے مگر وہ عورت بننا چاہتے ہیں یا اللہ نے انھیں عورت بنایا ہے مگر وہ مرد بننا چاہتے ہیں۔ یہ بیماری بھی اللہ کے عذاب کی ایک شکل ہے، کیونکہ انھوں نے اپنے معاشرے سے شرم و حیا اور عفت و عصمت کا جنازہ پورے ’’اہتمام‘‘ سے نکال دیا ہے، جس کے بعد اُن میں اور جنگل کے عام جانوروں، بلکہ سوّروں میں بھی کوئی فرق نہیں رہا۔

ہم نے یہاں اِن کے لیے صرف پجنگلی جانور کی اصطلاح ناکافی سمجھی کیونکہ علامہ دمیریؒ نے ’’حیات الحیوان‘‘ میں لکھا ہے کہ کوئی نر جانور یہ برداشت نہیں کرتا کہ اُس کی مادہ کے ساتھ کوئی اور جانور ملوّث ہو، البتہ سوّر واحد جانور ہے جو اس میں باک محسوس نہیں کرتا۔ چونکہ یہی حال اِن لوگوں کا بھی ہے، اس لیے اِن کے لیے سوّر کی اصطلاح ہی مناسب ہے ۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے ولیمز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ ہے :

  • 7 لاکھ امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جنس وہ نہیں ہے، جو ان کی پیدائش کے وقت تھی ،سو وہ اسے تبدیل کرانا چاہتے ہیں‘‘۔ ایسے ہی لوگوں کو ’ٹرانس جینڈر‘ یا ’ماورائے صنف‘ کہا جاتا ہے ۔ اس مسئلے کو آج کل کے ماہرینِ نفسیات Gender Dysphoria ( جنسی احساسِ ملامت) کہتے ہیں ۔

جو لوگ اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں ،وہ ایک خاص قسم کے ’ٹرانس جینڈر‘ ہیں۔ ’جنسی احساسِ ملامت‘ کے نہ صرف نفسیاتی اسباب ہوتے ہیں، بلکہ حیاتیاتی (بیالوجیکل) اسباب بھی ہوتے ہیں۔ جنس تبدیل کروانے کا عمل ایک پیچیدہ مشق ہے، مگر ایک دعوے کے مطابق اس احساس کے متاثرین میں سے تقریباً پچاس فی صد لوگ جنس تبدیل کروانے کے مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔

ہم ٹھہرے مغرب کے نِرے غلام۔ اس غلامی میں کسی پارٹی اور زبان، رنگ، نسل وغیرہ کا کوئی امتیاز نہیں۔ اس غلامی کے عملی مظاہرے وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ملکہ ایلزیبتھ کی موت پر اِس کے مظاہر کھل کر سامنے آئے ہیں اور اس میں

’’ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے،

اُن کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے‘

والی کیفیت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بیمار، معذور، کمزور اورجاں بلب آصف زرداری صاحب جنھیں عدالت میں پیش ہوتے ہوئے تویوں لگتا ہے کہ عدالت میں نہیں، ملک الموت کے دربار میں پیشی کے لیے کہا جا رہا ہے، حق نمک حلالی ادا کرنے کے لیے بنفسِ نفیس برطانوی سیکرٹریٹ پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں : جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کہاں ہیں ؟

یہی کیفیت اِن سیاست دانوں کی اُس وقت بھی ہوتی ہےجب مغرب سے کوئی حکم آتاہے۔اُس حکم کی تعمیل یہ’’فرماں بردار غلاموں‘‘ کی طرح بِلا سوچے سمجھے، بِلا جانے پرکھے، جو ہے اور جیسا ہے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اس فرماں برداری میں’’شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری‘‘کے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔

حدیہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات آقا کو بھی کہنا پڑتا ہے کہ تم تو ہم سے بھی آگے نکل گئے، جو کام ہم اب تک نہ کر سکے تم نے کر دِکھایا، جیسا کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ کی منظوری کے بعد ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسمبلی کے فلور پر یہ بات بڑے فخر سے بتائی تھی کہ ٹرمپ نے کہا : جو کام اب تک ہم اپنے معاشرے میں نہ کر سکے، تم نے کر دِکھائی !

اِس قرار داد کے محرکین کے ناموں پر ذرا غور کریں : روبینہ خالد ( پیپلز پارٹی، خیبر پختون خوا) ، روبینہ عرفان (مسلم لیگ، ق ، بلوچستان) ، کلثوم پروین (مسلم لیگ، ن، بلوچستان) اور سینیٹر مسٹر کریم احمد خواجہ (پیپلز پارٹی، سندھ) پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کس بات کا ثبوت دے رہی ہے؟ لگ یہی رہا ہے کہ اِنھیں صرف یہ حکم تھا کہ تمھارا کام ہے اِس بل کو پیش کرنا اور منظور کرانا۔ حق نمک تھا جو ادا کر دیا گیا ۔ شاید انھوں نے بھی جاننے، سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ اِس میں کیا ہے ؟ اِس کے کیا نتائج و عواقب اور فوائد ثمرات ہوں گے؟۔ اگر پہلے اس پر غور کیا ہوتا تو دبے لفظوں میں یہ تو کہہ سکتے تھے: آقائے ولیِ نعمت! یہ نفسیاتی بیماری ہمارے ملک میں ہے ہی نہیں، جس کے مریضوں کو آپ تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں، پھر یہ قانون کیوں ؟۔