الطاف حسین کی برتھ ڈے پر نائن زیرو کا خاتمہ اور دیرینہ کارکنان کی لاشیں

کراچی : سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کو اپنا اتحادی بنا کر ان کے قائد الطاف حسین کی برتھ ڈے 16 ستمبر پر دیرینہ کارکنان کی لاشیں اور نائن زیرو کا بتدریج خاتمہ کر کے بانی قائد کو تحفہ دیا جا رہا ہے ۔

الطاف حسین کے گھر نائن زیرو کو زیرو کرنے کیلئے ہیوی مشینری سے عمارت کو مسمار کیا جا رہا ہے ، ملبے کو اٹھانے کے لئے کرینیں اور ٹرک بھی پہنچا دیئے گئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے گھر اور ایم کیو ایم کے سابق مرکز نائن زیرو کی دہشت کو ہوا میں تحلیل کیا جا رہا ہے ۔ نائن زیرو کو پلاٹ سے بالکل ہی ختم کیا جا رہا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس ماہ کیا جا رہا ہے جب الطاف حسین کی برتھ ڈے میں ایک دن باقی رہ گیا ہے ۔

مذید پڑھیں : اعلی سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین علی حسن بروہی کیخلاف منی لانڈرنگ کی ایک اور انکوائری شروع

الطاف کی برتھ ڈے ہر سال 16 ستمبر منائی جاتی تھی ، جس میں ایم کیو ایم کے کارکنان قائد الطاف حسین کے مخالفین کو 6 ستمبر سے 16 ستمبر تک موت کے گھاٹ اتارتے تھے اور یوں الطاف بھائی کا مخالف مار کر الطاف حسین کو برتھ ڈے وش کی جاتی تھی ۔

تاہم اب الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے تمام بڑے رہنما ان کی زندگی میں ہی انہیں چھور گئے ہیں اور ان کے انہی وفادار کارکنان کی انہیں کے برتھ ڈے پر لاشیں مل رہی ہیں اور ان کے گھر جو دہشت کی علامت تھا اس کو برتھ ڈے کے دن ختم کر دیا جائے گا ۔

نائین زیرو پر ایم کیو ایم کی باقیات کو ختم کرنے کے لئے سندھ حکومت نے نائن زیرو کے اطراف تمام گھر خالی کروا دئیے ہیں ، علاقہ مکینوں کو نکال کر پورا علاقہ سیل کر دیا ہے ، بجلی کو منقطع کر دیا ہے اور کچھ دھماکوں کی بھی آواز سنائی دی گئی ہیں ۔

مذید پڑھیں : چکرا گوٹھ میں DHA کی لائن پر ایک اور ہائیڈرنٹ قائم کر لیا گیا

دوسری جانب ایم کیو ایم کے کارکن وسیم اختر اور راجو کی نمازے جنازہ میں بھی شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ہے ، جس میں ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے عامر خان جب نمازے جنازہ میں شرکت کرنے پہنچے تو اہل خانہ اور ایم کیو ایم کے سینئر کارکنان غصے میں آ گئے ۔ اس دوران عامر خان کے منہ پر جوتا مارا گیا اور ان کا گریبان پکڑا گیا ہے ۔

اس دوران شدید رش میں ہاتھا پائی کی صورت حال دیکھ کر رابطہ کمیٹی نکل گئی ۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ جس طرح استعمال کیا گیا ہے ، اب کارکنان کا صبر جواب دیتا جا رہا ہے ۔ کسی بھی دن کوئی بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے ۔