دعوہ اکیڈمی کو بند کرنے سے کیا نقصان ہو گا ؟

تحریر : ڈاکٹر محمد شاہد رفیع
ریٹائرڈ پروفیسر، دعوة اکیڈمی،
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے دعوة اکیڈمی جیسے وقیع عالمی ادارہ کو عملاً بند کر دیا حالاں کہ :
دعوة اکیڈمی 1985 میں صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم کی گئی۔ اس صدارتی آرڈیننس کو آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعہ سے دستوری تحفظ حاصل ہے۔

  • دعوة اکیڈمی اس آئینی تحفظ کے ساتھ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر نگرانی کام کر رہی ہے۔
  • دعوة اکیڈمی کو 1985 سے اب تک حکومت پاکستان کی جانب سے HEC کی وساطت سے ایک مناسب رقم یونیورسٹی کی گرانٹ سے علیحدہ ملتی چلی آ رہی ہے۔
  • دعوة اکیڈمی دنیا بھر میں کام کرنے والی 40 سے زائد دعوتی تنظیموں کے 1000 سے زائد افراد کی تربیت کر چکی ہے ۔
  • دعوة اکیڈمی 24 ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں 1300 سے زائد دینی و دعوتی کتب / کتابچے شائع کر چکی ہے ۔
  • دعوة اکیڈمی 10 زبانوں، پاکستانی و بیرونی، میں قرآنِ مجید کے تراجم شائع کر چکی ہے ۔
  • دعوة اکیڈمی کا اپنا FM ریڈیو چینل کام کر رہا ہے ۔

فاصلاتی تدریسی نظام کے تحت دعوة اکیڈمی 50,000 سے زائد خواتین و حضرات کو قرآن، حدیث اور اسلام کی تعلیمات پہنچا چکی ہے۔
دعوة اکیڈمی کے تربیتی پروگراموں سے کئی ہزار ائمہ مساجد، سرکاری افسران، اساتذہ، صحافی، ادیب، وکلاء، میڈیکل ڈاکٹرز وغیرہ مستفید ہو چکے ہیں۔
دعوة اکیڈمی نے ایسے ہی تربیتی پروگرام اور دینی و دعوتی لٹریچر کی خواتین اور نوجوانوں اور دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے "دعوة مرکز برائے خواتین” (DCW)، "شعبہ برائے نوجوانان” (CLD) اور "علاقائی مرکز دعوة سندھ” (RDC) قائم کیے ہوئے ہیں ۔

  • دعوة اکیڈمی اردو اور انگریزی زبان میں دو علیحدہ دعوتی و تحقیقی رسائل "ماہنامہ دعوة” اور "Insights” شائع کرتی رہی ہے۔ جنوری 2021 میں ایک جونیئر نوجوان اسسٹنٹ پروفیسر کو، جس کا دعوة سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا، دعوة اکیڈمی کا انچارج بنا کر بھیج دیا گیا۔

ان کو ایسوسی ایٹ پروفیسر بنے بغیر چند ماہ کے اندر فُل پروفیسر بنا کر اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل بنا دیا گیا۔
ان صاحب کے آنے کے بعد سے نہ شعبہ تربیت میں کوئی تربیتی پروگرام ہوا، نہ کوئی نئی یا طبع شدہ کتاب شائع ہوئی، نہ میڈیا کے شعبہ میں کوئی کام ہوا، نہ فاصلاتی تدریس کا شعبہ کچھ کر سکا ۔
کئی سالوں سے دعوة ایکٹی وٹیز کے لیے ملنے والی گرانٹ غلط طور پر انتظامی امور پر خرچ کی جا رہی ہے۔
اساتذہ، تحقیقی، تربیتی عملہ کے ہر منصوبہ کو یہ کہہ کر رد کیا جاتا رہا کہ پیسے نہیں ہیں۔

تربیتی، تدریسی عملہ نے کئی ایسے منصوبے پیش کیے جس میں کوئی خرچہ نہیں ہونا تھا بلکہ ایسی تجاویز بھی دی گئیں جن سے آمدن ہونی تھی۔ وہ بھی ڈی جی صاحب کی طرف سے منظور نہیں کیے گئے۔
اب یہ کہہ کر کہ دعوة اکیڈمی میں کوئی کام نہیں ہو رہا، 16 میں سے 10 اساتذہ کو اکیڈمی سے تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کا کوئی متبادل بھی نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ دعوة اکیڈمی کا سب سے بڑا فورم دعوة کونسل ہے جس کے ممبر ملک بھر کے چوٹی کے اسکالرز ہوتے ہیں اور اس کا چیئرمین جامعہ کا صدر ہوتا ہے، یونیورسٹی کا فیصلہ ساز ادارہ بورڈ آف گورنرز جس میں وزارتوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں اور اس کا چیئرمین جامعہ کا ریکٹر ہوتا ہے اور یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ بورڈ آف ٹرسٹیز ہے جس کے ممبر دنیا بھر سے چنیدہ افراد ہوتے ہیں اور اس کا چیئرمین جامعہ کا چانسلر یعنی صدرِ پاکستان ہوتا ہے۔ اکیڈمی کے بارے میں اتنے بڑے فیصلوں کے لیے ان میں سے کسی بھی فورم سے اس کی منظوری نہیں لی گئی بلکہ ان کو اطلاع کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔

اس مذموم عمل کو واپس ہونا چاہیے۔
دعوة اکیڈمی میں کسی اہل فرد کو ڈائریکٹر جنرل بنایا جانا چاہیے۔
دعوة ایکٹی وٹیز کا فنڈ ایکٹی وٹیز پر ہی خرچ ہونا چاہیے۔