اعلی سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین علی حسن بروہی کیخلاف منی لانڈرنگ کی ایک اور انکوائری شروع

کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے )کے کراچی کے اینٹی کرپشن سرکل (اے سی سی) نے رئیل اسٹیٹ بزنس مین علی حسن بروہی عرف حاجی علی حسن زہری کے خلاف منی لانڈرنگ کی دوسری انکوائری شروع کردی ہے، جس کا تعلق مبینہ طور پر آصف علی زرداری سے بتایا جاتا ہے ۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ایف آئی اے کو اگست 2021 میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی جانب سے علی حسن بروہی، ان کے ساتھیوں اور کراچی کی ڈیفنس پولیس کے کچھ پولیس افسران کے خلاف درج ایک فوجداری مقدمے کے سلسلے میں انکوائری کرنے کی پہلی سفارش موصول ہوئی تھی۔جس میں پولیس اسٹیشن سے تین نائجیرین شہریوں کو پولیس کی حراست سے اغوا کرنے اور بعد ازاں منشیات مافیا کے حوالے کرنے کا الزام بھی ثابت ہے۔

جب کہ سندھ پولیس نے بھی غلام مصطفی میمن اور دیگر کی اراضی پر قبضے کے بعدعلی حسن بروہی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی کی سفارش کی تھی ۔مذکورہ مقدمے کی ایف آئی آر 138/20 سہراب گوٹھ تھانے میں درج کی گئی تھی اور دو سال کے وقفے کے بعد ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری شروع کر دی ہے۔

اس سے قبل ایف آئی اے، اے سی سی، کراچی کے سب انسپکٹر عمران حسین نے علی حسن بروہی اور اس کے ساتھیوں کو کراچی کے منگھو پیر، سہراب گوٹھ، کورنگی انڈسٹریل ایریا، گڈاپ سٹی، تیموریہ، گلشن ، گلشن معمار کے تھانوں میں درج سنگین نوعیت کے 15 دیگر مجرمانہ مقدمات میں ملوث ظاہر کیا ہوا ہے ۔ تاہم نا معوم وجاہات کی بنا کر انکوائری کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی تھی ۔

مذید پڑھیں افغان شہری پولیس میں SP کے عہدے تک کیسے پہنچ گیا ؟

جس کے بعد یہ عمل متاثر ہوا اور انکوائری کو ایف آئی اے کے کئی مختلف فورمز کو دوبارہ سونپی گئی ۔پہلے یہ کیس ایف آئی اے کراچی کے کارپوریٹ کرائم سرکل سے کراچی کے کمرشل بینکنگ سرکل کو دوبارہ تفویض کیا گیا اور پھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات پر ایف آئی اے اسلام آباد کو منتقل کیا گیا ،جب ملزم علی حسن بروہی کی اہلیہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کیس کو اجاگر کیا، اور 27 دسمبر 2021 کو انکوائری ایف آئی اے اسلام آباد کو منتقل کر دی گئی۔

ایف آئی اے کراچی کی انکوائری رپورٹ کے مطابق، ڈی ایچ اے پولیس نے اگست 2021 کو ہاوس 39، اسٹریٹ 1، فیز VII، ڈی ایچ اے، کراچی سے تین نائیجیرین شہریوں کو ڈرگ مافیاکے ڈان نصرت علی عرف حاجی عمران اور دیگر کی تحویل سے برآمد کیاتھا۔ پولیس نے انہیں ڈی ایچ اے تھانے منتقل کر دیا تھا۔ اس کے فوراً بعد منشیات فروشوں نے علی حسن بروہی سے رابطہ کیا اور انہیں پولیس کی حراست سے نائجیرین باشندوں کو رہا کرنے کے لیے 20 ملین روپے کی پیشکش کی تھی ۔جس پر علی حسن بروہی پر ڈیفنس پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد علی نیازی اور محمد وسیم ابڑو سے رابطہ کرنے کا الزام ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر 70 لاکھ روپے رشوت لی اور نائجیرین باشندوں کو بروہی کے فرنٹ مین علی نواز اور دلبر ملانو کے حوالے کیا تھا۔

بعد ازاں انہیں منشیات فروشوں کے حوالے کر دیا گیا جو جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے اور تاحال ان کا سراغ نہیں لگایا جا سکاہے ۔ ملزم علی حسن بروہی کی اہلیہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس نمائندے کو بتایا کہ ان کے شوہر پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ اس نے ایف آئی اے کے ایک اہلکار پر خاندان کو بلیک میل کرنے کا بھی الزام لگایا ہے ۔

علی حسن بروہی اور کراچی پولیس

معلوم رہے کہ کراچی میں زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضہ کرنے کے واقعات عام ہیں۔ شہر بھر کے رفاعی پلاٹس ، مافیا پلاٹنگ کر کے بیچتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد سے سب کی توجہ اس طرف متوجہ ہوئی ہے۔ کراچی پولیس نے شہر میں لینڈ گریبنگ کے مبینہ سرغنہ علی حسن بروہی کو گرفتار کیا تھا۔کراچی پولیس کے مطابق زمینوں پر قبضوں کے لیے مشہور لینڈ گریبر علی حسن بروہی کو اسکیم 33 کے علاقے سے اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا ۔ کراچی پولیس کے مطابق بروہی گڈاپ، منگھوپیر اور اسکیم 33 میں سیکڑوں ایکڑ سرکاری زمینوں پر قبضہ میں ملوث ہے۔

کراچی پولیس کے ذرائع کہتے ہیں کہ بروہی نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سپر ہائی وے پر پیٹرول پمپ کے قریب زمین پر قبضہ کررکھا تھا۔ علی حسن بروہی کی پولیس سے تلخ کلامی ہوئی، اس دوران ایس ایچ او سہراب گوٹھ پر مبینہ تشدد بھی کیا گیا۔ علی حسن بروہی کے خلاف ڈپٹی کمشنر ویسٹ نے سرکاری زمینوں پر قبضے کی رپورٹ بھی حکومت سندھ کو بھیجی تھی۔ بروہی کی گرفتاری کو مافیا کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیاگیا تھا۔

علی حسن بروہی پر عدالتی کارروائی

بائیس فروری دو ہزار گیارہ کو سپریم کورٹ نے کراچی پولیس کے سربراہ کو علی حسن بروہی کو 24 فروری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیاتھا۔ریاست نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بروہی، جس پر منشیات رکھنے کا مقدمہ درج تھا، کو جلد بازی میں ضمانت دی گئی۔ منسوخ کر دینا چاہیے،تاہم علی حسن بروہی کی اہلیہ ثمینہ کے لیے بیرسٹر عابد زبیری نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ڈی ایس پی بہادر علی نے ان کے شوہر کو نیو ٹاون میں کہیں نظر بند کر رکھا ہے۔ اپنے شوہر کو حراست میں لینے کے انعام کے طور پر ڈی ایس پی کو بھی ترقی دی گئی۔

مذید پڑھیں :پنجاب میں اربعین واک روکنے کیلئے IG نے احکامات دے دیئے

پولیس کے مطابق ملزم کو گڈاپ ٹاون سے گرفتار کر کے اس کی گاڑی سے منشیات برآمد کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران ثمینہ کے وکیل نے جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل ڈویڑنل بنچ کو بتایا کہ ان کی موکلہ کے شوہر کے خلاف مقدمہ بد نیتی سے دائر کیا گیا تھا۔ ضمانت ملنے کے بعد بھی بروہی کو رہا نہیں کیا گیا۔ اس نے عرض کیا کہ جب میرا موکل ضمانت کے کاغذات لے کر اسے رہا کرنے گیا تو پولیس اسے پہلے ہی جیل سے نامعلوم مقام پر لے گئی تھی۔

زبیری نے استدلال کیا کہ عدالت کے احکامات کے باوجود، حکومت نے انہیں رہا نہیں کیا اور وہ صرف اپنے ناپاک ارادے کو چھپانے کے لیے ان کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کر رہی ہے۔بنچ نے دلائل سننے کے بعد سی سی پی او کراچی کو حکم دیا کہ بروہی کو 24 فروری کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ساتھ ہی ملیر ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو بھی ہدایت کی کہ وہ ملزم کا تمام ریکارڈ اپنے ساتھ لے کر آئیں۔

پہلے کی کہانی

ثمینہ نے اپنے شوہرعلی حسن بروہی کے بارے میں ریونیو کے ضلعی افسر اور انسداد تجاوزات سیل کے انچارج شوکت حسین جوکھیو کے دعووں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایاتھا کہ ڈی او نے غلط دعویٰ کیا تھا کہ علی حسن بروہی زمین پر قبضہ کرنے والا نہیںہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی او نے "حقائق کو مسخ کیا ہے، پولیس زمین پر قبضے کے کسی بھی مقدمے میں بروہی کو پھنسانے میں ناکام رہی تھی، اس لیے انہوں نے اسے "منشیات کے مقدمات میں جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے انہیں گرفتار نہ کرنے کے احکامات کے باوجود پولیس نے انہیں لانڈھی جیل، ضلع ملیر سے اٹھایا تھا اور وہ 17 جنوری سے لاپتہ ہیں۔

علی حسن بروہی اور پی ڈی ایم

چھبیس اکتوبر دو ہزار بیس کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے عوامی اجتماع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو بلوچی چادر تحفے میں دینے والا شخص مطلوب مجرم نکلا“کے نام سے بھی علی حسن بروہی کی سرخیاں سامنے آئیں تھیں ۔علی حسن بروہی کا شمار سندھ کے سب سے بڑے لینڈ گریبرز میں ہوتا ہے، جنہوں نے کراچی کے ضلع غربی کی 3 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ اسے ایک بار سہراب گوٹھ تھانے کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا اور اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا تھا۔

علی حسن بروہی اکثر سندھ کے مختلف وزراءکے ساتھ تصاویر میں نظر آتے ہیں۔ انہیں سندھ کے وزرا کے فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اینٹی انکروچمنٹ زون-I میں 20 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے پر ان کے خلاف گزشتہ ماہ ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ محکمہ انسداد تجاوزات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اربوں روپے مالیت کی 3000 ایکڑ سے زائد اراضی اس نے ہڑپ کی۔ اس پر پولیس پر فائرنگ کرنے کا بھی الزام ہے۔ وہ اتنا بااثر آدمی ہے کہ پولیس عموماً اس کے خلاف آپریشن کرنے سے گریز کرتی ہے۔

مزید پڑھیں : بورڈ آف ریونیو میں سب لیز پر بھی بھاری کمیشن وصولی کا دھندہ عروج پر

علی حسن بروہی گزشتہ دو تین ماہ سے کراچی میں نہیں آئے اور وہ بدستور کوئٹہ میں ہیں ، اس دوران وہ دبئی بھی نہیں گئے ہیں ، جب کہ کراچی میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی میں آئے جہاں اس کی نظر پیپلزپارٹی کے دیگر رہنماﺅں پر پڑی اور وہیں سے شادی میں دیر تک بیٹھنے اور لوگوں سے ملنے کے بجائے نکل لئے تھے جس کے بعد دوبارہ کراچی نہیں آئے ہیں ۔

ادھر پیپلز پارٹی کے ذرائع دعوی کرتے ہیں کی علی حسن بروہی کے معاملات سندھ اور بلوچستان تک قبضوں کے حوالے سے پھیل چکے تھے جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے بعد رہنماﺅں نے علی حسن بروہی کے حوالے سے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد علی حسن بروہی کراچی سے ٹھٹھہ تک کے معاملات تک محدود کر دیئے تھے جن کی مرضی سے کراچی سے ٹھٹھہ تک مختیار کار ، سب رجسٹرار اور افسران کی تعیناتیاں ہوتی تھیں جب کہ سندھ سیکرٹریٹ میں ٹھیکوں کا سسٹم علی حسن بروہی کی جگہ اے جی مجید کے حوالے تھا جو آصف علی زرداری کا سسٹم چلا تے ہیں ۔