کریم آباد EOBI ریجنل آفس افسران کی کمائی کا ذریعہ بن گیا

کراچی : ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن EOBI کا ریجنل آفس کریم آباد کراچی مبینہ کرپٹ افسران اور ریجنل ہیڈ مبشر رسول کی سربراہی میں نوٹس بھیج کر کمائی کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے ۔

افسران علاقہ کے چھوٹے تاجروں ، کاروباری تجارتی اداروں اور تعلیمی اداروں کے مالکان کو EOBI میں رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولی کے بھاری رقوم کے ڈیمانڈ نوٹسز جاری کر کے مالکان کی EOBI کے قانون سے ناواقفیت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری جرمانوں اور ان کے ادارہ کو Attach کرنے اور سزاؤں سے ڈرا دھمکا کر بھتہ خوری اور رشوت ستانی کرتے ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ 2007ء میں وفاقی کوٹہ کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے EOBI میں بھرتی ہونے والا افسر مبشر رسول ڈپٹی ڈائریکٹر ایک عادی بدعنوان افسر ہے ، جس کے خلاف دو سال قبل فیصل آباد میں ریجنل ہیڈ کی حیثیت سے ایک بڑی انڈسٹری سے جوڑ توڑ کے ذریعہ بھاری رشوت خوری کی شکایت پر اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے اسپیشل اسسٹنٹ زلفی بخاری کی ہدایت پر ہٹایا گیا تھا اور سزا کے طور پر اس کا ٹرانسفر ایچ آر ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی کر دیا گیا تھا ۔

مذید پڑھیں : اعلی سیاسی شخصیت کے فرنٹ مین علی حسن بروہی کیخلاف منی لانڈرنگ کی ایک اور انکوائری شروع

لیکن ای او بی آئی کے بعض اعلیٰ افسران نے مبشر رسول سے ایک بھاری رقم اور ہیڈ آفس کے نزدیک اپنے کرائے کے مکان کا سالانہ کرایہ برداشت کرنے اور ایک نئی موٹر سائیکل دلانے کا وعدہ لے کر اس کے خلاف انکوائری کرنے کے بجائے اسے وقتی طور پر سائیڈ لائن کر دیا تھا اور پھر موقع ملتے ہی اسے ایک بار پھر فیلڈ آپریشنز میں ٹرانسفر کر دیا گیا تھا ۔

بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں مبشر رسول کو ریجنل ہیڈ بن قاسم کراچی پھر ریجنل ہیڈ کوٹری اور بعد ازاں ای او بی آئی میں سونے کی چڑیا سمجھے جانے والے ریجنل آفس کریم آباد مین ریجنل ہیڈ کے منفعت بخش عہدہ پر تعینات کیا گیا ہے ۔ جہاں وہ بلا کسی روک ٹوک حسب معمول اپنے اختیارات کے غلط استعمال اور بھاری کرپشن اور بھتہ خوری میں ملوث ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریجنل آفس کریم آباد کی حدود لیاقت آباد ڈاک خانہ سے لے کر نوری آباد کے وسیع صنعتی علاقے کے تک پھیلی ہوئی ہے ۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے کاروباری تجارتی ادارے، کارخانے اور بڑے بڑے صنعتی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے ۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ EOBI کے ملک بھر میں قائم ریجنل آفسوں میں ادارہ کے اعلیٰ افسران اور فیلڈ آپریشنز کے افسران کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے ۔ ڈی ڈی جی B&C عوامی مرکز اور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ہیڈ آفس کراچی کی جانب سے بیٹ افسران سے ماہانہ بھاری کمیشن کے عوض اور منہ مانگی بھاری رقم لے کر انہیں ان کی پسندیدہ بیٹ الاٹ کی جاتی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ان منظور نظر بیٹ افسران کو بھتہ خوری کی کھلی آزادی مل جاتی ہے ۔

مذید پڑھیں : ای او بی آئی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ

کراچی کے سات ، سندھ کے چار اور بلوچستان کے دونوں ریجنل آفسوں میں ڈی ڈی جی B&C عوامی مرکز اور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ہیڈ آفس کے نام پر بڑے بڑے ایمپلائیرز کی فائلیں بخش دی جاتی ہیں جن کا بھتہ ان دونوں افسران کو باقاعدگی سے ادا کیا جاتا ہے ۔ ذرا سی بھی چوں چراں کرنے والے بیٹ افسران کو فوراً کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے ۔ای او بی آئی فیلڈ آپریشنز کے فیلڈ افسران کی جانب سے آجران اور مالکان سے ڈرا دھمکا کر کی گئی بھتہ خوری اور رشوت ستانی کے ذریعہ کمائے ہوئے مال کا حصہ بیٹ افسر سے ڈپٹی ریجنل ہیڈ، ریجنل ہیڈ اور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ہیڈ آفس اور ڈی ڈی جی B&C نیچے سے لے کر اوپر تک حصہ بقدر جثہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔

اس وقت کراچی شہر میں کافی عرصہ سے 2007 کے بیچ کے افسران ریجنل ہیڈ تعینات ہیں ۔ جو کراچی کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھتے ہیں اور انہیں کراچی اتنا راس آگیا ہے کہ وہ کسی صورت واپس جانے کو راضی نہیں ہیں ان میں بدنام زمانہ مبشر رسول ریجنل ہیڈ کریم آباد، بدنام زمانہ مزمل کامل ملک ریجنل ہیڈ ناظم آباد سر فہرست ہیں ۔

حال ہی میں بھتہ خوری اور رشوت ستانی سے تائب ہونے والے ایک بیٹ افسر کا کہنا ہے کہ ریجنل آفس میں ایک طویل عرصہ سے یہ بھی دستور چلا آرہا ہے کہ ریجنل آفسوں چیئرمین آفس اور B&C میں اعلیٰ اور کلیدی عہدوں پر فائز بعض بدعنوان افسران کے نام پر بڑے بڑے صنعتی اداروں کی بیٹ کی آمدنی ان کے نام پر مختص کر دی جاتی ہے ۔ جسے فیلڈ آپریشنز کی اصطلاح میں "فائل بخشنا” کہا جاتا ہے ۔ اس وقت کراچی کے سات ریجنل آفسوں کے علاوہ اندرون سندھ اور بلوچستان کے ریجنل آفسوں کے متعدد بڑے صنعتی یونٹس کی فائلیں ڈاکٹر جاوید شیخ DDG آپریشنز کو بخشی گئی ہیں ۔ جن کی ماہانہ آمدنی براہ راست ان کے کھاتوں میں چلی جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں : جامعہ کراچی سلیکشن بورڈ ایکشن کمیٹی کے وفد کی وائس چانسلر سے ملاقات

یوں تو ای او بی آئی فیلڈ آپریشنز کا ہر افسر ایک دوسرے سے بڑھ کر بڑا کھلاڑی ہے لیکن اس وقت کافی عرصہ سے ریجنل آفس کریم آباد میں درشن کمار نامی اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز کا طوطی بول رہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ درشن کمار ولد پرکاش چندر ایمپلائی نمبر 928701 15 دسمبر 2014 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے EOBI میں بھرتی ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ انتہائی بدعنوان اور بھتہ خور افسر درشن کمار اس سے قبل ریجنل آفس کورنگی ، ریجنل آفس کراچی سنٹرل، ریجنل آفس فیصل آباد اور ریجنل آفس حیدرآباد میں بھی فیلڈ آپریشنز میں اپنی بھتہ خوری کی کارستانیوں کے جوہر دکھا چکا ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ای او بی آئی کا انتہائی بااثر افسر درشن کمار اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز ریجنل آفس کریم آباد اپنے والد پرکاش چندر کے نام پر رجسٹرڈ کلٹس گاڑی BEM-412 پر گورنمنٹ آف پاکستان کی نمبر پلیٹ لگا کر غیر قانونی طور پر فیلڈ آپریشنز میں استعمال کرتا رہا ہے اور حال ہی میں اس نے ایک نئی گاڑی بھی خرید لی ہے اور اب یہی سرکاری نمبر پلیٹ اس گاڑی پر لگا کر استعمال کرنے میں مصروف ہے ۔ لیکن ای او بی آئی کے قانون سے بالاتر افسران سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ۔

مزید پڑھیں : وفاقی جامعہ اردو کے سابق وائس چانسلر کیخلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب EOBI جس کے قیام کا بنیادی مقصد کارکنوں کو ان کے بڑھاپے میں پنشن فراہم کرنا ہے لیکن ان سفارشی اور کرپٹ افسران نے اس فلاحی ادارہ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ ریجنل آفسوں اپنی پنشن کے لئے رجوع کرنے والے ریٹائرڈ بزرگ ملازمین اور بیواؤں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے ۔ ای او بی آئی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے قائم کمپیوٹر سسٹم کے باوجود بزرگوں سے غیر ضروری دستاویزات جن میں تصدیق شدہ ملازمتی ریکارڈ ، حلف نامے، اقرار نامے، نکاح نامے، FRC، تھانہ کی FIR وغیرہ طلب کی جاتی ہیں اور درجنوں بار چکر لگوائے جاتے ہیں ۔ ان کی ملازمتوں کی ویری فکیشن میں جان بوجھ کر غیر معمولی تاخیر کی جاتی ہے اور انہیں ان کی جائز پنشن کے لئے بار بار چکر لگوا کر انہیں خون کے آنسوؤں سے رلایا جاتا ہے لیکن اس مظلوم طبقہ کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ۔

ای او بی آئی کے بزرگوں اور بیواؤں کو درپیش ان سنگین مسائل سے بالکل لاتعلق ہوکر لاکھوں روپے کی تنخواہوں اور پر کشش مراعات سے لطف اندوز ہونے والی ادارہ کی چیئرپرسن، ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل،ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ افسران ہیڈ آفس میں ڈی جی B&C عوامی مرکز میں اور ریجنل ہیڈ اپنے ٹھنڈے کمروں میں نہایت مزے سے بیٹھے زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔