کیماڑی KPT کے رفاعی پلاٹ پر اسپتال یا یونیورسٹی بننے کے بجائے قبضہ ہونے لگا

کراچی : کیماڑی کے علاقے جنگل شاہ روڈ پر قائم کراچی پورٹ ٹرسٹ کے پلاٹ نمبر 5-6-7-8 گزشتہ 17 سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی پی ایس 113 کے صدر لعل بادشاہ جدون اور خان بادشاہ جدون نے مبینہ طور پر کیماڑی کی عوام کے بہتر مستقبل کے لیے یہ پلاٹ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہسپتال و یونیورسٹی کے نام سے تحویل میں لیا تھا جو کہ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اسپتال نہیں بن سکا ۔

مذکورہ پلاٹ پر اسپتال بنایا گیا نہ ہی یونیورسٹی بنائی گئی ہے ۔ بلکہ پلاٹ پر ہیوی ٹرانسپورٹ ٹرالہ پارکنگ اور پلاٹ کے اطراف میں مضر صحت گٹکا ، ماوہ کے کیبنز قائم کر دیئے گئے ہیں اور پلاٹ کے اندر جانوروں کے لئے باڑے قائم کر دیئے گئے ہیں ۔جہاں سے کرایہ وصولی کا دھندہ مبینہ طور پر بہادر عرف بہادرے موٹا نامی شخص کرتا ہے ۔

مذکورہ کرایہ 300 روپے فی ٹرالے سے فی گھنٹہ کے حساب سے وصول کیا جاتا ہے ، جو ماہانہ 10 لاکھوں روپے بنتے ہیں ، مذکورہ رقم وصولی کے بعد جمع شدہ رقم پی ایس 113 کے صدر لعل بادشاہ جدون ، خان بادشاہ جدون کو پہنچائی جاتی ہے ۔ پلاٹ کے اطراف میں کچڑا کنڈیاں بن چکی ہیں ، روڈ خراب ہو گئے ہیں ، اور آس پاس کی رہائشی بلڈنگ میں فیملیز پریشانی میں مبتلا ہیں ۔

مذید پڑھیں : چکرا گوٹھ میں DHA کی لائن پر ایک اور ہائیڈرنٹ قائم کر لیا گیا

مذکورہ پلاٹ پر غیر قانونی تجاوزات اور ٹرالہ ڈرائیوروں کے نیم برہنہ حالت میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی وجہ سے علاقمہ مکین تنگ آ چکے ہیں ، جب کہ اسی پلاٹ کے ایک حصے میں باقاعدہ نشئی اپنی محفلیں گرماتے ہیں ، جس پر ایڈوکیٹ عمیر خانزادہ نے سندھ گورنمنٹ اور متعلقہ ادارے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی مدعیت میں ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کر دی ہے جس پر قانونی کاروائی متوقع ہے ۔

واضح رہے کہ سابق  وزیر ٹرانسپورٹ اختر حسین جدون نے کیماڑی جنگل شاہ روڈ پر قائم خالی پلاٹ پر 2007 میں باؤنڈری لگائی تھہ کہ اس پلاٹ پر کیماڑی کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی بنایا جائے گا ۔ تاہم 15 برس بعد بھی پیپلز پانی شہید محترمہ کے نام کا رفاعی ادارہ بنانے میں ناکام ہے ۔

ادھر معلوم ہو ہے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اسٹیٹ مینیجر اشفاق ملاح نے کے پی ٹی انٹیلیجنس اور ایس ایچ او کے پی ٹی انکروچمنٹ کو حکم دیا ہے کہ پلاٹ کے حوالے سے سات روز کے اندر رپورٹ پیش کی جائے ۔