ٹرانس جینڈر کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں

ٹرانس جینڈر کے نام سے دھوکہ نہ کھائیں

وہ چار شہر تھے . . .
آبادی تقریباً دس لاکھ کے قریب تھی . . .
صبح کا وقت تھا… وہ سب اپنے کام کاج میں مصروف تھے….

اچانک بلکی سی گڑگڑاہٹ کی آواز پیدا ہونے لگی اور زمین ہلنے لگی.. ایسے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو.. لوگ اس پراسرار آواز اور پھر زمین ہلنے کی وجہ سے گھبرا کر گھروں سے باہر نکل آئے تاکہ زلزلے کے نتیجے میں مکانات اگر زمین بوس ہوئے تو وہ اپنی جان بچا سکیں. پھر گڑگڑاہٹ کی آواز اور زمین ہلنا رک گئی..

چند لمحے سکون رہا اور پھر زمین اتنی شدت سے ہلنے لگی کہ مکانات گرنے لگے لیکن لوگ چونکہ پہلے جھٹکے کے بعد گھروں سے نکل آئے تھے اس لیے مکانات کے گرنے کے باوجود بھی سب لوگ، زخمی یا ہلاک بونے سے بچ گئے.. زمین کی حرکت میں شدت آتی جا رہی تھی لیکن لوگوں نے ایک بات نوٹ کی کہ یہ زلزلہ صرف اتنے حصے میں آ رہا تھا جتنے حصے میں شہری آبادی تھی. شہر سے باہر کی سڑکیں اور راستے بالکل ٹھیک اور نارمل حالت میں تھے.. جتنی جگہ پر شہر کے مکانات تھے اتنے علاقے کی زمین اردگرد سے کئی فٹ اونچی ابھر آئی تھی. یوں لگ رہا تھا جیسے صرف شہر کے علاقے کے نیچے کی زمین میں بیلچہ گھسا کر اتنے علاقے کی مٹی کو نیچے والی زمین سے الگ کر دیا گیا ہو. شہر کے لوگ انتہائی خوفزدہ اور پریشان ہو چکے تھے. وہ شہر کے علاقے سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے کیونکہ شہر کی زمین کافی اونچی اٹھ چکی تھی اور دونوں زمینوں کے درمیان گہری کھائی سی بن چکی تھی.. ایک بار پھر گڑگڑاہٹ اور زمین کی حرکت رک گئی تھی اور پھر یوں لگا جیسے پورے شہر کی زمین کو کسی نے ہاتھ میں اٹھا لیا ہو اور زمین کے اس ٹکڑے نے جہاں شہر واقع تھا، آسمان کی جانب پرواز شروع کر دی..

پھر کئی کلومیٹر اوپر بلندی پر پہنچ کر زمین کے اس ٹکڑے کو الٹا کر کے زمین کی طرف پوری قوت سے پھینک دیا گیا. سارے شہر کے انسان سر کے بل تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہے تھے. ان کے درمیان اور نیچے زمین کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا تھا اور پھر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پورے کا پورا شہر اپنی آبادی سمیت زمین کے ساتھ الٹا ٹکرا گیا اور سب کچھ ملیامیٹ ہو گیا..

یہ بہت تیزی اور شدت سے ہوا تھا..

شہر کی ساری آبادی ایک سیکنڈ میں پس کر پاؤڈر جیسی بن گئی.. کچھ افراد زندہ بچ گئے تھے لیکن وہ شدید زخمی ہو گئے تھے. انہوں نے شدید زخمی بونے کے باوجود اپنی جان بچانے کے لیے اس علاقے سے نکلنے کے لیے دوڑ لگا دی.. ارد گرد ہر طرف مٹی دھول کے بادل رہ گئے تھے. مکانات مکمل طور پر مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکے تھے.. پھر اچانک آسمان سے پتھروں کی برسات شروع ہو گئی اور وہ پتھر ان انسانوں کو لگنے لگے جو زخمی تھے اور جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے..

ایک بات بہت عجیب تھی..

ہر ایک پتھر پر ان کے الگ الگ نام لکھے ہوئے تھے.. پتھر پر جس جس کا نام ہوتا تھا وہ پتھر صرف اسی کے جسم پر گر کر اس کو کچل رہا تھا..

پھر وہ سب بھاگنے والے بھی مر گئے..

ہر طرف خاموشی چھا گئی. صرف پانچ منٹ پہلے جہاں ہنستا بستا شہر تھا وہاں صرف دھوئیں کے بادل رہ گئے تھے اور مکمل طور پر خاموشی کا راج قائم ہو چکا تھا..

اس پورے شہر کو اس کی زمین اور آبادی سمیت جبرئیل فرشتے نے اپنے پر کے ذریعے سے اٹھایا تھا اور پھر بلندی پر لے جا کر الٹا پٹخ دیا تھا.. اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے باقی شہروں کو ان کی آبادیوں سمیت اٹھا کر بلندی سے الٹا پٹخ کر تباہ کر دیا تھا..

ان لوگوں کے ساتھ یہ کیا ہوا تھا؟ کیوں بوا تھا اور یہ لوگ کون تھے؟

یہ سب لوگ بدترین عذابِ الہی کا شکار ہوئے تھے..

یہ سب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم سے تعلق رکھتے تھے.. یہ سب ایک ایسے گناہ کے عادی تھے جو انتہائی بدترین تھا..

……………………

کچھ دن پہلے….

پاکستان کی /کا پہلی /پہلا ٹرانس جینڈر ڈاکٹر بن گئی / بن گیا… اسے خوب خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے.. سر آنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے. سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر یوں لگتا ہے جیسے ایک طوفان آ گیا ہو.. صرف ایک یہی خبر ہر طرف تیزی سے پھیلائی جا رہی ہے.. ایک ایسا بہت بڑا گروہ جو پاکستان میں زیرِ زمین اور دنیا بھر میں سرعام موجود ہے ٹرانس جینڈر نامی لعنت کو عزت دار اور فطرت کے عین مطابق ثابت کرنے میں مصروف ہے..

یہ ٹرانس جینڈر کون ہے؟
یہ ایک مکمل مرد بے.. جسمانی طور پر اس کے اندر کوئی نقص نہیں تھا. شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال تھا لیکن اس کے اندر نفسیاتی طور پر ایسی خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ یہ لڑکیوں کی طرح ناز و ادا دکھانے لگا. یہ لڑکی تو نہیں تھا لیکن اس نے خود کو لڑکی تصور کر لیا.. اس کے اندر ہم جنس پرستی کی علت پیدا ہو گئی..

پاکستان میں سن دو ہزار اٹھارہ میں ایک قانون پاس ہوا جس کے تحت ایسے لوگ جو مرد ہونے کے باوجود خود کو عورت سمجھتے ہیں یا عورت خود کو مرد سمجھتی بے وہ خود کو اپنی من پسند جنس کے طور پر پیش کر سکتے ہیں..

چنانچہ اس نے بھی خود کو ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر نادرا کے آفس میں رجسٹر کروا لیا.. اب یہ جسمانی طور پر مرد خود کو ذہنی طور پر عورت ثابت کرکے ٹرانس جینڈر بن چکا بے کیونکہ اسے یہ کرنے کی آزادی اس ملک نے دی ہے. اگرچہ وہ مرد ہے لیکن اگر صرف ذہنی طور پر خود کو عورت سمجھتا بے تو اسے خود کو عورت کے طور پر شو کرنے کے سب ہی حقوق ملنے چاہئیں.. یہ جسمانی طور پر نارمل مرد بے تو ہوتا رہے، اسے کاغذات میں ٹرانس جینڈر عورت کے طور پر سمجھا جائے..

بعض لوگ ہیجڑوں کو ٹرانس جینڈر سمجھ لیتے ہیں. یہ شدید غلط فہمی بے.. ان بیچاروں کو تو کوئی پوچھتا بھی نہیں.

انہیں ہیجڑا کہلانے کے لیے کسی قانون کی ضرورت نہیں. وہ تو جسمانی طور پر ہی ادھورے ہیں.. نامکمل ہیں.. انہیں تو سپریم کورٹ الگ شناخت دے چکی بے..

مزید پڑھیں ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے پیچھے LGBT کا کیا ایجنڈا ہے ؟

یہ قانون ہیجڑوں کے لیے نہیں بلکہ جسمانی طور پر نارمل مرد عورتوں کے لیے بنایا گیا ہے..

یہ قانون جسمانی طور پر نارمل لیکن ذہنی طور پر نفسیاتی مریضوں کے لیے بنایا گیا ہے. پاکستان کے سب ہی ی ڈاکٹر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس قسم کے نفسیاتی افراد کا مکمل علاج موجود ہے. وہ دوبارہ ذہنی طور پر نارمل ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں ہم جنس پرستی کی طرف راغب کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ نئے بننے والے قانون کی مہربانی بے کہ جسمانی طور پر مکمل مرد خود کو عورت قرار دے کر کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کر کے دونوں پھر ہم جنس پرستی کی زندگی گزار سکتے ہیں.

ایسا قانون حضرت لوط علیہ السلام کی اس قوم کے اندر بھی نہیں بن سکا تھا جسے اس گناہ کی پاداش میں بدترین عذاب کا نشانہ بنا کر روئے زمین سے اس کا وجود ہی مٹا دیا گیا تھا..

یہ عذابِ الہی کو دعوت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.. یاد رکھیے اس قانون کے ذریعے ہم جنس پرستی جیسے عظیم گناہ کو پاکستان جیسی مسلمان ریاست میں جائز قرار دے دیا گیا ہے.. اور سب ہی پاکستانی یا تو لاعلمی کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر جبراً خاموش کروا دیے گئے ہیں.. ان ہم جنس پرستوں کے لیے آسانی پیدا کر دی گئی ہے کہ جس طرح چاہیں یہ اپنے من پسند گناہ کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں..

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم میں کچھ لوگ ایسے تھے جو اس گناہ سے شدید نفرت کیا کرتے تھے. وہ لوگ آواز بھی اٹھاتے تھے. شور بھی مچاتے ہوں گے. احتجاج بھی کرتے ہوں گے. کمزور اور کم ہونے کے باوجود اپنے حصے کا کام کرتے ہوں گے. اللہ تعالیٰ نے انہیں اس عذاب سے بچا لیا.. وہ دنیا اور آخرت میں بھی اللہ کی پکڑ سے بچ گئے اور جنت میں اپنا گھر بنا چکے تھے.. فتنوں کے لحاظ سے یہ بہت مشکل ترین وقت بے.. اب حق کی آواز بلند کرنا ناممکن بنا دیا گیا ہے.. اس گناہ کا سب میڈیا والوں کو علم بے لیکن انہیں روزی روٹی کے شکنجے میں اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ان کی روحیں بھی قید ہو گئی ہیں.. ضمیر مر گئے ہیں،، آواز نہیں اٹھا سکتے..

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ گناہ کے خلاف زبانی کلامی آواز اٹھانے والوں کا ایمان دل میں برا کہنے والوں سے ایک درجہ اوپر کا ہوتا بے..

میں کوشش کرتا رہوں گا کہ اپنے آپ کو ایمان کے اس درجے پر لازمی قائم رکھوں.. جس میں صرف دل میں برائی کو برا نہ کہا جاتا ہو بلکہ برائی کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہو..

یاد رکھیے اور کسی غلط فہمی میں مت رہیے کہ عذاب صرف پرانی قوموں پر ہی آیا کرتا تھا. پتھر صرف انہی پر برستے تھے. چہرے صرف انہیں کے مسخ ہوتے تھے. نہیں ایسا نہیں ہے. یہ شدید غلط فہمی بے.. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جب گناہوں کا یہ عالم ہوگا تو انتظار کرو تیز آندھیوں کا، آسمان سے پتھروں کے برسنے کا، چہرے مسخ ہونے کا…اور زمین میں دھنسائے جانے کا…

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حصے کا کام کرنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے، آمین ۔