میں مسلمان کیوں؟ پانچویں قسط

اسلام اور عالمگیریت

اسلام کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک آفاقی اور عالمگیر دین ہے۔ کرہ ارض پر اسلام واحد مذہب ہے جس نے عالمگیریت کا دعوی کیا کہ اس کا پیغام تمام انسانیت کے لئے ہے۔ اسلام سے قبل کسی مذہب نے یہ دعوی نہیں کیا کہ اس کا پیغام تمام انسانیت کے لئے ہے البتہ یہ ضرور کہا گیا کہ اس مذہب کی دعوت فلاں قوم، قبیلے اور علاقے والوں کے لیے ہے۔ اسی عالمگیریت کا اعلان کرتے ہوئےسورہ الفرقان کی پہلی آیت میں فرمایا:
"بابرکت ہے وہ ذات جس نے قرآن کو اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو”۔
سورہ سبا کی آیت 28 میں فرمایا:
اور ہم نے آپ کو سارے ہی انسانوں کے لئے ایسا رسول بنا کر بھیجا جو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا ہو”۔
سورہ االاعراف کی آیت 158 میں فرمایا:
"کہہ دو: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں”۔
اسی عالمگیریت کا اعلان نبی کریمﷺ نے ان الفاظ میں فرمایا:
"مجھے ہر سرخ اور کالے کی طرف مبعوث کیا گیا”۔
ایک اور حدیث میں سابقہ انبیاء کرام اور اپنی حیثیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"نبی اپنی خاص قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور مجھے تمام انسانیت کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا”۔

قرآن کریم کا اسلوب بھی اسلام کی عالمگیریت کا واضح مظہر ہے، کیونکہ قرآن کسی قوم یا قبیلے سے مخاطب ہونے کی بجائے پوری انسانیت سے مخاطب ہوتا ہے، ایھا الناس کہہ کر یا پھر اہل ایمان کو مخاطب کرتا ہے۔ اسی طرح نبیﷺ نے جب صفا کی پہاڑی پہ کھڑے ہو کر اسلام کی دعوت کا اعلان کیا تو صرف عرب کو یا عرب کے کسی خاص قبیلے کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ایھا الناس کہہ کر پوری انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم کلمہ طیبہ کا اقرار کر لو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اسی طرح اسلام کسی مخصوص زمانے کے لئے نہیں بلکہ تا قیامت آنے والے تمام بنی نوع انسان کے لئے راہ ہدایت ہے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں محمدﷺ کی جان ہے اس امت میں سے جوشخص بھی خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، میری نبوت کی خبرپائے اورمیری لائے ہوئی شریعت پرایمان لائے بغیرمرجائے وہ دوزخی ہے”۔ مذکورہ فرمان نبوی اس بات پر صریح دلالت کرتا ہے کہ رہتی دنیا تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے کامیابی کا واحد راستہ وہی ہے جو نبیﷺ لے کر آئے ہیں۔

سیرت طیبہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے نبیﷺ نے 6 ہجری میں تمام بادشاہوں کی طرف خطوط لکھے اور وفود کے ذریعے ان تک پہنچایا، ان خطوط میں نبی نے اپنی نبوت کو تسلیم کرنے اور قبول اسلام کی دعوت دی گئی۔ اس پہلو سے بھی یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ آپ کی نبوت عام تھی جس میں ہر خاص و عام شامل تھا۔

نبیﷺ نے اقوال کے ساتھ ساتھ عالمگیریت کا عملی نمونہ پیش کر کے دکھایا۔ اگر اعتقادی عالمگیریت کا جائزہ لیا جائے تو انسانیت کو مختلف خود ساختہ معبودوں، مورتیوں اور مخلوق کے آگے جھکنے کی بجائے ایک خالق حقیقی کی عبادت کی تعلیم دی، اتباع کے لئے تمام شخصیات سے بے نیاز کر کے ایک ایسی شخصیت کی پیروی کا حکم دیا گیا جو نبی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی اقدار و اخلاق کے اس معراج پر فائز تھے جہاں کوئی انسان آج تک نہ کوئی پہنچ سکا اور نہ پہنچ سکتا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و کتب سے مستغنی کیا جس میں غلطی کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے، اس ایک کتاب پر پوری انسانیت کو مجتمع کیا جو غلطیوں سے پاک، شکوک و شبہات سے بالاتر اور ہر انسان کے لئے یکساں مفید و قابل عمل ہے۔ اسی کا مظہر ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے مسلمان معبود، پیغمبر اور قرآن کے متعلق نظریہ و فکر میں متحد ہیں۔

اگر سیاسی عالمگیریت دیکھی جائے تو اسلام سے قبل عرب مختلف قبائل میں منقسم تھے اور ہر قبیلے کے اپنے قوانین تھے، اجتماعی و فلاحی ریاست کا کوئی تصور نہ تھا۔ اسلام نے عالمگیر سیاسی تصور دیا اور ایک ریاست قائم کی گئی جس کا پھیلاؤ بڑھتے بڑھتے جزیرہ عرب تک اور پھر خلفاء راشدین کے دور کے اختتام تک کئی بر اعظموں پر محیط ہو چکا تھا۔

اگر معاشرتی عالمگیریت کو دیکھا جائے تو ظلم و زیادتی کا خاتمہ کرتے ہوئے عدل و انصاف کا ایک پیمانہ مقرر کیا اور عدل میں امتیازات کی نفی کی۔ اسی طرح عداوت و بغاوت اور قتل و غارت کا قلع قمع کرتے ہوئے طبقاتی و لسانی اور علاقائی تعصبات کا خاتمہ کیا اور برابری کا درجہ دیتے ہوئے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر باہمی اخوت کا مضبوط رشتہ قائم کیا۔ اسی کا عملی مظہر تھا کہ تہذیب و تمدن کا ایسا عالمگیر تصور قائم ہوا کہ دنیا کے خطے میں بسنے والے مسلمان اپنی عبادات و اطوار سے ہی پہچانے جاتے تھے۔

آج مغرب عالمگیریت کا دعویدار ہے اور نظامہائے زندگی کے تمام گوشوں کو عالمگیریت میں پرونا چاہتا ہے، اس عالمگیریت کی بنیاد مادیت پرستی اور نفس و خواہش پرستی پر ہے جس کا مقصد انسانیت سے ہمدردی نہیں ہے بلکہ مادی وسائل میں ترقی اور اقوام عالم کو اپنا محکوم بنا کر مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ عالمگیریت انسانیت کے لئے زہر قاتل ہے اور انسانیت کی نسل کشی کے مترادف ہے۔ عالمگیریت کا سب سے پہلا اور بڑا دعویدار اسلام ہے اور بلا تفریق تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے عالمگیر نظام قائم کرنا اسلامی اصولوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
سخن سعدی