محکمہ تعلیم سندھ میں OPS افسران کو نوازنے کا سلسلہ جاری

کراچی : عدالتی حکم  کے باوجود محکمہ تعلیم کراچی نے آوٹ آف ٹرن ترقی پانے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ، غیر قانونی ترقی پانے والوں کو سینئر افسران کے اوپر تعینات کر کے سینیئرز کی حق تلفی کی جارہی ہے ۔

گذشتہ برس 16 ستمبر 2021 میں سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری نے ایک حکم نامہ نمبر No.SO(SEC-III)1-1489/2021
جاری کیا تھا جس کے تحت سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں تمام ڈی ای اوز کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں تمام سنگل پیج ترقی پانے والے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو فوری اپنی اصل پوسٹ پر واپس بھیج کر ان کی ترقی پانے والے حکم نامے کینسل کریں ۔

اس میں مزید ہدایات دی تھیں کہ پندرہ روز میں محکمہ کو کام مکمل ہونے کی اطلاع دیں ۔ جس کے بعد تمام اضلاع میں لسٹیں بننا شروع ہوئیں اور سیاسی پشت پناہی پر غلط ترقیاں پانے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا تھا ۔

مذید پڑھیں : نئے چیئرمین HEC ڈاکٹر مختار نے 26 افسران کے تبادلے کر دیئے

اس کے بعد 12 اکتوبر کو سندھ سیکریٹریٹ کی جانب سے 41 تدریسی 16 غیری تدریسی ملازمین کا آرڈر جاری کیا گیا تھا جس کے تحت ان تمام آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے والے ملازمین کو اپنی اصل پوسٹ پر بھیجنے کا آرڈر جاری ہوا تھا ۔

اس آرڈر کے بعد تمام اضلاع میں مزید لسٹیں جاری کی گئیں لیکن اچانک بغیر کسی آرڈر کے یہ تمام آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے والوں کو کام رک گیا اور معلوم ہی نہیں کہ ایک برس گذرنے کے باوجود یہ تمام معاملہ جوں کا توں رہ گیا ہے اور اس کے بعد تو کئی سنگل پیجرس کو کئی کئی اسکولوں کی ذمہ داریاں تک سونپ کر آؤٹ آف ٹرن والوں کو سینئرز پر مسلط کر دیا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلیم کی بہتری کے لئے کام کرنے والے این جی او کی جانب سے او پی ایس افسران کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس میں ایسے افسران اور ملازمین کی لسٹیں تیار کی جا رہی ہیں ۔