پاکستان بزنس ٹاسک فورس فریم ورک کی تشکیل خوش آئند ہے، راوی پیرس

کراچی : انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے سینئر اسپیشلسٹ ایمپلائرز ایکٹیویٹیز راوی پیرس نے کہا ہے کہ ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی)، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس(ایف پی سی سی آئی)، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی)، آئی سی سی آئی اے اور یو این گلوبل کمپیکٹ نیٹ ورک پاکستان کی قیادت یو این سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کوآپریٹیو فریم ورک (یو این ایس ڈی سی ایف) پر پاکستان بزنس ٹاسک فورس کی تشکیل اور اس اقدام کے قیام کے لیے ان کے جوش و جذبے اور حمایت کے لیے تعریف کے مستحق ہیں جو جنوبی ایشیا میں پہلی بار ہوا ہے۔

اس سے بلاشبہ اس عمل میں آجروں کی شمولیت کو تقویت ملے گی۔ یہ قومی ترقی کے چیلنجز کا اجتماعی حل تلاش کرنے اور تاجر برادری کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اقوام متحدہ کی حمایت کرنے کی پوزیشن میں رکھے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی بی ٹی ایف کے فریم ورک کی تشکیل کے لیے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں ای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان اور فوکل پرسن برائے آئی ایل او، صدر یو این گلوبل کمپیکٹ نیٹ ورک پاکستان مجید عزیز،چیئرمین ای سی ای ایف پی آصف زبیری، ڈائریکٹر ای سی ای ایف پی محمود ارشد، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یو این گلوبل کمپیکٹ نیٹ ورک پاکستان فصیح الکریم صدیقی،سیکرٹری جنرل ای ایف پی سید نذر علی،سینئر اسپیشلسٹ آئی ایل او اسلام آباد صغیر بخاری و دیگر نے بھی خطاب کیا اور پاکستان بزنس ٹاسک فورس فریم ورک(پی بی ٹی ایف) کو کامیاب بنانے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

مذید پڑھیں : اعلی سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین علی حسن بروہی کیخلاف منی لانڈرنگ کی ایک اور انکوائری شروع

راوی پیرس نے مزید کہا کہ عام طور پر کاروباری ادارے ایس ڈی جیزکی کامیابیوں میں حصہ ڈالتے ہیں لیکن اکثر ان پر توجہ نہیں دی جاتی۔یہ ضروری ہے کہ ان کامیابیوں کو نہ صرف ظاہر کیا جائے بلکہ یو این ایس ڈی سی ایف کے عمل میں پی بی ٹی ایف کی مستقبل کی شمولیت کی تشکیل میں بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاجر برادری کی یہ کامیابیاں اور شراکت داری تاجر برادری کے لیے ایک روڈ میپ کی بنیاد فراہم کریں گی۔انہوں نے پی بی ٹی ایف کی تشکیل کی قیادت کرنے پر ای ایف پی کو خراج تحسین پیش کیا اور اہداف کے حصول میں آئی ایل او کے زیادہ سے زیادہ تعاون کی پیشکش کی۔

ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر اسماعیل ستار نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ اس اقدام کے حوالے سے بڑی ایمپلائرز اور بزنس ممبر آرگنائزیشنز ایک پیج پر ہیں۔ نہ صرف دو اعلیٰ ادارے ای ایف پی اور ایف پی سی سی آئی بلکہ اسلامک چیمبر اور اوورسیز چیمبر بھی آن بورڈ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط اتحاد ایک مضبوط آواز کا آغاز کرے گا اور حکومت کے ساتھ ساتھ ان کے اراکین کو 2030 سے بہت پہلے ایس ڈی جیز کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔انہوں نے گیم چینجنگ اقدام کی تشکیل میں معاونت اور رہنمائی میں روی پیرس کی ذاتی دلچسپی کو بھی سراہا۔

صدر ای ایف پی نے آئی ایل او اور دیگر نمائندوں کو یقین دلایا کہ چونکہ یو این گلوبل کمپیکٹ نیٹ ورک پاکستان، ویب کوپ، ایس ڈی سی اور ای ایف پی اکنامک کونسل ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان کی چھتری تلے کام کررہے ہیں۔ ای ایف پی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ پی بی ٹی ایف نہ صرف ایس ڈی جیزکے حصول کے لیے ایک مضبوط وکیل بنے گا بلکہ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے عملی پالیسیاں اور اختراعی آئیڈیاز بھی تیار کرے گا۔