دعا عبودیت و بندگی کی دلیل ہے – خطبہ جمعہ مسجد نبوی شریف

اردو ترجمہ خطبہ جمعہ مسجد نبوی شریف۔
خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ
موضوع: دعا عبودیت و بندگی کی دلیل ہے۔

بتاریخ: 20/ صفر / 1444ھ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پہلا خطبہ:

بے شک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد بجالاتے ہیں ، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں ، ہم اپنے نفس کی برائی اور اپنے برے اعمال سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالی ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ، اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی (سچا معبود نہیں، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ بہت زیادہ در و دو سلام نازل ہوں ان پر ،ان کی آل اور صحابہ کرام پر ۔

حمد و صلاۃ کے بعد!

اللہ کے بندو!

اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور خلوت و سر گوشی ہر حال میں اس کی نگرانی کا احساس اپنے دل میں قائم رکھو۔

مسلمانو!

اللہ کا دین جسے اس نے مخلوقات کے اولین فرد سے لیکر اخیر تک سب کے لیے پسند فرمایا، وہ دین اسلام ہے۔ سارے نبی یہی دین لے کر آۓ، اور تمام رسول اسی دین کے علم بردار رہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے: {إن الدين عند الله الإسلام } : ” بے شک اللہ تعالی کے نزدیک دین، اسلام ہی ہے ۔ “
(آل عمران:19)۔

اور وہ یہ ہے کہ صرف اللہ رب العالمین کی خوشنودی ورضاجوئی مطلوب ہو ، اور اسی کو رب، مالک، متصرف اور تن تنہا و اکیلا معبود تسلیم کیا جاۓ ، اور دل و دماغ پورے طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوں۔ یہی سیدھا، سچا اور شرک سے بیزار دین ہے جو ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے: { ثم أوحينا إليك أن اتبع ملة إبرهيم حنيفا. وما كان من المشركين } ” پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ آپ دین ابراہیم کی پیروی کریں جو ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرک نہ تھے۔ (النحل:123)۔

یہ عقائد واحکام پر مبنی دین ہے ۔ یہاں علم و عمل ہے اور اس کا ظاہر و باطن دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔

کلمہ لا الہ الا اللہ “ اس دین کی بنیاد اور اساس ہے ، اور اس کی عمارت کا وہ گنبد ہے جس میں اس کا کمال اور حسن پنہاں ہے ۔ وہی اس کا آغاز اور انجام ہے۔ اور وہی اس کا سبب اور مقصد ہے۔ اسے زبان سے ادا کرنے کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنے کا وہی مقام و مرتبہ ہے جو جسم میں روح کا مقام ہے ۔ بغیر روح کے جسم کا کوئی فائدہ نہیں۔ اسی طرح یہ کلمہ اس کے پڑھنے والے کو بغیر معانی و عمل کے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ اور جس شخص نے اس کے معنی کو جانتے ہوۓ ، اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوۓ ، اور اس کے مطالبات و حقوق کو پورا کرتے ہوۓ زبان سے کہا، اس نے صحیح معنوں میں توحید کو ثابت کر دکھایا۔ بندے کی طرف سے اللہ کی توحید پر سب سے سچا ثبوت، اور خالق عزوجل کے منفرد ہونے کی خصوصیت پر واضح دلیل : بندے کا صرف اور صرف اللہ تعالی کو پکارنا ہے ۔
نبی ﷺ نے فرمایا: ” جب تم مانگو، تو اللہ ہی سے مانگو “
(اسے ترمذی نے روایت کیا ہے)۔

 

اللہ کا دین قائم ہی نہیں ہوتا جب تک کہ بندہ اللہ کے ماسوا کو چھوڑ کر صرف اللہ کو نہ پکارے، اس پیغام کے ساتھ اللہ نے انبیا و رسل بھیجے ، کتابیں نازل کیں۔ یہی اس کا دین ہے ۔ وہ پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندے اس دین کو ظاہر کریں گرچہ اس سے اعراض کرنے والوں پر یہ ناگوار گزرے۔

ارشاد باری تعالی ہے: { فادعوا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون } ” پس اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوۓ اگر چہ کافر برا منائیں۔ (غافر : 14)۔

اور اللہ تعالی نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم میں اعلان کر دیں کہ اس کا پیغام دعا کے سلسلے میں خالص توحید پر مبنی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: {قل إنما أدعوا ربي ولا أشرك به أحدا } ” کہہ دو میں تو اپنے رب ہی کو پکار تاہوں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں کرتا۔ “ ( الجن: 20)۔

اور دعا سے اعراض کرنے والے کو اللہ تعالی نے جہنم کی آگ اور ذلت و رسوائی کی وعید سنائی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: {إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين } ۔ ”یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم پہنچ جائیں گے “ [غافر:60]۔

جس شخص کا نفس اللہ تعالی سے دعا کرنے کو ناپسند کرے ، اور مخلوق سے مانگنے میں خوشی محسوس کرے تو یہ گمراہی اور آخرت سے غفلت کی علامت ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے: { وإذا ذكر الله وحده اشمأزت قلوب الذين لا يؤمنون بالآخرة } ۔ اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑ جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ [الزمر:45]۔

 

جو بھی ایمانی مقام و موقع جسے اللہ تعالی نے دلوں پر فرض کیا ہے اس کے ساتھ دعا لازم و ملزوم ہے ، اور ظاہری و باطنی تمام عبادات اپنے معنی و مفہوم اور غرض و غایت کے لحاظ سے دعا ہی ہیں ، چنانچہ نماز پڑھنے والا ، یاروزہ رکھنے والا ، یا حج کرنے والا یا صدقہ کرنے والا اپنے رب سے زبان حال سے دعا ہی کر رہا ہوتا ہے ، اس کا اپنے رب کی عبادت کرنا، اس کے لیے عاجزی و انکساری اختیار کرنا، اور اس کا اپنے رب سے محبت کرنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنے رب سے قبولیت کا سائل اور تقرب کا طلب گار ہے ، اس طور پر دعا ہی عبادت ہے ، اور دعا ہی عبادت کی اساس، لب لباب اور حقیقت ہے ، جیسا کہ فرمانِ نبوی ہے : ”یقینا دعا ہی عبادت ہے ۔ پھر آپ صلی الله عليه وسلم نے یہ آیت پڑھی: { وقال ربكم ادعوني أستجب لكم } ” اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ “[غافر:60] ۔

دعا کی عظمت اور قدر و منزلت کی وجہ سے ہی اللہ تعالی نے اپنی کتاب کا آغاز دعا سے کیا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { اهدنا الصراط المستقیم } ”اے اللہ! تو ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت دے۔“ (الفاتحۃ: 6)۔ اس کا اختتام معوذتین سے کیا ہے ، جن ان میں دعا کا ذکر ہے ، نیز اللہ نے دعا کو دین کے نام سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { فادعوا الله مخلصين له الدين ” تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لئے دین کو خالص کر کے ۔ “(غافر :14)۔

اور اسی کو مکمل عبادت کے نام سے بھی موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { وقال ربكم ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين} ”اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا۔ بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔ “ (غافر:60)۔

دعا میں اللہ وحدہ کے لیے اخلاص پیدا کرنا ایمان کی علامت ہے ، یقین کی دلیل ہے ، نجات کی رسی ہے ، اور کامیابی و کامرانی کا ذریعہ ہے ، اور یہ انبیاء و مؤمنین کا شعار ہے ، اپنی دعا میں اپنے رب کو تنہا و یکتا تسلیم کرتے ہوۓ دعا کرنے والا ہی در حقیقت سچا عبادت گزار ہے ، اور صاحب بصیرت ہے جو اعلی و ارفع حقیقت پانے کے لیے درست راستے پر گامزن ہے ، کیوں کہ دعا ہی وہ مضبوط ستون ہے جس کا مسلمان سہارا لیتے ہیں ، پرامن پناہ گاہ ہے جہاں محتاج لوگ پناہ لیتے ہیں ، بندہ جب اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے دعا کرتا ہے ، تو اس کے اعضاء و جوارح تصدیق کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ، اپنے رب کے لیے مطیع و فرمانبردار ہو جاتے ہیں ، اور آلام و مصائب میں دل اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے ، اور ان مصیبتوں میں زبان اسی کو پکارنے میں مصروف ہو جاتی ہے ، اور یہی مصیبتیں اور پریشانیاں بندے کو اپنے رب کی پہچان کراتی ہیں اور اخلاص کے ساتھ دعا کرنے پر آمادہ کر دیتی ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { وإذا مس الإنسان الضر دعانا لجنبه أو قاعدا أو قائما } ۔ اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر ، یا بیٹھا ہوا، یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے ۔ “ (یونس:12)۔

ہمارا پروردگار ہی وہ تنہاذات ہے جسے ہر وقت اور ہر حال میں پکارا جاتا ہے ، وہی وہ خالق ہے جو کسی چیز سے عاجز نہیں ہے ، اور ایسا قادر و غالب ہے جو ہر چیز سے بلند ہے ، رزق اس کے ہاتھ میں ہے ، عطا کرنا، یارو کنا اسی سے ہے یا اس کی طرف ہے ، اور جلال و جمال و کمال کی صفات وہ کامل صفتیں ہیں جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتیں، اور جو اس سے اس کے ناموں اور صفات کا واسطہ دے کر دعا کرے گا تو وہ اس کی دعا کو شرف قبولیت بخشے گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها } ۔ ”اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے ہیں، سو اسے ان کے ساتھ پکارو “ (الاعراف: 180)۔

 

وہ دور والے کو بھی ویسے ہی سنتا ہے جیسے وہ قریب والے کو سنتا ہے ، اور وہ مانگنے والوں اور عبادت گزاروں سے بہت زیادہ قریب ہے ، ان میں سے جو اپنی حاجت کو اس کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ اسے پورا کر دیتا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { وإذا سألك عبادي عني فإني قريب أجيب دعوة الداع إذا دعان } ” جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں۔“(البقرۃ: 186)۔ جو اس سے رحمت طلب کرتا ہے وہ اس پر رحم کرتا ہے ، اور جو اس سے بخشش طلب کرتا ہے ، وہ اسے معاف کر دیتا ہے ، اور جو اس سے مانگتا ہے وہ اسے عطا کر دیتا ہے ، جو اس کی طرف اپنی محتاجگی کا اظہار کرتا ہے وہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
{ولله خزائن السّماوات والأرض} ” آسانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں۔ “(المنافقون:7)

وہی کائنات کو چلاتا ہے ، اور اپنی مخلوق کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { والله يقضي بالحق والذين يدعون من دونه لا يقضون بشيء } ” اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ لوگ جنھیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے ۔“ ( غافر: 20)۔

وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم رہنے والا ہے ، پکارنے والا اسے اپنی حاجت سے کبھی غافل نہیں پاۓ گا، اور نہ ہی تکلیف کو دور کرنے سے عاجز پاۓ گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { هو الحي لا إله إلا هو فادعوه مخلصين له الدين } ” وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوۓ اسے پکارو “ (غافر:65)۔

وہ اکیلا ہی دعا کے لائق ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہی اکیلا برحق ہے ، اور اس کے علاوہ اگر کسی سے مانگا جائے تو دعا قبول نہیں ہوگی۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: { ذلك بأن الله هو الحق وأن ما يدعون من دونه هو الباطل ” یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے بھی پکارتے ہیں وہ باطل ہے۔“(الج:62)۔

 

اس کا عطا و بخشش عقلوں کو حیران کر دیتی ہے ، وہ چھوٹی سے نیکی پر بڑی بڑی خیرات سے نواز دیتا ہے ، اور جو اس کی تعریف کر تا ہے اور اس سے اچھے طریقے سے مانگتا ہے تو وہ اسے وافر عطا کرتا ہے ، حدیث قدسی میں ہے ، وہ اپنے ان بندوں کے بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کر دیتا ہے ، جن کا دین اور توحید صحیح ہو ، اس کے سوا کسی کو اس کا شریک نہ بنایا ہو جیسا کہ حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالی ہے : ” اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے ، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے (اور) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں۔“۔(مسلم)۔

اللہ کا محبوب ترین بندہ وہ ہے جو اس کے سامنے سب سے زیادہ گریہ و زاری کرتا ہے ، اور جس قدر بندے کے ایمان، اس کے دینی شعور ، اور للہیت میں اضافہ ہوگا اس قدر ہر صورت رب سے دعا کرنے کا شوق اس کے اندر زیادہ ہو گا۔ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں چاہئے کہ اپنے رب سے ہر ضرورت کا سوال کرو، یہاں تک کہ اپنے جوتے کے تسمے کا بھی سوال کرو اگر وہ ٹوٹ جائے “۔ (ترمذی)۔

شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں : انبیاء کرام اور ان کے پیروکاروں کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اللہ سے اپنے دینی اور اخروی امور ، اور دنیاوی مقاصد کے حصول کا سوال کرتے ہیں ، اور جب ان کا یہ حال ہے تو پھر رب سے سوال کرنے سے کون بے نیاز ہو سکتا ہے؟ پھر بندے کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ رب سے سوال کرے، اور رب کی یہ شان ہے کہ بندے کے سوال کو سنے، چنانچہ اگر کسی کو یہ گمان ہو جاۓ کہ وہ رب سے سوال کرنے سے مستغنی ہے تو وہ عبودیت اور بندگی کے دائرے سے نکل گیا۔

انبیاء کرام کا طریقہ یہ رہا ہے کہ وہ ہرحال میں کثرت سے دعائیں کرتے تھے ، ارشاد باری تعالی ہے: {إنّهم كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين } بیشک وہ لوگ خیر کے کاموں کی طرف سبقت کرتے تھے ، اور ہمیں امید و بیم کی حالت میں پکارتے تھے اور ہمارے لیے خشوع و خضوع اختیار کرتے تھے “۔
زکریا علیہ السلام کے دل میں بیٹے کی خواہش پیدا ہوئی تو انہوں اپنے رب سے نیک سیرت اولاد کی دعا کی اور اس کی کرم فرمائی کی تعریف کی اور فرمایا: { إنك سميع الدعاء } ” تو ہی دعا سننے والا ہے “۔ [ آل عمران: 38]۔ پھر جب محراب کی طرف جانے لگے تو فرشتوں نے ان کے صلب سے ایک نبی ہونے کی بشارت سنائی ، حالانکہ وہ عمر دراز اور ناتواں ہو گئے تھے ، اور نوح علیہ السلام کی قوم نے جب ان کی نافرمانی کی اور ان کی دعوت کو جھٹلایا { فدعا ربه أني مغلوب فانتصر } تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر “۔ (القمر:9)،
تو اللہ نے ایک ہولناک طوفان کے ذریعے نوح علیہ السلام کے اہل ایمان پیروکاروں کو چھوڑ کر زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو غرقاب کر دیا، اسی طرح اللہ عزوجل نے اصحاب کہف کا قصہ ذکر کیا ہے کہ کیسے چند توحید پرست نوجوانوں کو جب یہ علم ہوا کہ صرف اللہ وحدہ کو پکارنا جائز ہے اور یہی وہ دین ہے جو اللہ کو مقبول ہے تو اپنی قوم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوۓ اور فرمایا: {ربنا رب السماوات والأرض لن ندعو من دونه إلها لقد قلنا إذا شططا ” اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود پکاریں اگر ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کہی “۔ (سورۃ الکھف:15)۔

صبح و شام اور رات کے آخری پہر میں دعا کرنا مومنوں کا معمول ہے: { تتجافى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون } ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں [19] دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ (السجدۃ:16)۔

اخلاص کے ساتھ کثرت سے رب سے دعائیں کرنے والوں کی صحبت اختیار کرنے کا اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے {واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهة ” اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضاجوئی کے لیے پکارتے رہتے ہیں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھیے“۔ (سورۃ الکھف:28)۔

 

دعا کے فوائد و ثمرات عظیم اور بے شمار ہیں ، زندے اور مردے یکساں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، دعا کی برکتوں سے داعی اور مدعو دونوں محظوظ ہوتے ہیں، اور دیگر تمام اسباب کی طرح یہ ایک مؤثر سبب ہے ، تقدیر الہی کے مطابق بندہ رب سے دعائیں کرتا ہے اور مشئیت الہی کے مطابق اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، چنانچہ اللہ کے سابقہ علم کی روشنی میں دعا بلاؤں کو ٹالتی ہے ، خیر کا سبب بنتی ہے ، اور بحکم الہی ہلاکت و تباہی سے انسان کو بچاتی ہے ، پس سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ، اور کسی بھی مخلوق کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔

خالص اللہ رب العالمین سے دعا و فریاد کی روشنی اس قدر تیز ہے کہ اس کی تاب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا دنیاکا کوئی بھی خود ساختہ معبود، رب ، ہمسر ، مد مقابل، ساتھی، اور مدد گار نہیں لا سکتا ہے ، اور اس سے مانگنے والا رب کا سچا بندہ ہوتا ہے جو اپنی قصد و ارادہ، تعظیم ، محبت ، خوف وامید میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرتا ہے ، اور اس کے دل کی وابستگی خوشی اور مصیبت ہر حال میں اس کے ساتھ ہوتی ہے ، اور خوشحالی اور تکلیف و آلام ہر صورت میں زبان سے اس کی صدا نکلتی ہے ۔

جو شخص اپنی توحید کی حقیقت سے آشنائی چاہتا ہے وہ غور کرے کہ دعا کے وقت وہ کس کو پکارتا ہے ، اگر وہ خالص اللہ سے دعا کرتا ہے تو وہ توحید کے مقام سے آگاہ ہے ، اور جو غیر اللہ سے فریاد کرتا ہے وہ اس کے ساتھ دوسرے کو بھی شریک کر رہا ہے، ارشاد باری تعالی ہے: { ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به فإنما حسابه عند ربه إنه لا يفلح الكافرون } ”جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں“۔(المومنون:117)۔

 

ہر طرح کا فضل و کمال اور بزرگی و برتری صرف اللہ عزوجل کے لیے ہے ، اور عبادت کا صرف وہی سزا وار ہے ، اور الوہیت صرف اس کی عظمت کے شایان شان ہے ، انسانوں میں سے چاہے کوئی کتنا ہی عظیم مقام پر فائز کیوں نہ ہو ، وہ اس لائق نہیں ہے کہ اس کو اللہ کے سواکسی معمولی یا بڑی چیز کے لیے پکارا جائے ، کیوں کہ جو شخص اس کائنات کی حقیر اور چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز ہو وہ عبادت اور دعا کا کسی بھی طرح مستحق نہیں ہو سکتا ہے، { إن الذين تدعون من دون الله لن يخلقوا ذباباً ولو اجتمعوا له } ” اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں۔“۔ (سورۃ الحج:73)۔

 

اللہ تعالی نے اپنے مخلوق میں سے رسولوں کو منتخب فرمایا اور ان کو دوسروں پر فضیلت بخشی ، لیکن اس کے باوجود ان میں سے کسی نے بھی اللہ کی ربوبیت میں شریک ہونے کا دعوی نہیں کیا، اور نہ ہی لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انہیں پکار یں ، اور نہ ہی اس طرح کے عمل سے راضی ہوۓ۔ ارشاد باری تعالی ہے: {وإذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق } "اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب اللہ نے کہا اے عیسی بن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنالو، تو انہوں نے کہا، تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے ، میرے لیے یہ ہرگز مناسب نہیں ہے کہ میں وہ بات کہوں جو میر احق نہیں ہے “ (سورۃالمائدۃ:116)۔

اور بھلا وہ ایسا کیسے کر سکتے تھے جب کہ وہ خود طرح طرح کی آفتوں، پیاریوں، کمزوریوں اور نقائص سے دو چار ہوتے تھے ، ان میں سے بعض کو قتل کر دیا گیا، بعض کو بیماری لاحق ہوئی اور بعض پر جادو کیا گیا۔

غیر اللہ کو پکارنا ایک عظیم جرم ہے ، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوۓ فرمایا: { ولا تدع من دون الله ما لا ينفعك ولا يضرك فإن فعلت فإنك إذا من الظالمين } "اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے ، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے “
(سورۃیونس:106)۔

اللہ نے اپنے نبی کو غیر اللہ کو پکارنے کی صورت میں عذاب کی دھمکی سنائی ، ارشاد باری تعالی ہے: { فلا تدع مع الله إلها آخر فتكون من المعذبين؛ ” پس تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکار کہ تو بھی سزا پانے والوں میں سے ہو جاۓ “ (سورۃ الشعراء: 213)۔

اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارنا روۓ زمین کا سب سے بڑا گناہ ہے ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ” میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون سا گناہ سب سے عظیم ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے “۔ (متفق علیہ)۔

نماز ، رکوع و سجدہ کو مشروع اس لیے کیا گیا ہے اور اللہ کی زمین میں مسجدیں اس لیے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کو پکارا جاۓ اور اس کے علاوہ کسی غیر کو ہر گز نہ پکارا جاۓ۔ {وأن المساجد لله فلا تدعوا مع الله أحدا} ” اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص میں پس اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو ۔ “ (سورۃالجن:18)۔

بندہ جب پکارے تو خالق کو پکارے ، اپنے ہی جیسے کسی مخلوق کو نہ پکارے اور نہ ہی اس سے فریاد کرے، {إنّ الذين تدعون من دون الله عباد أمثالكم فادعوهم فليستجيبوا لكم إن كنتم صادقين } "واقع تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم جیسے ہی بندے ہیں ، سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو۔“ (سورۃ الاعراف: 194)۔
قبر میں مدفون شخص پکارنے والے کی پکار کو نہیں سنتا ہے ، گرچہ پکارنے والا اس کو ربوبیت کے مقام پر پہنچادے ، اور نہ ہی فریاد کرنے والے کو کچھ بھی فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے ، گرچہ اس کے بارے وہ الوہیت کے خصائص کا دعوی کرے، { والذين تدعون من دونه ما يملكون من قطمير إن تدعوهم لا يسمعوا دعاءكم ولو سمعوا ما استجابوا لكم ”جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں ، اور اگر (بالفرض ) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کر یں گے ۔“
(سورۃ فاطر : 13 – 14)۔

غیر اللہ کو پکارنے والے کو بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ جسے پکار رہا ہے وہ نہ سنتا ہے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے: { قال هل يسمعونكم إذ تدعون أو ينفعونكم أو يضرون قالوا بل وجدنا آباءنا كذلك يفعلون } ” آپ (ابراہیم) نے فرمایا کہ جب تم انھیں پکارتے ہو تو کیا وہ سنتے بھی ہیں ؟ یا تمہیں نفع نقصان بھی پہنچاسکتے ہیں انہوں نے کہا یہ ( ہم کچھ نہیں جانتے ) ہم نے تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا۔ “ (سورۃ الشعراء: 72 – 74)۔
ابن کثیر فرماتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اعتراف کیا کہ ان کے بت کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں ، بلکہ انہوں نے اپنے آباء واجداد کو ایسا کرتے ہوۓ پایا اس لیے وہ کر رہے ہیں“۔

 

مردے تو اپنی مدد کرنے سے عاجز ہوتے ہیں لہذا ان سے فریاد رسی کرنا نا ممکن ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: { والذين تدعون من دونه لا يستطيعون نصركم ولا أنفسهم ينصرون} ”اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری مدد کیا کریں گے وہ تو اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے “۔ (سورۃ الاعراف: 197)۔ اور جو کسی مردے کو نفع حاصل کرنے یا نقصان دور کرنے کی امید سے پکارتا ہے اس کے حصے میں دین کی تباہی اور تھکاوٹ و پریشانی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ارشاد باری تعالی ہے: { يدعو من دون الله ما لا يضره وما لا ينفعه ذلك هو الضلال البعيد * يدعو لمن ضره أقرب من نفعه لبئس المولى ولبئس العشير} ”وہ اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو نہ اسے تکلیف پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ دے سکتا ہے۔ یہ ہے گمراہی کی انتہا۔ وہ اس کو پکارتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ بہت برا ہے اس کا مددگار اور بہت برا ہے اس کا رفیق“۔ (سورۃ الج: 12-13)۔

مخلوق کی طرف فریاد رسی کے لیے متوجہ ہونا اور زندوں اور مردوں سے مدد طلب کرنا، اپنے نفس کو ذلیل ورسوا کرنے کے مترادف ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اے اللہ جس طرح تو نے ہمیں غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے بچایا ہے اسی طرح غیر اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بھی ہماری حفاظت فرما، کیوں کہ نقصانات کو دور کرنے اور نفع پہنچانے کی طاقت تیرے سوا کسی کے پاس نہیں ہے “۔

جو بندہ بھی غیر اللہ کو پکارتا ہے ، یا اس کا دل غیر اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ، یا اللہ کے سوا کسی اور سے وابستہ ہونے کے لیے شیطان اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تو اس کا ایسی مصیبتوں اور پریشانیوں سے پالا پڑ تا ہے جو اس کے سامنے پکارے جانے والے (معبودان باطلہ ) کی عاجزی و بے بسی کو آشکار کر دیتی ہیں اور ان کی کمزوری اور پسپائی کو عیاں کر دیتی ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: {قل أرأيتكم إن أتاكم عذاب الله أو أتتكم الساعة أغير الله تدعون إن كنتم صادقين* بل إياه تدعون فيكشف ما تدعون إليه إن شاء وتنسون ما تشركون } ” آپ کہیے کہ اپنا حال تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا کوئی عذاب آ جاۓ یا تم پر قیامت ہی آپہنچے تو کیا اللہ کے سواکسی اور کو پکارو گے۔

اگر تم سچے ہو ، بلکہ تم صرف اسے ہی پکارو گے تو وہ دور کر دیگا ( اس تکلیف کو جو کہ تم پکارتے ہو اس کی طرف اگر وہ چاہے اور تم بھول جاؤ گے جن کو تم شریک بناتے ہو۔“ (سورۃالانعام:40 -41)۔

جو شخص اللہ کی بادشاہت میں اس کی یکتائی اور مخلوق سے اس کی بے نیازی سے واقف ہوگا وہ اس کے علاوہ کسی اور سے نفع کی توقع نہیں رکھے گا، اور اس کی ساری امیدوں کا مرکز وہی قرار پاۓ گا۔ ارشاد باری تعالی ہے: {قل ادعوا الذين زعمتم من دون الله لا يملكون مثقال ذرة في السماوات ولا في الأرض وما لهم فيهما من شرك وما له منهم من ظهير} ”اے میرے نبی ! آپ مشرکوں سے کہئے کہ جنہیں تم اللہ کے سوا معبود بنا بیٹھے ہو انہیں پکارو تو سہی، وہ تو آسمانوں اور زمین میں ایک ذرہ کے برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں ، اور نہ ان دونوں کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے ، اور نہ ان لوگوں میں سے کوئی اس کا مددگار ہے “۔ (سورۃ سبا: 22)۔

 

جب مشرکین کو موت آ دبوچتی ہے تو وہ اپنے شرکیہ اعمال سے برأت کا اظہار کرنے لگتے ہیں: {الذين تتوفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم فألقوا السلم ” ان کی روحیں فرشتے اس حال میں قبض کریں گے کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہوں گے ، تو وہ فرماں برداری پیش کریں گے “۔ (النحل: 28)

یعنی یہ کہتے ہوۓ اطاعت و فرماں برداری اور حکم برداری کا اظہار کرنے لگیں گے ۔ ” {ما كنا نعمل من سوء ” کہ ہم تو کوئی برا کام نہیں کرتے تھے “(النحل: 28)۔

اور اس وقت جب اس کی قیامت قائم ہو جاۓ گی اور وہ موت کا مشاہدہ کریں گے جس سے وہ غافل تھے تو اس کی آنکھوں سے دھوکہ اور فریب کے پردے ہٹ جائیں گے ، اور وہ یقینی طور پر مخلوق کی بے بسی کو دیکھ لیں گے اور روز قیامت جنہیں وہ پکارتے تھے ان کی طرف سے اظہار برات کا مشاہدہ بھی کر لیں گے ۔ { حتى إذا جاءتهم رسلنا يتوفونهم قالوا أين ما كنتم تدعون من دون الله قالوا ضلوا عنّا } ” یہاں تک کہ ہمارے فرشتے جب ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تو پوچھیں گے ، کہاں ہیں وہ جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب ہمیں چھوڑ کر غائب ہو گئے” (الاعراف:37)۔ یعنی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ، اب ہمیں ان سے نفع اور خیر کی کوئی امید نہیں ہے ، اور جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا اور اسے ہمیشہ جہنم میں رکھے گا ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہو گا”۔ (متفق علیہ )۔

 

اے مسلمانو!

دعا ایک اہم عبادت ہے ، اسی سے ایک موحد مشرک سے ممتاز ہوتا ہے ، اور شیطان کے لیے یہ ایسا آسان دروازہ ہے جہاں سے داخل ہو کر بندوں کے دین کو بگاڑ سکتا ہے۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مردوں سے حاجتیں طلب کرنا، فریادیں کرنا، ان کی طرف متوجہ ہونا ہی دنیا میں شرک کی اصل جڑ ہے “۔ ایک مسلمان قلبی انہماک کے ساتھ رب کی عبادت کرتا ہے اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف قصد کرتا ہے ، اور اپنے علم ، قصد و ارادہ اور محبت میں خالق اور مخلوق کے درمیان فرق کرتا ہے ، اور ہر کسی کے مقام و مر تبہ اور حقوق کو پہچانتا ہے ، ایک کو دوسرے کا حق نہیں دیتا ، چنانچہ رب کا حق یہ ہے کہ عبادت ، دعا، خوف اور امید کو اس کے لیے خاص کیا جاۓ ، اور نیک لوگوں کا حق یہ ہے کہ ان سے محبت کی جاۓ اور ان کے نقش قدم پر چلا جاۓ ، ان کے مقام و مربتہ کا پاس رکھا جاۓ اور ان کا ذکر خیر کیا جاۓ۔

أعوذ باللہ من الشیطان الرجيم- {فأقم وجهك للدين حنيفا فطرت الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم ولكن أكثر الناس لا يعلمون } ”پس (اے میرے نبی آپ یکسو ہو کر دین اسلام پر قائم رہے ، یہ اللہ کا وہ دین فطرت ہے جس کے مطابق اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے ، یہی سچا اور صحیح دین ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےہیں“۔(سورۃ الروم:30)۔

اللہ تعالی قرآن کو میرے لیے اور آپ کے لیے بابرکت بناۓ۔

 

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اس کے احسانات پر ، اور شکر ہے اس کی توفیق اور انعامات پر ، میں اللہ کی عظمت شان کا اعتراف کرتے ہوۓ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ، وہ تنہا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل واصحاب پر بے شمار درود و سلام نازل ہوں۔

مسلمانو! انسان کو جو چیزیں عطا کی گئی ہیں ان میں سب سے قیمتی توحید الہی ہے ، اور مرتے دم تک اس پر ثابت قدم رہنا سب سے عظیم نعمت ہے۔ صحیح توحید اگرچہ کم ہی ہو وہ انسان کو جہنم کے دائمی عذاب سے بچالے گی ، اور توحید کامل انسان کو جہنم میں داخل ہی نہیں ہونے دے گی۔ شیطان کے کچھ حیلے اور شبہات ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ بندوں کو دین سے پھیر دیتا ہے ، شیطان انسان کو شبہات میں ڈالتا ہے پھر ان کی پیروی پر ابھارتا ہے اور ان کی تصدیق کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے جو سلامتی کا خواہاں ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنی توحید وایمان کی نگہداشت کرتا رہے اور شبہات کی جگہوں سے اپنے آپ کو دور رکھے ۔

جان لیجیے! کہ اللہ تعالی نے آپ سب کو اپنے نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہے: { إن الله وملائكته يصلون على النبي يا أيها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما ”اللہ تعالی اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ “(احزاب:56)۔ }

 

اے اللہ ! تو ہمارے نبی محمد پر درود و سلام اور برکت نازل فرما، اے اللہ ! اے سب سے باعزت ذات ! تو اپنے جو دو کرم کی بارش کرتے ہوۓ ، اصحاب حق وانصاف خلفائے راشدین ابو بکر ، عمر، عثمان ، علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، اور ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا۔

اے اللہ ! تو اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور اہل شرک کو رسوا کر دے، دشمنان اسلام کو نیست و نابود کر دے، اے اللہ ! اس ملک کو اور تمام مسلم ممالک کو امن و امان اور خوش حالی کا گہوارہ بنادے، اے اللہ ! تو ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو اپنے پسندیدہ امور کی توفیق عطا فرما، تو انہیں نیکی و تقوی کی راہ پر گامزن فرما، ان سے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا، اے رب العالمین! اور تو تمام مسلم حکمرانوں کو اپنی کتاب پر عمل کرنے اور شریعت کو نافذ کرنے کی توفیق عطا فرما۔ {ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النّار ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔“ (البقرہ:201)۔ (ربنا ظلمنا أنفسنا وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين . ”اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔“

اللہ کے بندو! { إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون } ”بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور سرکشی سے منع کرتا ہے ، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ (النحل:90)۔ لہذا تم قدر و عظمت والے رب کو یاد کرو ، وہ تمھیں یاد کرے گا اور اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرو، وہ تمہیں مزید عطا کرے گا۔ { ولذكر الله أكبر والله يعلم ما تصنعون } ”بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبر دار ہے ۔ “ (العنکبوت:45)۔