نوجوانوں کیلئے اسلامی بینکنگ اینڈ فنانس میں جدید رجحانات اور کیرئیر کے مواقع

تحریر : ڈاکٹر محمد وصی فصیح بٹ

ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز (HIMS)، ہمدرد یونیورسٹی نے بینک اسلامی پاکستان کے تعاون سے 7 ستمبر 2022 کو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں نوجوانوں کے لیے اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس (IBF) میں جدیدرجحانات اور کیریئر کے مواقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ جسے زیل کینیڈا اور ڈولمین گروپ نے بھی اسپانسر کیا۔

آغاز تلاوت قرآن مجید اور قومی ترانے کے ساتھ کیا گیا۔ بعد ازاں HIMS کے ایسوسی ایٹ ڈین، پروفیسر ڈاکٹر عامر آدم نے باضابطہ طور پر شرکاء کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ سیمینار ممانعت سود کی آگاہی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا ۔یہی نہیں بلکہ وفاقی شریعت کورٹ نے وفاقی حكومت كو پانچ سال كے عرصے میں ملک میں سود كے مکمل خاتمے اور ربا سے پاک بینكاری نظام نافذ كرنے كا حكم دیا ہے  ، اس میں بھی معاون ہو گا ۔ تقریب کے منتظم ڈاکٹر محمد وصی فصیح بٹ نے بتایا کہ اس سیمینار کا مقصد موجودہ اسلامی فائنانس کی مکمل تصویر اور مستقبل کے رجحانات پیش کرنا ہے تاکہ طلباء کو کامیاب اور حلال کیریئر کے لیے صحیح سمت کا انتخاب کرنے میں رہنمائی مل سکے۔

سیمینار دو سیشنز پر مشتمل تھے،پہلے سیشن میں Islamic Banking Institutions (IBIs) اور دوسر ے سیشن میں Islamic  Non-Banking Financial Institutions (NBFIs)   میں ابھرتے ہوئے رجحانات اور کیریئر کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ اسلامی فائنانس سے تعلق رکھنے والے کل نو ماہرین نے خطاب کیا ۔

اس سیمینار کے مہمان خصوصی مفتی محمد تقی عثمانی (شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی و چئیرمین شریعہ بورڈ، میزان بینک) نے بذریعہ آڈیو ریکارڈنگ سیمینار سے خطاب کیا اور یونیورسٹی کے طلباء اور مدارس کے فضلاء کو اسلامی فائنانس  سیکھنے کی نصیحت فرمائی اور  ان  جامعات کی کاوشوں کو سراہا جو اس شعبے سے متعلق ڈگری  پروگرام کا انعقاد کر رہے ہیں ۔ان کے صاحبزادے ڈاکٹر مفتی محمد حسان اشرف عثمانی نے ان کی طرف سے سووینئر وصول کیا۔

مذید پڑھیں : فتوی || نکاح کے وقت لڑکی کا موجود ہونا ضروری ہے یا نہیں؟

اس سیمینار کے دوسرے  مہمان خصوصی بینک اسلامی پاکستان کے صدر اور سی ای او جناب سید عامر علی نے سیمینار کے موضوع کی توثیق کی جس میں محمد بن قاسم کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رحلت کے 100 سال سے بھی کم عرصے میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سندھ کو فتح کیا۔ اس دور کے مسلمان نے اپنی روحانی طاقت کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور معاشی نظام میں بھی ترقی کر کے حکومت کی۔ انہوں نے اسلامی بینکوں میں صارفین کے لیے مزید ٹیکنالوجی پر مبنی پراڈکٹس بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے طلباء کو "دین کنیکٹ” سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جسے بینک اسلامی نے فروری 2021 میں  اسلامی آگاہی پروگرام کے طور پر شروع کیا تھا جس کا مقصد تمام مسلمانوں کو، صارفین اور غیر صارفین دونوں کو ان کے دین سے جڑنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ آپ نے اس سیمینار کے انعقاد پر ہمدرد یونیورسٹی کو مبارک باد دی۔

EFU Life Hemaya Takaful کے شریعہ ایڈوائزر مفتی محمد ابراہیم عیسیٰ نے طلباء کو قرآن کریم کی مختلف آیات کے ذریعے کمائی کے حلال ذرائع کا انتخاب کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے تعلیم کے ذریعے نوجوان نسل میں امداد باہمی کے تصور کو فروغ دینے پر زور دیا کیوں کہ تکافل، روایتی بیمہ کے مقابلے میں اپنے پالیسی ہولڈرز سے بالکل مختلف رویہ روا رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایک فرد تکافل کے پول میں حصہ ڈالتا ہے تاکہ ایک ایسا فنڈ بنایا جا سکے جو ناخوش گوار صورت حال کا سامنا کرنے والوں کو ممکنہ طور پر سہولیات فراہم کر سکے۔ دوسری طرف، ایک روایتی بیمہ پالیسی کسی شخص کے لیے ذاتی مالی تحفظ کے طور پر خریدی جاتی ہے۔ بیمہ اور تکافل کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ پہلا رسک ٹرانسفر ماڈل ہے جب کہ دوسرا رسک شیئرنگ ماڈل ہے۔ کیریئر کے مواقع کے لحاظ سے، تکافل انڈسٹری ایک بہترین شروعات ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ ہر نوجوان جو بنیادی اہلیت رکھتا ہے وہ سیلز ٹیم میں شامل ہو سکتا ہے۔

چیئرمین NBFI اینڈ مضاربہ ایسوسی ایشن آف پاکستان اور OLP مضاربہ کے سی ای او راحیل قمر احمد نے ایسوسی ایشن کے کردار اور پاکستانی اسلامک فنانس انڈسٹری کی موجودہ مارکیٹ کے جہتوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی مالیاتی نظام میں  تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ برتاؤ، غیر مسلموں کے لیے پرکشش ثابت ہو رہی ہے۔ ۔ لہذا، اسلامی فنانس انڈسٹری میں مواقع کہیں زیادہ ہیں۔ اسلامک فنانس کی توجہ مستقبل میں ڈیجیٹائزیشن اور مصنوعات کی جدت پسندی پر مرکوز ہونی چاہیے جو لوگوں کی آمدنی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق ہوں ۔ انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں اسلامی فنانس انڈسٹری میں تمام نئے فاضلین کا خیرمقدم کیا اور اس جملے کے ذریعے ترغیب دلائی "اسلامک فنانس سیکھیں اور اس پر یقین رکھیں”۔

چیئرمین نیشنل پلیٹ فارم فار ہاؤسنگ ریسرچ (NPHR) اور میزان بینک کے بانی ممبر جناب ضیغم محمود رضوی نے اسلامی اور روایتی بینکنگ کے درمیان فرق پر ایک جامع پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ کنونشنل بینکنگ فقط پیسے کی لین دین اور قرض کی فراہمی پر مبنی ہے جب کہ اسلامی بینکاری حقیقتا محتاط (پروڈنٹ) بینکنگ سسٹم ہے جس کی بنیاد تجارت اور تاجر کی جانب سے قابل تجارتی اثاثوں کی انتظامی فیس اور منافع کی تقسیم پر مبنی ہے۔ 2008 میں عالمی مالیاتی بحران کے وقت مالیات کا نظام اگر اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتا تو اس وقت دنیا کا نقشہ مختلف ہوتا۔ یہی خوف کرپٹو کرنسی کے بارے میں ہے جو ایک اور عالمی مالیاتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل ہے اور ایسٹ بیکڈ نہیں ہے۔  بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اسلامی بینکاری کی بنیاد رکھنے میں مفتی محمد تقی عثمانی اور میزان بینک کے سی ای او جناب عرفان صدیقی کی انتھک کاوشوں کو سراہا۔

مذید پڑھیں : ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے پیچھے LGBT کا کیا ایجنڈا ہے ؟

دی زیل کارپوریشن (کینیڈا) کے سی ای او اور شریک بانی جناب احمد خان نے اسلامی فائنانس میں کیریئر کا ایک بہت ہی منفرد راستہ متعارف کرایا۔ The Zeal عالمی سطح  پر شرعی اصولوں کے مطابق عالمی معیار کی ایکویٹی انویسٹمنٹ اسکریننگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور متعلقہ مالیاتی خدمات پیش کرتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ زیل پاکستان جلد  مالیاتی اور کیپیٹل مارکیٹ ڈیٹا     اور اسٹاک پرائس ہسٹری ڈیٹا  بھی فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ وہ امید افزا مستقبل کے لیے خود کو آئی ٹی اور اسلامی مالیاتی علم سے آراستہ کریں۔

فیصل بینک لمیٹڈ (FBL) میں اسلامی بینکنگ کے سربراہ جناب محمد فیصل شیخ نے شرکاء آگاہ کیا کہ FBL تاریخ رقم کر رہا ہے کیوں کہ یہ اسلامی بینکاری کی تاریخ کی سب سے بڑی کنورژن ہے ۔ جولائی 2022 میں بینک کے پاس 94 فیصد اسلامی ڈپازٹس، 93 فیصد اسلامی فنانسنگ، اور 79 فیصد اسلامی سرمایہ کاری ہے اور639 برانچوں میں سے صرف ایک سودی رہ گئی ہے۔  کرئیر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے اس جانب توجہ مبذول کروائی کہ شرعی علم اور کاروباری مہارت  دونوں کے حاملین اس شعبے کو مزید ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔

اپنی تفصیلی پریزنٹیشن میں، جناب احمد علی صدیقی، ہیڈ شریعہ کمپلائنس، میزان بینک نے تصدیق شدہ اعدادوشمار کے ساتھ گلوبل اسلامک فنانس انڈسٹری کی ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 1,595 اسلامی مالیاتی ادارے  موجود ہیں اور 47  ممالک میں اسلامی مالیاتی نظام کے لحاظ سے قانون سازی کی گئی ہے ۔ 36 ممالک کی جانب سے  عالمی سطح پر 11,053 صکوک جاری کیے گئے ہیں جن کی مالیت 1.42 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ آنے والے 5 سالوں میں، اسلامی برانچ کے نیٹ ورک 18,500 تک پہنچنے کی امید ہے۔ جس کی بدولت ہر بینک میں روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو گا، اس لیے طلباء کو پیشہ ورانہ کورسز اور تسلیم شدہ ڈگری پروگراموں کے ذریعے اپنے آپ کو مطلوبہ مہارت سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔

چئیرمین شریعہ ایڈوائزری کمیٹی ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور چئیرمین، شریعہ ایڈوائزری کمیٹی آف سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، ڈاکٹر مفتی ارشاد احمد اعجاز جو کہ بینک اسلامی پاکستان  کے  چئیرمین شریعہ بورڈ بھی ہیں نے سب سے آخر میں خطاب فرمایا ۔ انہوں نے اسلامی مالیات میں تحقیقی کام کی پذیرائی کی اور آئیڈیلزم  کی بنیاد پر تنقید سے بچنے کا مشورہ دیا کیوں کہ یہ عمل اکثر جمود کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے طلباء اور فاضلین  کو اسلامی فنانس کو بطور کرییر اختیار کرنے کی ترغیب دی کیوں کہ اگر کسی کا شوق ہی اس کا پیشہ بن جائے اور ساتھ ہی ساتھ اسے اس کے ذریعے کل جہانوں میں اس کا اجر بھی ملے تو یہ اس کے لیے خوش قسمتی کی بات ہے۔

مذید پڑھیں : وفاق المدارس کی درخشندہ روایات کا جاری تسلسل

ڈاکٹر وصی نے حاضرین محفل کو  ہمدرد یونیورسٹی کے عالی مرتبہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب الحسن کے اس خواب کے بارے میں آگاہ کیا کہ وہ HIMS کو مستقبل میں اسلامی فائنانس کی تعلیم کا مرکز دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس وژن کے تحت ماضی میں کرائے گئے سیمنار اور کورسز کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس (IBF) میں مہارت کے ساتھ 2 سالہ MBA، IBF میں ایک سالہ PGD اور دو ماہ پر مشتمل سرٹیفائیڈ اسلامک فنانس پروفیشنل (CIFP) کے عنوان سے مختصر کورس میں داخلے کھلے ہیں۔

سیمینار میں ماہرین تعلیم، طلبہ اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سب نے انسانیت کو ربا سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔ سیمینار کے اختتام میں سیلاب زدگان کے لیے خصوصی طور پر دعا کروائی گئی.