چارلس سوم برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے

جیسے ہی ملکہ برطانیہ  الزبتھ  نے اپنی آخری سانسیں لیں، برطانیہ کی حکمرانی فوری طور پر بغیر کسی تقریب کے ان کے جانشین اور سابق پرنس آف ویلز چارلس کو منتقل ہو گئی۔

برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں بیلمورل میں،( بروز جمعرات 8 سبتمر 2022م کو) وفات پا گئی ہیں۔ انھوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو لندن کے علاقے مے فیئر میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا پورا نام الزبتھ الیگزینڈرا میری ونڈزر رکھا گیا تھا۔

تاہم ستمبر 1936 میں جب ان کے تایا ایڈورڈ ہشتم نے تخت سے کنارہ کشی اختیار کر کے دو بار کی طلاق یافتہ امریکی شہری والس سمپسن سے شادی کی تو الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور 10 سال کی عمر میں الزبتھ تخت کی وارث بن گئیں تھیں۔

الزبتھ 1952 میں ملکہ بنی تھیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی۔

الزبتھ کی تاج پوشی دو جون 1953 کو 27 سال کی عمر میں ویسٹ منسٹر ایبے میں ہوئی تھی۔ اس تقریب کو اس وقت ریکارڈ دو کروڑ ٹی وی شائقین نے دیکھا تھا۔

ان کے دورِ حکمرانی میں دوسری عالمی جنگ کے بعد کفایت شعاری کی مہم، برطانوی راج کی کامن ویلتھ میں تبدیلی، سرد جنگ کا خاتمہ اور برطانیہ کا یورپی یونین میں جانا اور نکلنا سب شامل ہیں۔

اس دوران برطانیہ میں 15 وزرائے اعظم آئے جن میں سب سے پہلے ونسٹن چرچل تھے جو سنہ 1874 میں پیدا ہوئے جبکہ برطانیہ کی موجودہ وزیر اعظم لز ٹرس، جنھیں رواں ہفتے ملکہ نے تعینات کیا،  اپنے دورِ حکمرانی کے دوران انھوں نے وزرائے اعظم کے ساتھ ہفتہ وار بات چیت کی۔

ان کی موت کے بعد ان کے سب سے بڑے بیٹے اور سابق پرنس آف ویلز چارلس برطانیہ کے نئے بادشاہ اور دولتِ مشترکہ میں شامل 14 ممالک کے سربراہ ہوں گے۔

ان ممالک میں آسٹریلیا، اینٹیکا اور باربوڈا، بہاماس، بلیز، کینیڈا، گرینیڈا، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ کرسٹوفر اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈئنز، نیوزی لینڈ، جزائر سولومن اور ٹوالو شامل ہیں۔

نئے بادشاہ کا  پہلا کام

نئے برطانوی بادشاہ کے دادا جارج پنجم کے نام کا پہلا حصہ البرٹ تھا لیکن انھوں نے اپنے نام کے درمیانی حصے کا انتخاب کیا تھا۔ چارلس کے لیے بھی پہلا کام اپنے لیے ایک نام کا انتخاب ہے اور انھوں نے اپنے لیے شاہ چارلس سوئم کا نام منتخب کیا ہے۔

چارلس کی اہلیہ کا نیا ٹائٹل ’کوئین کونسورٹ‘ ہو گا۔ کونسورٹ وہ اصطلاح ہے جو بادشاہ کی شریکِ حیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

بادشاہ کا پہلا اعلان

برطانوی بادشاہ یا ملکہ اپنے دور کے آغاز پر ویسے حلف نہیں اٹھاتا جیسے عموماً دیگر سربراہانِ ممالک مثلاً امریکی صدر اٹھاتے ہیں بلکہ نئے بادشاہ کی جانب سے ایک اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ چرچ آف سکاٹ لینڈ کا تحفظ کرے گا۔ اس اعلان کی روایت 18ویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔

اس کے بعد نقاروں کی گونج میں چارلس کو برطانیہ کا نیا بادشاہ قرار دیا جائے گا۔ یہ اعلان سینٹ جیمز پیلس کی فریری کورٹ پر واقع بالکونی سے کیا جائے گا اور یہ اعلان گارٹر کنگ آف آرمز نامی عہدیدار کرے گا۔

وہ کہے گا، ’خدا بادشاہ کی حفاظت کرے‘ اور 1952 کے بعد پہلی مرتبہ جب برطانیہ کا قومی ترانہ بجے گا تو الفاظ ’گاڈ سیو دی کنگ‘ ہوں گے۔

اس کے بعد ہائیڈ پارک، ٹاور آف لندن اور بحری جہازوں سے توپوں کی سلامی دی جائے گی اور چارلس کی بادشاہت کا اعلان ایڈنبرا، کارڈف اور بیلفاسٹ میں پڑھ کر سنایا جائے گا۔

تاجپوشی

تخت نشینی کا سب سے اہم لمحہ تاجپوشی ہے جب بادشاہ کو باقاعدہ تاج پہنایا جاتا ہے ۔  ملکہ الزبتھ نے فروری 1952 میں تخت سنبھالا تھا لیکن ان کی تاجپوشی کی تقریب جون 1953 میں منعقد ہوئی تھی۔

900 برس سے تاجپوشی کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہوتی آئی ہے۔ ولیم دا کنکرر وہاں تاج پہننے والے پہلے بادشاہ تھے جبکہ چارلس ایسا کرنے والے 40ویں بادشاہ ہوں گے۔

یہ ایک اینگلیکن مذہبی تقریب ہے جسے آرچ بشپ آف کنٹربری سرانجام دیتے ہیں۔ یہ تقریب اپنے عروج پر اس وقت پہنچے گی جب وہ سینٹ ایڈورڈ کا تاج چارلس کے سر پر رکھیں گے۔ ٹھوس سونے کا یہ تاج 1661 میں تیار کیا گیا تھا۔

تقریباً سوا دو کلو وزنی یہ تاج ٹاور آف لندن میں رکھے گئے شاہی جواہرات اور زیورات کا حصہ ہے اور اسے کوئی بھی بادشاہ صرف اپنی تاجپوشی کے وقت ہی پہنتا ہے۔

شاہی شادیوں کے برعکس تخت نشینی ایک سرکاری تقریب ہوتی ہے۔ اس کے اخراجات حکومت ادا کرتی ہے اور وہی مہمانوں کی فہرست بھی مرتب کرتی ہے۔

اس تقریب میں موسیقی بھی ہوتی ہے اور شاعری بھی اور نئے بادشاہ کو سنگترے، گلاب، دارچینی، مشک اور عنبر کے تیل لگا کر روایتی رسم ادا کی جاتی ہے۔

نیا بادشاہ چارلس سوم دنیا کے سامنے تخت نشینی کا حلف لے گا۔ اس شاندار تقریب میں اسے اپنے نئے عہدے کی نشانیاں ’اورب‘ اور ’سیپٹر‘ دیے جائیں گے اور آرچ بشپ آف کنٹربری ان کے سر پر ٹھوس سونے کا تاج رکھیں گے۔

برطانوی تاریخ میں تخت کے سب سے طویل عرصے تک وارث رہنے والے چارلس اب بادشاہ ہیں۔ 70 سال تک بطور وارث جاری رہنے والی تربیت نے انھیں تخت پر بیٹھنے کے لیے اب تک کی سب سے بہترین تیاری کا حامل اور سب سے بڑی عمر کا نیا بادشاہ بنایا ہے۔

بادشاہ کے طور پر چارلس کے پاس اب اپنا پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہو گا یا عوامی سطح پر وہ کسی معاملے پر اپنی رائے کھل کر نہیں دے سکیں گے۔ بادشاہ ہونا ذات سے بڑھ کر ہے۔

جب کوئی نیا بادشاہ تخت پر بیٹھتا ہے، تو سکوں پر موجود شاہی پروفائل کو مخالف سمت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ چارلس کے دور میں بھی توجہ مختلف طرف ہو گی۔

جو لوگ انھیں جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک حد تک شرمیلے، خود تک محدود رہنے والے شخص ہیں۔ اگر ان کی چند الفاظ میں تعریف بیان کی جائے تو وہ ایک ‘حساس انسان’ ہیں۔

ان کی شخصیت میں ایک اداس بچے کی شبیہ ملتی ہے جسے سکول میں دیگر بچوں نے تنگ کیا اور اپنے سے الگ تھلگ کر دیا تھا۔

 

انھوں نے بچپن میں اپنے سکول ہاسٹل سے گھر بھیجے گئے ایک خط میں لکھا تھا کہ ‘وہ رات بھر چپلیں پھینکتے ہیں یا مجھے تکیوں سے مارتے ہیں یا کمرے میں بھاگتے ہیں اور جتنا ہو سکے مجھے مارتے ہیں۔’

 

ان کی اہلیہ کمیلا، جو اب کوئین کنسورٹ ہیں نے ان کی شخصیت کو کچھ اس طرح بیان کیا، ‘ کافی بے صبرے، وہ چاہتے ہیں کہ گزرے دن کام ہو جائے، وہ اس طرح کام کرتے ہیں۔’

 

انھوں نے چارلس کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ عوامی سطح پر ان کی جو سنجیدہ شخصیت نظر آتی ہے، اس کے پیچھے ان کی شخصیت کا ایک زیادہ چنچل پہلو بھی ہے۔

 

کمیلا کا کہنا تھا کہ ‘وہ انھیں ایک بہت سنجیدہ شخص کے طور پر دیکھتی ہیں، جو وہ ہیں بھی۔ لیکن میں چاہوں گی کہ لوگ ان کی شخصیت کے ہلکے پہلو کو بھی دیکھیں۔ وہ گھٹنوں کے بل جھکتے ہیں اور بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، ان کو ہیری پوٹر پڑھ کر سناتے اور آوازیں نکالتے ہیں۔’

 

چارلس جب عوامی سطح پر ملاقاتیں کرتے ہیں تو وہ ایک آسان اور قابل رسائی شخصیت بن جاتے ہیں، اپنے سامعین کو چند خود پسندانہ لطیفوں کے ساتھ خوش کرتے ہیں ۔ شاید یہ بادشاہ بن کر تبدیل ہو جائے گا، لیکن پرنس آف ویلز کے طور پر انھوں نے ایک ملنسار، دادا جی کے انداز کی شخصیت بنا رکھی ہے، جس میں کوئی سختی نہیں ہے۔

ایک ایسے آدمی کے طور پر جو 70 کی دہائی میں ہے، بادشاہ اپنی تیز رفتار فطرت میں تبدیلی لانے کا کوئی اشارہ ظاہر نہیں کرتے۔

 

کرس پوپ، جنھوں نے پرنسز ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ میں چارلس کے ساتھ کام کیا، نئے بادشاہ کو ایک مسلسل مصروف رہنے والا، کسی خیال کے پیچھے دل لگا کر کام کرنے والا شخص بیان کرتے ہیں ’توانائی کا بنڈل‘ جو کام کا بہت بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

 

پوپ کا کہنا ہے کہ ’وہ حقیقی طور پر اگلی نسل کی فلاح و بہبود کے لیے پرجوش ہیں۔ وہ ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جن میں آپ کو یہ چیز نظر آئے گی۔‘

 

شہزادے کے خیراتی کاموں میں ورثے کی حفاظت اور روایتی دستکاری کی مہارتوں کا تحفظ شامل ہے — لیکن ساتھ ہی ساتھ جدت اور تبدیلی کی حوصلہ افزائی بھی اس کا حصہ ہے۔

 

پوپ کا کہنا ہے کہ ’وہ ہمیشہ اس بارے میں فکرمند رہتے ہیں کہ روایات ختم نہ ہو جائیں، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ کہیں کہ ہمیں گھڑی کو پیچھے کرنا پڑے گا۔‘

 

ایسا لگتا ہے کہ نئے بادشاہ کا کردار ان موضوعات کو ایک جگہ اکھٹا کرتا ہے جو مختلف سمتوں میں کھینچتے نظر آتے ہیں، تبدیلی کی خواہش رکھتے ہوئے وہ ورثے کا تحفظ چاہتے ہیں۔

وہ کبھی کبھی سرخ گالوں والے زمیندار کی طرح لگتے ہیں جو 18ویں صدی کی پینٹنگ سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ اور ابھی کبھار وہ ایک اصلاح کے حامی ایک مایوس شخص کی طرح دکھتے ہیں جو اس بات پر ناراض ہے کہ کس طرح کچھ کمیونٹیز کو نظرانداز کیا گیا ہے اور انھیں زمانے سے پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔

 

والدہ سے وراثت میں ملنے والا فرض کا احساس ان کے لیے بہت مددگار ہو گا لیکن بادشاہ چارلس نے ان سے مدہبی عقیدہ اور ان کی حسِ مزاح بھی وراثت میں پائی ہے۔

2007 میں برٹش ایشین ٹرسٹ کے قیام میں مدد کے بعد سے ہیتن مہتا نے ان کے ساتھ کام کیا ہے۔

 

مہتا کہتے ہیں ’وہ دل سے انسان دوست شخص ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ انھیں کم سمجھتے ہیں کہ وہ کتنا خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ اکثر اس دنیا کے بارے میں بات کرتے ہیں جسے وہ اپنے پوتے پوتیوں کے لیے چھوڑ کر جائیں گے۔ انھیں اس کی فکر ہے۔‘

 

مہتا کہتے ہیں کہ اس کا مطلب براہ راست کال ٹو ایکشن ہو سکتا ہے۔ ’جمعہ کی رات کے نو بجے ہوں گے جب مجھے ان کا فون آیا کہ میں نے ابھی پاکستان میں سیلاب کے بارے میں سنا ہے، ہم کیا کر رہے ہیں؟‘ ایسا نہیں ہے کہ وہ کوئی مصروف شخصیت نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے اس مسئلے کے بارے میں سنا ہے اور وہ اس پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ واقعی پرواہ کرتے ہیں۔‘

 

شہزادہ ہیری نے اپنے والد کے بارے میں کہا کہ ’وہ ایسے آدمی ہیں جو رات کو بہت دیر سے کھانا کھاتے ہیں پھر اپنے کام والی میز پر جا کر کام کریں گے اور ادھر ہی کام کرتے کرتے نوٹس پر سر رکھ کر سو جائیں گے۔‘

چارلس فلپ آرتھر جارج 14 نومبر 1948 کو بکنگھم پیلس میں پیدا ہوئے تھے۔ جب بی بی سی نے ان کی پیدائش کا اعلان کیا تو خبر یہ نہیں تھی کہ ملکہ کے ہاں لڑکا ہوا ہے، بلکہ یہ کہ ان کی والدہ نے خیر خیریت سے شاہی اولاد کو جنم دیا ہے۔ چار سال بعد وہ وارث کے طور پر سامنے آئے۔

 

چارلس نے 2005 کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں جس خاص خاندان میں اور جس حیثیت سے پیدا ہوا ہوں، میں اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے پرعزم ہوں۔ اور جو کچھ میں مدد کر سکتا ہوں وہ کروں گا۔‘

 

وہ 400 سے زیادہ تنظیموں کے سرپرست یا صدر رہے ہیں اور 1976 میں انھوں نے رائل نیوی سے اپنی علیحدگی کی تنخواہ کو استعمال کرتے ہوئے اپنا فلاحی ادارہ پرنسز ٹرسٹ قائم کیا۔

 

اس نے ملک کے غریب ترین حصوں میں سے تقریباً 90 لاکھ پسماندہ نوجوانوں کی مدد کی ہے اور چارلس کو سماجی مسائل کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی ہے۔

 

پرنسز ٹرسٹ کے لیے ان کے منصوبے جس کو وہ ’معاشرے میں ان لوگوں تک پہنچنا جن تک رسائی بہت مشکل ہے‘ کہتے ہیں، اس حوالے سے انھیں ہر مرتبہ کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی۔

 

انھوں نے 2018 میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’ہوم آفس کے خیال میں یہ بالکل اچھا خیال نہیں تھا۔ اسے شروع کرنا مشکل رہا تھا۔‘

ان کے کام کی وجہ سے ان پر سیاسی مداخلت کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں جن میں خاص طور پر نام نہاد ’بلیک سپائیڈر میمو‘ ہے۔ اس کا نام چارلس کی سپائیڈری لکھائی کی وجہ سے رکھا گیا، یہ وہ نجی خطوط تھے جو سنہ 2004 میں چارلس کی جانب سے حکومتی وزرا کو لکھے گئے تھے۔

 

خطوط میں کاشتکاری، شہری منصوبہ بندی، فن تعمیر، تعلیم اور یہاں تک کہ پیٹاگونین ٹوتھ فش کی حفاظت جیسے مسائل کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

چارلس نے کہا تھا کہ ’بادشاہت جیسی دلچسپ چیز زندہ نہیں رہ پائے گی جب تک کہ آپ لوگوں کے رویوں کو اہمیت نہیں لیں گے۔ اگر لوگ نہیں چاہتے تو یہ چیز نہیں رہے گی۔‘

 

دسمبر 2021 میں یوگوؤ کی طرف سے کی گئی تحقیق کے مطابق، ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، تقریباً دو تہائ

لوگ ان کے حوالے سے مثبت سوچتے ہیں۔

لیکن رائے عامہ کے جائزوں نے انھیں مسلسل اپنی والدہ ملکہ الزبتھ دوم یا ان کے بیٹے شہزادہ ولیم سے کم مقبول دکھایا ہے، اس لیے انھیں ابھی عوام کے ایک بڑے حصے کا دل جیتنا ہے خاص طور پر نوجوانوں میں ان کی مقبولیت کم ہے۔

برطانیہ سے باہر، ایک بڑا چیلنج دولتِ مشترکہ کے ساتھ زیادہ جدید تعلقات کو از سر نو متعین کرنا ہوگا۔ کہ نئے سربراہ کے طور پر ان کا دولت مشترکہ کے ممالک کا دورہ کس طرح نوآبادیاتی دور کی مشکل میراث اور غلامی جیسے مسائل کو حل کر سکتا ہے؟

 

شاہ چارلس برطانیہ کے ساتھ ساتھ 14 ممالک کے سربراہ بن چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ دولت مشترکہ کے ممبروں کی حیثیت سے رہتے ہوئے جمہوریہ بننا چاہتے ہیں، اور شاہ چارلس نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وہ تبدیلی کے بارے میں بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

 

پہلے ہی ایسے فیصلے ہو چکے ہیں جنھوں نے ان کے نئے دور حکومت کی راہ ہموار کر دی ہے۔ وہ اس چیز سے ضرور خوش ہوئے ہوں گے جب ان کی والدہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ کمیلا کو شہزادی کے بجائے ملکہ کونسورٹ کا خطاب استعمال کرنا چاہیے۔

 

ایک ایسی عمر میں جب زیادہ تر لوگ ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں، وہ دنیا کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک پر کام کا آغاز کر رہے ہیں، ایسے میں کمیلا ایک اہم معاون ثابت ہوں گی۔

یہ لمحہ تمام زندگی سے ان کا منتظر رہا ہو گا۔

اب آگے وقت شاہ چارلس کا ہے۔

بادشاہ کیا کرتے ہیں؟

برطانیہ میں بادشاہ سربراہِ مملکت ہوتا ہے تاہم ان کے اختیارات علامتی اور رسمی ہوتے ہیں اور وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار رہتے ہیں۔

انھیں روزانہ کی بنیادوں پر حکومت کی جانب سے سرخ چمڑے کے ایک ڈبے میں پیغامات اور دستاویزات بھیجی جاتی ہیں جیسا کہ کسی اہم میٹنگ سے قبل بریفنگ یا وہ دستاویزات جن پر ان کے دستخط کی ضرورت ہے۔

عمومی طور پر ہر ہفتے بدھ کے روز برطانوی وزیر اعظم بادشاہ سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کریں گے تاکہ انھیں حکومتی امور کے متعلق آگاہ رکھا جا سکے۔

یہ ملاقاتیں مکمل رازداری میں ہوتی ہیں اور ان میں جو کچھ بھی کہا جاتا ہے، اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔

بادشاہ کے پاس متعدد پارلیمانی ذمہ داریاں بھی ہیں:

حکومت کا تقرر کرنا: برطانیہ میں عام انتخابات جیتنے والی سیاسی جماعت کے رہنما کو عام طور پر بکنگھم پیلس میں بلایا جاتا ہے جہاں انھیں باضابطہ طور پر حکومت بنانے کی دعوت دی جاتی ہے۔ بادشاہ عام انتخابات سے قبل باضابطہ طور پر حکومت کو بھی تحلیل کر دیتا ہے۔

پارلیمان کا افتتاح اور بادشاہ کی تقریر: بادشاہ پارلیمانی سال کا آغاز ریاستی افتتاحی تقریب سے کریں گے۔ وہ دارالامرا میں تخت سے دی جانے والی تقریر میں حکومت کے منصوبوں کا تعین کریں گے۔

شاہی منظوری: جب پارلیمان کے ذریعے کسی بھی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو اس کی باضابطہ منظوری بادشاہ سے لینی ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ قانون بن سکے۔ آخری مرتبہ سنہ 1708 میں شاہی منظوری سے انکار کیا گیا تھا۔

نئے بادشاہ دولت مشترکہ کے سربراہ ہیں، جو 2.4 ارب افراد کی آبادی والے 56 آزاد ممالک کی تنظیم ہے۔ ان میں سے 14 ممالک جنھیں دولت مشترکہ کی ریاستوں کے نام سے جانا جاتا ہے، وہ ان کے سربراہ مملکت بھی ہیں۔

تاہم سنہ 2001 میں بارباڈوس کے جمہوریہ بننے کے بعد خطہ کیریبیئن میں واقع دولت مشترکہ کی دیگر ریاستوں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔

اب برطانیہ کے ڈاک ٹکٹوں اور بینک آف انگلینڈ کے کرنسی نوٹوں پر بادشاہ چارلس سوم کی تصویر ان کی والدہ کی تصویر کی جگہ لے گی اور نئے برطانوی پاسپورٹس کے اندر عبارت بھی ہر میجسٹی کی جگہ ہز مجسٹی سے بدل ہو جائے گی۔

اب قومی ترانے میں ’گاڈ سیو دی کنگ‘ (خدا بادشاہ کو سلامت رکھے) استعمال ہو گا۔

شاہی جانشینی کا سلسلہ کیسے چلتا ہے؟

شاہی جانشینی کی ترتیب یہ طے کرتی ہے کہ کسی موجودہ شخص کی موت یا دستبرداری کے بعد شاہی خاندان کا کون سا فرد تخت سنبھالے گا۔ شاہی جانشینی کی قطار میں سب سے پہلے تخت کا وارث، یعنی بادشاہ یا ملکہ کا سب سے بڑا بچہ ہوتا ہے۔

ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد ان کے پہلے بچے چارلس نے تخت سنبھالا اور بادشاہ بن گئے اور ان کی اہلیہ کمیلا کوئین کنسورٹ بن گئیں۔

شاہی جانشینی کے قوانین میں سنہ 2013 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شاہی خاندان کے بیٹوں کو ان کی بڑی بہنوں پر فوقیت نہ ملے۔

شاہ چارلس کے جانشین ان کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم ہیں، جنھوں نے اپنے والد کی میراث سے ان کا ڈیوک آف کورنوال کا خطاب حاصل کیا ہے۔ انھیں اور کیتھرین کو بادشاہ کی جانب سے پرنس اور پرنسس آف ویلز کا خطاب عطا کر دیا گیا ہے۔

تخت کے لیے شہزادہ ولیم کے بڑے بیٹے پرنس جارج دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ ان کی بڑی بیٹی شہزادی شارلٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔

تاجپوشی کی تقریب میں کیا ہو گا؟

تاجپوشی وہ تقریب ہے جس میں بادشاہ کو باقاعدہ طور پر تاج پہنایا جاتا ہے۔ یہ پچھلے بادشاہ یا شاہی حکمران کی موت کے سوگ کی مدت کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔

الزبتھ دوم چھ فروری 1952 کو اپنے والد بادشاہ جارج ششم کی وفات کے بعد ملکہ بنی تھیں لیکن ان کی تاجپوشی دو جون 1953 تک نہیں کی گئی تھی۔

شاہی جانشینی کے قوانین میں سنہ 2013 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ شاہی خاندان کے بیٹوں کو ان کی بڑی بہنوں پر فوقیت نہ ملے۔

شاہ چارلس کے جانشین ان کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم ہیں، جنھوں نے اپنے والد کی میراث سے ان کا ڈیوک آف کورنوال کا خطاب حاصل کیا ہے۔ انھیں اور کیتھرین کو بادشاہ کی جانب سے پرنس اور پرنسس آف ویلز کا خطاب عطا کر دیا گیا ہے۔

تخت کے لیے شہزادہ ولیم کے بڑے بیٹے پرنس جارج دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ ان کی بڑی بیٹی شہزادی شارلٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔

تاجپوشی کی تقریب میں کیا ہو گا؟

تاجپوشی وہ تقریب ہے جس میں بادشاہ کو باقاعدہ طور پر تاج پہنایا جاتا ہے۔ یہ پچھلے بادشاہ یا شاہی حکمران کی موت کے سوگ کی مدت کے بعد منعقد کی جاتی ہے۔

الزبتھ دوم چھ فروری 1952 کو اپنے والد بادشاہ جارج ششم کی وفات کے بعد ملکہ بنی تھیں لیکن ان کی تاجپوشی دو جون 1953 تک نہیں کی گئی تھی۔

بادشاہت کتنی مقبول ہے؟

ملکہ کی پلاٹینم جوبلی کے وقت یو گوو نامی ایک ادارے کی جانب سے کیے گئے پول کے مطابق برطانیہ کے 62 فیصد افراد کا خیال تھا کہ ملک میں بادشاہت رہنی چاہیے جبکہ 22 فیصد کا خیال تھا کہ ملک میں ایک منتخب سربراہ ہونا چاہیے۔

سنہ 2021 میں کیے جانے والے دو پولز کے بھی کچھ اس سے ملتے جلتے نتائج تھے۔ جس میں پانچ میں سے ایک شخص کا یہ خیال تھا کہ بادشاہت ختم کرنا برطانیہ کے حق میں بہتر ہو گا۔

تاہم یو گوو نامی ادارے کے سروے کے نتائج سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ دہائی میں بادشاہت کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے جو کہ 2012 میں 75 فیصد سے 2022 میں 62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

اگرچہ بڑی عمر کے افراد کی اکثریت میں میں بادشاہت کے لیے حمایت تھی، لیکن پول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوجوان لوگوں کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔

سنہ 2021 میں جب یو گوو نے پہلی بار یہ سوال پوچھانا شروع کیا تو اس وقت 18 سے 24 سال کی عمر کے 59 فیصد لوگوں کے خیال میں بادشاہت کو جاری رہنا چاہیے تھا، جبکہ 2022 میں یہ شرح 33 فیصد تھی۔