جن کو کراچی کا میئر بننے کا شوق ہے وہ گھر میں مشق شروع کر دیں : قاری عثمان

کراچی : جمعیت علماء اسلام ضلع کیماڑی کراچی کے امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ صوبہ سندھ پانی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی ضلع الیکشن کیلئے تیار نہیں ۔ بار بار الیکشن ملتوی اور پھر الیکشن کرنے کا اعلان، مذاق کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے ۔ اگر کچھ لوگوں کو کراچی کا مئیر بننے کا بہت ہی شوق ہے تو گھر میں مئیر مئیر کی مشق شروع کر دیں۔ یہ وقت الیکشن کا نہیں سندھ کے تباہ حال عوام کی بحالی کا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ عمر اور ڈیرہ الجمعیتہ بلدیہ ٹاؤن میں احباب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مولانا علی سید، حاجی عزیرالرحمن دیشانی، سر محمد رضاخان آفریدی، ڈاکٹر عبدالستار لغاری، مولانا ظہور احمد، مولانا محمد عمر اور دیگر احباب موجود تھے۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ حکمران جماعت اندرون سندھ کی عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کیلئے فلڈ فنڈز کو کراچی کی یوسیز میں سیوریج لائنوں میں ڈبو کر بدترین ظلم کا ارتکاب کر رہی ہے ۔

مزید پڑھیں : جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کہاں ہیں ؟

گزشتہ 15 سال سے اب تک حکمران جماعت نے کراچی میں جو کچھ کیا ہے وہ کراچی کے شہری بھولے نہیں اور پھر 2020 سے کراچی ڈویژن اور تمام اضلاع میں ایڈ منسٹریٹرز حکمران جماعت کے تھے۔ کتنی سڑکیں، گلیاں اور سیوریج کا نظام بنایا ہے؟ ثابت کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہوجانے پر حکومت وقت پر ہر قسم کی پابندیاں اس لئے لگائی جاتی ہیں کہ الیکشن کے نتائج پر حکمران جماعت اثر انداز نہ ہو مگر یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔

جس ایم این اے اور ایم پی اے کو روز انتخاب سے اب تک حلقہ کے عوام نے نہیں دیکھا آج یوسی چیئرمین کے امیدواروں کے ذریعہ متاثرین سیلاب کی امدادی رقومات اور دیگر سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کرکے اپنی خفت مٹانا چاہتے ہیں مگر عوام اب باشعور ہوگئے ہیں۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن اپنی پوزیشن واضح کرے کہ حکمران جماعت اور اسکے امیدواروں کو کھلی چھٹی کس نے دی ہے؟ .

مزید پڑھیں : الطاف حسین کی برتھ ڈے پر نائن زیرو کا خاتمہ اور دیرینہ کارکنان کی لاشیں

اگر یہی کچھ صوبائی الیکشن کمیشن نے کرنا تھا تو پھر ضابطہ اخلاق کی نزاکت کی کیا ضرورت تھی؟ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ کراچی کا ہر شہری اندرون سندھ کے اپنے تباہ حال بھائیوں کی بحالی کیلئے یکسوئی سے کام کرے۔ اگر حکمران جماعت سندھ کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے تو پھر اپنے وزراء اور ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور پوری حکومتی مشینری کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی سے نڈھال عوام کے گھروں کو آباد کرنے اور مزید تباہی سے بچانے کیلئے اپنے وسائل، وفاقی حکومت کی 15 ارب کی خصوصی گرانٹ اور دنیا بھر سے آنے والی امداد کو تباہ حال سندھ کی ازسر نو تعمیر پر لگائے تاکہ سندھ کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو بحال کیا جاسکے۔