بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی تباہی کے دھانے پہنچا دی گئی

کراچی : بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ادارہ ”دعوۃ اکیڈمی“ تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ۔ گزشتہ دنوں ایک حکم نامے کے ذریعے دعوۃ اکیڈمی کے 16 اساتذہ میں سے 10 اساتذہ کا یونیورسٹی کی مختلف فیکلٹیوں اور شعبہ جات میں تبادلہ کر دیا گیا ہے ۔ جب کہ 6 اساتذہ کو ”کورس لوڈ “ یونیورسٹی کی دیگر فیکلٹیوں میں دے دیا گیا ۔

اس طرح دعوۃ اکیڈمی اپنے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اس کی تربیتی و اصلاحی سرگرمیاں بھی ماند پڑ گئیں ۔ واضح رہے دعوۃ اکیڈمی کا قیام 1985ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے قیام کے اغراض و مقاصد میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاداور اصلاحی و دعوتی نقطہ نظر سے دینی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم شامل ہیں۔

اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد کا انتظام بھی دعوۃ اکیڈمی کے پاس ہے ۔ یہ ادارہ 10 زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم شائع کر چکا ہے ۔ اس کے علاوہ 24 ملکی و غیر ملکی زبانوں میں 1300 سے زائد دینی و دعوتی کتب اور کتابچے شائع کر چکا ہے ۔ دعوۃ اکیڈمی آئمہ مساجد ،دعوتی تنظیموں ،سول و فوجی افسران، اساتذہ، صحافی، ادیب، وکلا، ڈاکٹر، خواتین اور طلبہ کی تربیت کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کرتی ہے۔

اسی طرح خط و کتابت کے ذریعے بھی دینی و تربیتی کورسز کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ اب تک ان کورسز سے 50 ہزار سے زائد مرد و خواتین نے استفادہ کیا ۔ اس ادارے کے تحت خواتین اور نوجوانوں کے لیے علیحدہ شعبہ جات کے علاوہ کراچی میں سندھ کی سطح پر ریجنل دعوۃ سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔

مذید پڑھیں : افغان شہری پولیس میں SP کے عہدے تک کیسے پہنچ گیا ؟

ریجنل دعوۃ سینٹر سندھ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2002ء میں اس کے قیام سے لے کر اب تک سندھ اور بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں 252 تربیتی پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں 14 ہزار سے زائد افراد کی تربیت کی گئی۔ دعوۃ اکیڈمی کا اپنا ایف ایم ریڈیو چینل بھی ہے اور اردو و انگریزی زبانوں میں ماہنامہ دعوۃ اور Insights کے ناموں سے دو علیحدہ دعوتی و تحقیقی جریدے بھی شائع ہوتے ہیں۔

ان سرگرمیوں کے باوجود بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے دعوۃ اکیڈمی سے اساتذہ و محققین کے تبادلے کر کے اس ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ بین الاقوامی اسلامی یونیوسٹی نے اس سلسلے میں اپنی ویب سائٹ پر وضاحت کی ہے کہ یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا کہنا ہے کہ بہت سے شعبہ جات کو اپنے مینڈیٹ کے ساتھ صحیح طریقے سے جوڑ دیا گیا ہے اور دعوۃ اکیڈمی ان میں سے ایک ہے۔

انہوں نے اس عمل کو ”اسٹریٹجک پلان“ کا حصہ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دعوۃ اکیڈمی کے کردار کو صرف تربیتی ادارے سے لے کر تحقیق اور اعلیٰ تعلیم تک زیادہ سے زیادہ کیا جا رہا ہے ۔ اکیڈمی تربیت کے علاوہ اعلیٰ سطح کے پروگرام بھی پیش کرے گی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ دعوۃ اکیڈمی اور دیگر متعلقہ یونٹس سمیت ہر شعبہ اور انسٹی ٹیوٹ میں اضافی عملے کو کام کی مقدار اور دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے معقول بنایا جا رہا ہے ۔

اس بیان پر شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس نام نہاد ”اسٹریٹجک پلان“ کا ذکر ہو رہا ہے، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، کیونکہ اسے صرف بورڈ آف گورنرز کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جب کہ بورڈ آف گورنرز کو یونیورسٹی کے قوانین (Statutes) میں تبدیلی کی اجازت نہیں ہے، نہ ہی اس کے پاس یہ اختیار ہے ۔ یہ اختیار صرف بورڈ آف ٹرسٹیز کے پاس ہے اور بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس کئی سال سے ہوا ہی نہیں ہے۔

مذید پڑھیں : اعلی سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین علی حسن بروہی کیخلاف منی لانڈرنگ کی ایک اور انکوائری شروع

مزید یہ کہ یونیورسٹی جس قانون کے تحت بنی ہے، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آرڈی نینس 1985ء، اس میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمان کے پاس ہے، یا صدر آرڈی نینس جاری کر کے عارضی طور پر ترمیم کر سکتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ جب تک آرڈی نینس میں تبدیلی کر کے اسلامی یونیورسٹی کا اسلامی تشخص ختم نہ کیا جائے، تب تک اسٹریٹجک پلان کے نام پر یہ کھیل کیسے کھیلا جا سکتا ہے؟ ۔

دعوۃ اکیڈمی سے 10 اساتذہ کو ٹرانسفر کر دیا گیا اور باقی 6 کو بھی دعوۃ اکیڈمی سے باہر تدریسی ذمہ داریاں دے دی گئیں، تو دعوۃ اکیڈمی تو عملاً ختم ہو گئی ہے۔ اب یہ کہنا کہ آپ دعوۃ اکیڈمی کو بامِ عروج پر پہنچائیں گے ، محض ایک بھونڈا مذاق نہیں تو کیا ہے؟ ۔

ڈاکٹر مشتاق کا مزید کہنا ہے کہ اس ”اسٹریٹجک پلان“ کی یہ خوبی تو یونیورسٹی سے باہر بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ پہلے ایک ڈیپارٹمنٹ کا ایک چیئرمین ہوتا تھا اور ایک فیکلٹی کا ایک ڈین تھا ۔ اب ایک ڈیپارٹمنٹ میں تین سربراہ ہوتے ہیں اور ان تین کے اوپر ایک اور سربراہ ہوتا ہے ۔ پھر ایک فیکلٹی میں جتنے ڈیپارٹمنٹس ہیں، ان کے چار چار سربراہان کے اوپر ایک اور سربراہ اور پھر اس کے اوپر ڈین ہوتا ہے ۔ یہ تماشا نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔

مذید پڑھیں : ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے پیچھے LGBT کا کیا ایجنڈا ہے ؟

دعوۃ اکیڈمی کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد رفیع کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے دعوة اکیڈمی کی دعوتی و تربیتی سرگرمیوں کے لیے ملنے والی گرانٹ غلط طور پر انتظامی امور پر خرچ کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اساتذہ اور تحقیقی و تربیتی عملے کے ہر منصوبے کو یہ کہہ کر رد کیا جاتا رہا کہ پیسے نہیں ہیں۔ تربیتی، تدریسی عملہ نے کئی ایسے منصوبے پیش کیے جس میں کوئی خرچہ نہیں ہونا تھا بلکہ ایسی تجاویز بھی دی گئیں جن سے آمدن ہونی تھی، وہ بھی ڈی جی صاحب کی طرف سے منظور نہیں کیے گئے ۔

اب یہ کہہ کر کہ دعوة اکیڈمی میں کوئی کام نہیں ہو رہا ، 16 میں سے 10 اساتذہ کو اکیڈمی سے تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کا کوئی متبادل بھی نہیں دیا گیا۔ دعوۃ اکیڈمی کے دیگر اساتذہ اور محققین میں بھی یونیورسٹی کے اس اقدام کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے اور دعوۃ اکیڈمی کی دعوتی و تربیتی سرگرمیوں کے ماند پڑنے پر افسوس کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ اس اقدام کو واپس لیا جائے اور دعوۃ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل کسی اہل شخص کو بنایا جائے ۔